بس اس آس پہ عمر گزاری اب کچھ ہوگا،اب کچھ ہو گا

(M H Babar, )

بہت سوچا تھا کہ میری پاک دھرتی کے نصیب میں بھی ایک خوش آئیند تبدیلی آئیگی ہر طرف رشوت اور سفارش کا جو بازار گرم ہے وہ جڑ سے اکھڑ جائیگا اور عوام بڑی آسودہ اور خوشحال ہو جائیگی مگر تاحال تو ایسا کچھ نہ ہو سکانہ ہی رشوت کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالی جا سکی اور نہ ہی سفارش کلچر کا خاتمہ بالخیر ہو سکا اور نہ ہی من مانیاں اپنے انجام کو پہنچ سکیں ۔تو قارئین میں ابھی کل کی بات آپ کے گوش گزار کرتا ہوں کے میں اور میرا دوست عرفان صفدر بلدیہ شیخوپورہ آفس ایک کام سے گئے وہاں جو حالات دیکھے وہ دیکھ کر میں تو سر پیٹ کے رہ گیا ہوا کچھ یوں کہ عرفان بھائی کو کمپیوٹر رائزڈ نکاح نامے کی ڈپلیکیٹ کاپی لینی تھی جو کہ ان کی ہمشیرہ کی تھی کیونکہ چند دن پہلے انہوں نے میرج سرٹفیکیٹ لیا تھا جو کہ کہیں گم ہو گیا لہٰذا جب ہم لوگ بلدیہ شیخوپورہ کے متعلقہ آفس گئے تو معلوم ہوا کہ متعلقہ یونین کونسل والا کمپیوٹر خراب ہے اور اسی میں تمام ڈیٹا ہے اور یہ کمپیوٹر گزشتہ آٹھ دن سے خراب پڑا ہوا ہے اور مزید دس دن اسکو بننے میں لگ سکتے ہیں لہٰذا مزید دس دن انتظار کریں تو پھر آپ کو ڈپلیکیٹ مل سکتا ہے جبکہ ہمیں فوری چاہئے تھا ہم تو سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا ہوگا سو ہم اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے جب ہم واپس آرہے تھے تو ایک ملازم نے ہم سے کہا کہ سر آپ ایسا کریں اپنا اصل نکاح نامہ جو مینول ہے وہ لے کر کل آئیں اور نئے سرے سے فارم بھر کر اور تصدیق کروانے کے بعد دے دیں تو آپ کو کسی دوسرے سسٹم (کمپیوٹر ) سے میرج سرٹفیکیٹ بنا کر دے دیں گے آپ ڈپلیکیٹ والے چکر میں پڑیں گے تو واقعی آپ کے دس بارہ دن لگ جائیں گے سو مرتے کیا نا کرتے اگلے دن ہم نے دوبارہ فارم بھر کر نئے سرے سے درخواست دی جس پر نئے سرے سے تصدیقی ٹھپی لگوانے کے نام پر دو سو روپے وصول کر لئے گئے میرے استفسار پر کہ یہ دو سو روپے کس بات کے بھائی تو متعلقہ ملازم بولا کہ جناب یہ چئیرمین صاحب کا حکم ہے کہ ریکارڈ میں نکاح نامہ دیکھ کر پھر تصدیق کرنے کی فیس مبلغ دو سو روپے لازمی لئے جائیں اور یہ آپ کو دینے ہی ہونگے اس کے بغیر تصدیق نہیں کی جائیگی سو چاروناچار وہ جگا ٹیکس ادا کر کے پھر ہم کمپیوٹر آپریٹر کی طرف آئے تو معلوم ہوا کہ بجلی صبح سے بند ہے اور شام کو آئیگی اس وجہ سے آپ کل تشریف لائیں پھر آپ کو میرج سرٹفیکیٹ جاری کر دیا جائیگا ۔میں نے ایک ملازم سے پوچھا کہ اتنی بڑی بلدیہ ہے جس میں روزانہ سینکڑوں لوگ آتے ہیں یہاں جنریٹر کا انتظام کیوں نہیں ؟وہ ملازم بولا کہ سر جنریٹر تو تھا مگر اس جنریٹر کو صرف چئیر مین آفس کو بجلی سپلائی کی جاتی ہے باقی تمام سسٹم کو نہیں باقی سارا ادارہ بجلی کے بغیر ہی چلتا ہے صرف واپڈا کی سپلائی سے ادارہ چلتا ہے اور جنریٹر سے نہیں ۔ یہ میرے لئے ایک اور دھچکا تھا کہ جس چیئرمین کو شہر کی عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لئے چنا تھا تا کہ انکے مسئلے فوری حل ہو سکیں وہ سرکاری جنریٹر تک تو عوامی کام کے لئے نہ دے سکا ماسوائے اس کے کہ یہ جنریٹر اسکے دفتر کو تو روشن رکھے مگر عوام کے کام جائیں بھاڑ میں عوام خجل ہوتی ہے تو ہوتی رہے چیئرمین صاحب کی بلا سے انکے دفتر کے تو قمقمے روشن ہیں نا !وہاں سے نکل کر ہم ضلع کچہری آگئے کوئی تین سوا تین بجے کے قریب بجلی کے آنے پر ہم دوبارہ بلدیہ چلے گئے جہاں سے وہ میرج سرٹفیکیٹ بنوایا جس کے کمپیوٹر آپریٹر نے پھر سو روپے طلب کر لئے پوچھنے پر علم ہوا کہ یہ نادرا کی فارم فیس ہے سو وہ بھی دے دی اسی اثناء میں میرے ایک اور جاننے والے جو بیٹی کا نام پیدائش اندراج کے لئے وہاں آگئے انہیں بھی سو روپیہ دیتے ہی بنی انہوں نے شور مچایا کہ بھائی باہر بورڈ پر تو لکھا ہوا ہے کہ فوری اندراج پیدائش اور اموات کی کوئی فیس نہ ہے بلکہ بالکل فری ہے تو ملازمین نے اسے بتایا کہ ہاں اس میں بلدیہ کی کوئی فیس نہیں یہ تو نادرا کی فیس سو روپے ہے جو لازمی ادا کرنی پڑتی ہے تو وہ کہنے لگا کہ پھر وہ فری والا بورڈ ہی وہاں سے ہٹوا دیں تا کہ کوئی شہری اس خوش فہمی میں تو نہ رہے کہ بغیر کسی فیس کے اس کا اندراج ہو گا کیونکہ اس بورڈ پر بھی منجانب چیئرمین ہی لکھا ہوا ہے اور جو پینا فلیکس دیوار پر آویزاں کی گئی ہے جس پر نادرا فارم فیس سو روپے لکھا ہے وہ بھی منجانب چیئرمین ہی ہے کم از کم دو میں سے ایک بورڈ تو ہٹا دیں یہ جھانسے کا جال عوام کو الجھن میں ڈال رہا ہے ۔اسکے بعد میں نے ایک سوال کیا کہ بھائی جس یونین کونسل کے ریکارڈ کا حامل کمپیوٹر خراب ہے اسے ٹھیک کیوں نہیں کرواتے کیونکہ اس یونین کونسل (اب وارڈ ) کے رہائشی جن کا سارا ریکارڈ اسی سسٹم میں ہے وہاں کے پیدائش،اموات اور میرج سرٹفیکیٹ بنوانے میں لوگوں کو کتنی اذیت اٹھانی پڑتی ہے آپ کو اس کا بھی کچھ احساس ہے یا نہیں ؟تو وہ کہنے لگا کہ سر جی یہ سسٹم نادرا والوں نے ٹھیک کروانا ہے جب وہ ٹھیک کروا کے دیں گے تو پھر ہی کام ہونا ممکن ہوگا اب آپ ذرا نادرا والوں کا ہی اندازہ لگا لیں کہ وہ ایک سسٹم کے لئے صرف پچاس فارم دیتے ہیں اگر اس سے زائد لوگ ہوں تو انکا کام بھی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے لوگ رلتے ہیں تو رلتے رہیں انکو لوگوں کے مسائل سے کیا،کمپیوٹر گزشتہ اٹھارہ دن سے خراب ہے تو پڑا رہے انکو عوام کی مشکلات سے کیا مطلب !واہ جی واہ کیا بات ہے میرے عوامی نمائیندوں کی اور عوام کے ووٹوں سے بننے والے عوامی اداروں کی ، کیا عوام نے انکو اس لئے چنا تھا کہ یہ صرف ریکارڈ رجسٹر دیکھ کر ٹھپی لگائیں اور دو سو روپے اینٹھ لیں ؟یا اس لئے چنا تھا کہ جنریٹر تو ہو عوامی ادارے کا اور اس کا فائدہ ہو صرف عزت مآب چیئرمین بلدیہ کو باقی سارا دن سارا ادارہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے مکھیاں مارتا رہے اور عوام بیچاری ٹکریں مارتی رہے یا اگلے دن کا انتظار کرتی رہے کہ بجلی آئے گی ،سسٹم چلیں گے پھر ہمارا کام بھی ہو سکے گا ؟کیا کوئی پرسان حال ہے عوام کا اس ذلت سے بچاؤ کرنے میں یا وہی پرانی ریت ہی چلتی رہے گی کہ عوام کا فرض ہے ووٹ دینا اور پھر طرح طرح کی ذلالت کا سامنا کرنا ؟بلدیہ شیخوپورہ کے عزت مآب چیئرمین جو قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن کے چیئرمین میاں جاوید لطیف کے چھوٹے بھائی بھی ہیں وہی میاں جاوید لطیف جن کو انکے شہر نے مسلسل تین بار اپنا ایم این اے چنا جن کی خدمات شیخوپورہ کے لئے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،جنہوں نے اپنے شہر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا ،مسلسل تین بار منتخب ہونا ان سے شہر کی عوام کی والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر انہی کے برادر خورد جو چیئرمین بلدیہ شیخوپورہ ہیں اگر وہ عوام کی مشکلات کم کرنے کی بجائے عوام کی مشکلات کو بڑھانے کا باعث بنیں یہ بات میری سمجھ سے تو کم از کم بالاتر ہے کیونکہ انکی ناک کے نیچے صرف نکاح نامہ کی تصدیق کا دو سو روپے وصول کیا جائے اور انکو علم نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ؟رکشہ والوں سے ہر چوک میں بیس روپیہ جگا وصول کیا جائے مگر اس سے چیئرمین لا علم ہوں ایسا ہو ہی نہیں سکتا اور ان بیس روپوں کی جو رسیدی پرچی دی جاتی ہے اس پر واضح پارکنگ فیس درج ہو جبکہ پارکنگ کسی ایک جگہ رکشہ پارک کرنے پر وصول کی جاتی ہے نا کہ سارے شہر کے جس مرضی چوک میں جہاں دل چاہے سڑک پر رکشہ روکا اور بیس روپے وصول کر لئے یہ بات کچھ جچتی نہیں مزید یہ کہ بیس روپے نہ دینے والونکو اکثر وبیشتر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے یہ کہاں کی عوامی خدمت ہے تو جناب چیئرمین صاحب آپ کو عوام نے منتخب کیا عوامی خدمت کے لئے نا کہ عوامی ذلت کے لئے ؟ آپ کو عوام نے چنا اپنی مشکلات کی آسانی کے لئے ناکہ اس لئے کہ جنریٹر اپنے دفتر کے لئے وقف کر لیں اور عوام کے کام کھٹائی میں پڑے رہنے کے لئے ؟اسی طرح میری حکام بالا سے بھی درخواست ہے کہ تبدیلی صرف نعرے لگانے سے نہیں آتی بلکہ عملی طور پر بھی کچھ کرنا پڑتا ہے بقول شاعر
تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا ،میں کہتا ہوں کب کچھ ہوگا
بس اس آس پہ عمر گزاری ،اب کچھ ہو گا اب کچھ ہو گا
 
وزیر بلدیات پنجاب ،سیکریٹری بلدیات پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور بالخصوص فرزند شیخوپورہ میاں جاوید لطیف سے میری گزارش ہے کہ بلدیہ شیخوپورہ اور اس کے متعلقہ امور پر بھی ایک نظر ضرور دیکھیں اور عوامی فلاح کو اولیت دیں بے جا کے بھتوں سے عوام کو محفوظ کر کے اپنی بقا کی بنیاد رکھ دیں تب ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہے خالی خولی نعروں سے نہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 259 Print Article Print
About the Author: M H Babar

Read More Articles by M H Babar: 41 Articles with 10755 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: