وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

(Ayesha Tariq, )

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کائنات میں رنگ عورتوں کے ہی دم سے ہیں۔ اس دنیا میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا کردار بھی دنیا کی تعمیر وترقی میں نمایاں اور اہم رہا ہے۔

اگر اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں ایک بات دیکھنے کو ملے گی کہ عورتیں ہمیشہ مردوں کے ساتھ ساتھ رہیں ہیں۔ چاہئے تجارت ہو یا چاہئے جنگ کا میدان ہو۔ حضرت خدیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی آپ سے نکاح کرنے سے پہلے تجارت کیا کرتی تھی۔ تجارت (trade) کو خالص مردوں کا پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو اس وقت آپ کو حوصلہ دینے والی، آپ کا ساتھ دینے والی بھی ایک عورت ہی تھی۔ اب حضرت عائشہ کی بات کی جائے تو یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ بھی رسول اللہ کے ہر فیصلے میں ان کا ساتھ دیتی تھی۔ ہر کام میں ساتھ ہوتی تھی۔ اس دور میں عورتیں جنگوں میں بھی ساتھ جایا کرتی تھی۔ بے شک لڑا نہیں کرتی تھی۔ مگر جنگ میں زخمی لوگوں کو طبی امداد فراہم کیا کرتی تھی۔ اسلامی تاریخ کے ورق پلٹیں جائے تو آپ کو بہت سی عورتوں کا تاریخ میں نمایاں کردار نظر آئے گا۔

یہ سب پڑھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ آخر عورتوں کا عالمی دن منانے کی نوبت ہی کیوں آئی۔ شاید اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں وجہ عورتوں کے اوپر آنے کی، supperial power حاصل کرنے کی کوشش بھی تھی۔ اور پھر یہاں سے ساری تباہی کا آغاز ہو۔ پھر مرد اور عورت کے درمیان power کی جنگ شروع ہوگئی اور اس کی وجہ سے آج تک تباہی ہو رہی ہے۔ کچھ قانون اللہ تعالیٰ نے بنائے ہوئے ہیں، اور کچھ انسان بتاتا ہے۔ مگر مرد کو supperial power پر رکھنے کا قانون اللہ کا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی کام بے وجہ نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی نہ کوئی logic ضرور ہوتا ہے۔ آپ لوگ ہرگز یہ نہ سمجھے کہ مردوں کی favour کر رہی ہوں۔ میں تو law of nature کی بات کر رہی ہوں۔
آپ تاریخ کھول کے دیکھ لے۔ آپ کو ایک چیز نظر آئے گی یہ جتنے بھی بڑے عہدوں پر مرد موجود تھے یا ہیں، ان سب کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا directly یا indirectly ہاتھ ضرور ہے۔ وہ عورت کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ کسی کی ماں، کسی کی بہن، کسی کی بیٹی، اور کسی کی بیوی۔۔۔ ادھر میں تاریخ سے کچھ واقعات بیان کرنا چاہتی ہوں۔ محمد بن قاسم کے سندھ فتح کرنے کے پیچھے ان کی ماں کا کردار سب سے اہم اور نمایاں ہے۔ وہ گھر گھر جا کر لوگوں کو اکٹھا کرتی رہی تھی۔ چلے زیادہ دور نہیں جاتے قائد اعظم محمد علی جناح کی مثال ہی لے لیجئے۔ ان کی بہن فاطمہ اگر ان کے ساتھ نہ ہوتی تو شاید قائد اعظم کب کے ہمت ہار چکے ہوتے۔ مگر ان کی ہمت بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ ان کی بہن ہمیشہ رہیں۔ تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بڑی پڑی ہے۔

آج عورتیں چاند تک بھی پہنچ چکی ہیں، دنیا کا کوئی میدان ایسا نہیں جس میں عورتوں نے نمایاں کردار ادا نہ کیا ہو۔ اور کوئی کام ایسا نہیں جو عورتیں نہ کر سکتی ہو۔ مگر ضروری نہیں کہ جو عورت supperial power پر نہیں آتی، اپنی فتوحات کو نمایاں نہیں کرتی تو وہ کامیاب نہیں ہے۔
"supperial اور prominent ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے"۔۔۔۔
اس دنیا کی تعمیر وترقی میں مردوں کے برابر عورتوں کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ ایک بات تو ماننی پڑے گی۔۔
" عورتوں کے بغیر مرد کچھ نہیں اور مردوں کے بغیر عورت کچھ نہیں"

اس لئے دونوں ایک دوسرے کے مقابلے پر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے ساتھ حضرت حوا کو اس دنیا میں بھیجا تھا۔ کیونکہ اس دنیا کو چلنے کے لیے دونوں کی ضرورت برابر کی ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سب خوش رہیں، آباد رہیں۔ اللہ سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور ان کو تقسیم کرنے کا شرف بھی عطا فرمائے آمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 157 Print Article Print
About the Author: Ayesha Tariq

Read More Articles by Ayesha Tariq: 27 Articles with 7564 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: