ہم سب کا مان ہے حصہ دوم

(Tahira afzaal, Rawalpindi)

آج کے بچے محاورات کے مفہوم سے کیا آشنا ہونگے کہ گفتگو میں استعمال کر سکیں وہ تو سلیبس میں دیۓ گۓ محاورات کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ ان کے تلفظ کو نیست و نابود کرنے کے لیۓ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ جیسے یہ محاورہ ملاحظہ فرمایۓ ” بھنّور میں پھنس جانا“ اسے بچے بھ ۔ نور میں پھنس جانا پڑھتے ہیں ۔ یقیناً بھنّور لفظ اپنے اس تلفظ کو سن کر سوچتا ہوگا کہ چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرے یا ” اینٹ سے اینٹ بجانا“ محاورہ اپنا موجودہ تلفظ ای نٹ سے ای نٹ بجانا سن کر دیوار سے سر ٹکرانے کا ارادہ کرتا ہوگا۔ بزرگ یہ سب سن کر ہنسیں نہیں تو یا کریں کہ قصور میں برابر کے شریک جو ٹھرے ۔ قومی زبان لو گھر کی مرغی دال برابر سمجھ کر نسلِ نو کو انگریزی کے پیچھے لگا دیا ۔ مذکورہ شعر کے مفہوم سے یہ بچے کیسے آگاہ ہو سکتے ہیں ۔ مگس کس بلا کو کہتے ہیں اور پروانے کا خونِ ناحق کیا ہے ۔ اور اگر مفہوم سمجھا بھی دیا جاۓ کہ مگس شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جو باغ میں جا کر پھولوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہے اور شہد کے چھتے سے بعد میں موم بناکر موم بتی بنتی ہے جس ک جلنے پر پروانے یعنی پتنگے اس سے ٹکرا ٹکرا کر جان دے دیتے ہیں۔ تو بجاۓ شاعر کو داددینے کے شانِ بے نیازی سے کندھے اچکا کر یہ کہہ کر چلتے بنیں گے کہ ” اوہ یہشعر تو ۔ شایٸدایڈیسن کے بلب بنانے سے پہلے کا ہے اسی لیۓ سمجھ نہیں آیا ۔ یا یہ شعر تو ہماری کتاب میں ہے ہی نہیں جب پڑھا ہی نہیں تو سمجھ کیسے آۓ؟ باقی آیندہ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 253 Print Article Print
About the Author: Tahira afzaal

Read More Articles by Tahira afzaal: 15 Articles with 5283 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: