مردود آپ کے قدموں میں

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

انتہائی گندی بھدی ناپختہ بچکانہ قسم کی لکھائی میں مضحکہ خیز گھٹیا بازاری قسم کے فقروں پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے بنی ٹھنی فیشن ایبل خوش باش خواتین سڑکوں پر اپنے باپ بھائی بیٹے اور شوہروں کی پول پٹیاں کھول رہی تھیں کہ وہ ان بیچاریوں سے کبھی موزہ ڈھونڈنے کا کہتے ہیں کبھی انہیں کھانا اور بستر گرم کرنے کا بولتے ہیں ۔

شکایات و مطالبات کے ساتھ فرمائشیں اور مشورے بھی ۔ دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود اپنی آنکھوں پر باندھ لو
پورے شو میں شاید سب سے زیادہ مزاحیہ اور احمقانہ بات یہی تھی ۔ ان کے مردوں کی آنکھوں پر تو پہلے ہی پٹی بندھی ہوئی ہے ، اب دوپٹہ باندھنے کی کیا ضرورت؟

ویسے بھی یہ دوپٹہ وغیرہ تو مڈل اور لوئر کلاس کی پھٹیچر ٹٹ پونجی عورتوں کا مسئلہ ہے ۔ جو چاہے کھیتوں میں کام کر رہی ہوں یا فصلوں کی کٹائی چُنائی کر رہی ہوں یا کنوئیں چشمے سے پانی بھر کر لا رہی ہوں ، لکڑیاں کاٹ رہی ہوں مویشی چرا رہی ہوں یا تنور پر روٹیاں لگا رہی ہوں جھاڑو پونچھا کر رہی ہوں یا برتن مانجھ رہی ہوں ، تھر کے ریگزاروں میں لوہا کوٹ رہی ہوں یا اینٹیں ڈھو رہی ہوں چاہے جانوروں کے گوبر سے اُپلے تھاپ رہی ہوں ، دوپٹہ ان کمبخت ماریوں کے سر پر ہی ہوتا ہے مجال ہے جو سر سے سرک جائے ۔ ان پڑھ جو ٹھہریں ۔

مگر ان پڑھی لکھی خود مختار خوشحال عورتوں کو دوپٹہ پسند نہیں ہے ۔ ان کی کیا بات ہے انہیں تو شلوار بھی پسند نہیں ہے ۔ اسی لئے وہ اتار کر ٹائیٹس اور لیگ ان کے نام پر جو غلاف اپنی ٹانگوں پر چڑھاتی ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے بالکل ان کے مردوں کی غیرت کی طرح ۔ اپنی عورتیں ڈنگروں کی طرح سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں پھر بھی ان کا رونا ختم نہیں ہوتا پھر بھی انہیں لگتا ہے کہ ہم قید میں ہیں مرد نے ہمیں غلام بنا رکھا ہے ۔

اپنے حقوق کا رونا رونے والی ایلیٹ اور اپر کلاس کی ان آسودہ حال مغرب زدہ عورتوں میں کتنی ہی ایسی ہوں گی جو خود اپنے گھر میں کام کرنے والی غریب ضرورتمند مصیبت زدہ عورتوں کو اپنے کتے کے برابر بھی نہیں سمجھتیں ۔ معصوم کمسن ملازماؤں کے ساتھ زر خرید غلاموں سے بھی بدتر سلوک کرتی ہیں ایسی ایسی بدمعاش عورتیں ہیں جنہوں نے ان بچیوں کو ذرا ذرا سی باتوں خطاؤں پر لرزہ خیز سزائیں دیں حتیٰ کہ ان کی جانیں بھی لے لیں ۔ جو خود اس قدر سفاکیت شقاوت اور انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہوں وہ کس منہ سے اپنی حق تلفی کا گلہ کرتی ہیں ۔

آٹھ مارچ کو جو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس کے پس منظر سے کون واقف نہیں ہے؟ کون عورتیں تھیں وہ جن کی جدوجہد کے نتیجے میں ان کے جائز مطالبات اور حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ دن ان کے نام کیا گیا ۔ محنت کش غریب ، استحصال کا شکار اور معاش کی چکی میں پستی کچلتی ہوئی جفا کش عورتیں ۔ لیکن پار سال اور امسال جو نام نہاد اشرافیہ سڑکوں پر بےلگام دندنا رہی تھی بھرے بازار میں اپنی مرضی کے نام پر خود اپنی قیمت لگا رہی تھی صحیح سے بیٹھ کر دکھا رہی تھی اپنی موٹر میکینیکی پر اِترا رہی تھی کیا وہ واقعی ملک بھر کی نوے فیصد سے بھی زیادہ تباہ حال مصیبت زدہ مظلوم و مقہور ، اپنے جاہل نکھٹو نشئی ہڈ حرام شوہروں کی مار پیٹ کا نشانہ بننے والی ، حرام کی دولت پر پلنے والے شتر بےمہار بھیڑیوں سانڈوں کی ہوس اور جاہلانہ رسوم ورواج کی بھینٹ چڑھنے والی مجبور و بےبس عورتوں کی نمائندگی کر رہی تھی؟

ان پیٹ بھری منہ زور مہیلاؤں کا مسئلہ یہی ہے کہ انہیں آزادی مغرب والی چاہیئے اور حقوق مذہب والے ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو یہ سب انہیں پہلے سے کسی نہ کسی شکل میں ملا ہؤا ہی ہے ان کے ٹھاٹ باٹ رنگ ڈھنگ من مانیاں اس کا ثبوت ہیں ۔ اور ایسی ہر عورت کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں کسی نہ کسی مرد کی مالی معاونت شامل ہوتی ہے جڑیں کسی نہ کسی رشتے سے جڑی ہوتی ہیں پیدا ہوتے ہی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں ۔ مگر ان کو لگتا ہے کہ مرد ان کی آزادی سلب کر رہا ہے یہ خود اپنے فرض پورے کرنے کے لئے تیار نہیں وہ انہیں غلامی معلوم ہوتی ہے مگر چاہتی ہیں کہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتی ہیں کہ مرد ان کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو جائے ۔ اس قماش کی عورتوں کے مردوں کے ایسے نصیب کہاں کہ وہ انہیں اپنے پیر کی جوتی بنا کر رکھ سکیں یہ خود ان کے جوتے کی نوک پر ہوتے ہیں اگر نہ ہوتے تو حقوقِ نسواں کے نام پر کسی اصلاحی تعمیری تحریک کی بجائے بیہودگی بےحیائی فحش کلامی کا ناٹک بھی نہ رچایا جاتا ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3294 Print Article Print
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 108 Articles with 730038 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: