حقوق نسواں کے نام پرسنگین مذاق

(Umar Farooq, )

موجودہ حکومت کے برسراقتدارآنے کے بعد مسلسل ملک کی نظریاتی سرحدوں پرحملے کیے جارہے ہیں ملک کانظریاتی تشخص ختم کرنے کے لیے کچھ قوتیں اورافرادباقاعدہ متحرک ہوچکے ہیں ،اقتصادی کونسل میں میاں عاطف کی تقرری اورفراغت کے بعد قادیانی نہایت زوروشورسے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ،انہی حالات کافائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی ترجمان سلیم الدین نے بے سروپا دعوی کیاہے کہ '' 1974 میں قادیانیوں کو بائی فورس غیر مسلم ڈیکلیئر کیا گیا تھا ،اس کے ساتھ ساتھ یہودی لابی بھی سرگرم ہوچکی ہے اوران کے ایجنٹوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیاہے کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرلینے چاہیے ،این جی اومافیااورسیکولرمافیابھی حدسے بڑھ چکاہے ،عجیب بات یہ ہے کہ ریاست مدینہ کی دعویدارحکومت ان سرگرمیوں پرکوئی قدغن نہیں لگارہی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ چند مذہبی شخصیات بھی اب پیچھے ہٹ رہی ہیں جنھوں نے ابتداء میں حکومت کی حمایت کی تھی البتہ چندایک ،،ریلوکٹے،،ابھی تک حکومت اوراس کے عہدے حاصل کرکے اپنی کامیابی گردان رہے ہیں مگر اب حالت تویہ ہوچکی ہے کہ اقلیتوں کی توہین پرایک وزیرکوتوفارغ کردیاجاتاہے مگراﷲ اوراس کے رسول کی توہین پرکوئی کاروائی نہیں کی جاتی ،مدارس توسیل کیے جارہے ہیں مگردوسری طرف سینماگھرکھولے جارہے ہیں ،گستاخ رسول کوتورہاکیاجارہاہے مگرعاشقان رسول پرناجائزمقدمات قائم کرکے پابندسلاسل کیاجارہاہے ۔

اب تازہ واردات یہ ہوئی ہے کہ مومی بتی مافیااورمادرپدرآزادکچھ بیبیوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع اسلام آباد میں مظاہرہ کیا اوراس مظاہرے میں کھلم کھلااسلامی احکامات کامذاق اڑایا اورملک کی نظریاتی تہذیب وثقافت پرحملہ کیاروشن خیالی کے نام پرایسے بے ہودگی کی گئی کہ اونچے محلوں میں رہنے والوں نے بھی آنکھیں جھکالیں ،آوارہ (کیوں کہ بعض نے خود پوسٹرلکھا ہواتھا کہ ،،میں آوارہ ،،)عورتوں ایسی دھمال مچائی کہ جیسے آج انہیں پہلی مرتبہ انہیں آزادی وخوشی نصیب ہوئی ہے ،بقول اکبرالہ آبادی
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا

اس مظاہرے میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں جوکتبے اورپوسٹرزپرایسے نعرے اورمطالبے درج تھے کہ انہیں ضبط تحریرمیں لانابھی ممکن نہیں البتہ سوشل میڈیایہ پوسٹیں کافی وائرل ہورہی ہیں ،کتبوں پرلکھے ہوئے جملوں سے لگ رہاتھاکہ ان کے ہاں آوارگی کانام آزادی ہے ،عورت مارچ کا سارا محور کچن ، شادی اور امور خانہ داری تھی۔ عورت مارچ میں موجود کتبوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ بیٹھنے کی پوزیشن اور موزہ کی تلاش کو قرار دیا۔ کھانا بنانے سے لے کر کھانا گرم کرنا بھی عورت مارچ کے شرکاکی نظر میں ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ مزید برآں عورت کے حوالے سے مختلف قسم کے معنی خیز جملے بھی مارچ کے شرکاکی نظر میں مسئلہ تھے۔کسی خاتون کے نزدیک سب سے بڑامسئلہ بچے پیداکرنے تھے توکسی کے نزدیک یہ فخرسے بتایاجارہاتھا کہ وہ خود گاڑی کاٹائربدل سکتی ہے غرضیکہ خواتین ڈے پر چند شیشہ نوش، اور آئس نشے کی شکار،نام نہاد شخصی آزادی کی علم بردار خواتین کے بیہودہ پلے کارڈز، سماج کی اخلاقی گراوٹ کا آئینہ دارتھے ۔عورت کی آزادی،اس کا احترام اور چیز ہے۔ لیکن جس طرح کے پلے کارڈز ان عورتوں نے اٹھائے ہوئے تھے ان میں آزادی کے بجائے "جنسی آزادی" اور ہوس کی آزادی کا مطالبہ زیادہ نظر آ رہا تھا۔ یہ کتبے حقوق نسواں کے ساتھ ایک مذاق تھے۔ عورت اپنے حق کیلئے اٹھے ، یہ ضروری ہے لیکن اس کے لئے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ ٹھیک ہے تم جیسے مرضی بیٹھو، جیسے مرضی رہو، کھانا گرم کرو یا ٹھنڈا ہی کھانے دو، لیکن اپنی ترجیحات تو بدلو۔

آزادی نسوں کے نام پریہ چندخواتین اچانک منظرعام نہیں آئیں ان کے پیچھے ایک مضبوط لابی ،ایجنڈہ اورقوتیں متحرک ہیں ،آزادی نسواں کی اصطلاح کاباقاعدہ استعمال اٹھارویں صدی عیسوی میں ہوا جب یورپ کے فلاسفرز اور اہل علم نے فرد کے حقوق کیلئے معاشرہ کے خلاف آوازبلند کی اور شخصی آزادی کا نعرہ لگایا۔

تحریک حقوق نسواں کے تین ادوارہیں ۔پہلا دوروہ ہے جسے حقوق نسواں کی تحریک کا ابتدائی دور Early Women rights movement کہا جاتا ہے۔جو انقلاب فرانس کے بعد شروع ہوا۔دوسرا دور وہ ہے جسے خواتین کی سفریجی تحریک کا نام دیا جاتا ہے یہ 1890 تا 1925 کا دور ہے۔تیسرا دور جدید دور تحریک نسواں کا دور جدید کہلاتا ہے یہ دوربیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوا اور تاحال جاری ہے۔پہلے دو ادوار خواتین کے بنیادی حقوق کی جدوجہد سے متعلق تھے مگر تیسر ے دور میں جو کہ عصر حاضر تک آ پہنچتا ہے اس میں حقوق نسواں کی اس تحریک کو آزادی نسواں کی تحریک میں بدل دیا گیا۔اسکا منشور مردوں کے برابر حقوق کی بجائے مردوں سے اظہار نفرت تک جا پہنچا اس کا اندازہ ان عالمی کانفرنسز کے ایجنڈے سے لگایا جا سکتا ہے جو خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے نام پر منعقد کی گئیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1975 کے سال کو عالمی خواتین کا سال قرار دیا اور 1975 میں میکسیکو شہر میں خواتین کی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس کانفرنس میں 133ممالک کے وفود نے شرکت کی جن میں 113 وفود کی سربراہان خواتین تھیں اس حوالے سے دوسری کانفرنس کوپن ہیگن میں1980 میں منعقد ہوئی یہ بنیادی طور پر میکسیکو کانفرنس میں تیار کردہ عالمی لائحہ عمل کے جائزہ کیلئے منعقد کی گئی۔ جس میں تقریبا 145ممالک کے وفود نے شرکت کی۔اس کے بعدخواتین کانفرنس 1985 میں نیروبی میں منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں مختلف غیرسرکاری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 15000 افراد نے شرکت کی ۔بعدازاں اقوام متحدہ کے زیراہتمام 15ستمبر1995 کو بیجنگ میں خواتین کانفرنس منعقد کی گئی اس کانفرنس میں تقریبا 30000خواتین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں بنیادی تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ عورتوں کے مسائل سے توجہ ہٹا کر عورتوں اور مردوں میں مساوات کے نظریے پر توجہ مرکوز کی گئی نیز یہ بھی تسلیم کیا کہ معاشرے کے پورے ڈھانچے اور اس میں عورتوں اور مردوں کے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے کیونکہ تشکیل نو کے ذریعے ہی عورت کو مکمل اختیارات مل سکتے ہیں۔ اورپھرپانچ سال بعد نیویارک میں 5تا9جون 2000 میں منعقد کانفرنس منعقد کی گئی۔اس کانفرنس نے عورت کے حقوق کی جنگ کو مادرپدر آزادی میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اس کانفرنس کی درج ذیل سفارشات منظر عام پر آئیں:
خاتون خانہ کو گھریلو ذمہ داریوں اور تولیدی خدمات پر باقاعدہ معاوضہ دیا جائے۔
ازدواجی عصمت دری پر قانون سازی اور فیملی کورٹس کے ذریعے مردوں کو سزا دلوائی جائے۔
ممبر ممالک میں جنسی تعلیم پر زور دیا جائے۔
اسقاط حمل کو عورت کا حق قرار دیا جائے۔

یہ وہ تحریک ہے جس کی بنیادنئے پاکستان میں رکھی جارہی ہے ،آج آزادی نسواں کا نعرہ زبان زد عام ہے ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز مساوات مردو زن کا نعرہ لے کر عورت کو حقوق دلانے کے لئے مصروف عمل ہیں اگر ہم پاکستانی معاشرہ کو بھی دیکھیں تو جو تصویر مغربی میڈیا دکھاتا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والا ملک شاید عورت کو تحفظ اور مساویانہ حقوق دینے میں ناکام ہے اس سوچ کو بڑھاوا پھر ہمارے ملک میں رہنے والے ان لوگوں نے دیا جو اس ملک میں رہتے ہوئے بیرونی طاقتوں کے آلہ کا ر ہیں۔ہمیں ان اقدامات کاسدباب کرناہوگا اوران تحریکوں کاراستہ روکناہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کے حقوق کا جو تصور دیا اسکی نظیرآج عورت کے حقوق کے علمبردار مغرب کی تاریخ میں دور دور تک نہیں ملتی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 290 Print Article Print
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 13425 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: