مہمان کا قتل کر کے سوپ بنا کر پینے والے آدم خور باپ بیٹے

انسان کی انسانیت باقی نہ رہی کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا ۔آج کل ہم انسانیت ختم ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آج ہمارا معاشرہ خرابیوں اور بدعنوانیوں کا مجموعہ بن چکا ہے ۔ لوگوں میں نفرت کی آگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ انتقام کی شکل میں معاشرے کے سامنے ابھر کر آتی ہے۔

انسانیت ختم ہونے کا بدترین ثبوت تو یوکرائن میں موجود آدم خور باپ بیٹے نے دیا ہے ۔ جنہوں نے انسانیت کا گلا گھوٹتے ہوئے اپنے ہی مہمان کو قتل کر کے اس کا سوپ بناکر پی لیا اور باقی گوشت فریج میں رکھ دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے ساتھی کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کرنے اور اس کا سوپ بناکر پینے کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ خبر رساں ادارے کے مطابق ملزمان اور مقتول کے درمیان کوئی تنازعہ تو نہیں تھا تاہم 41 سالہ ماکسم کوسٹیوکو کو دعوت پر مدعو کیا تھا۔

بیس سالہ ملزم یاروسلف نے پولیس کو بتایا کہ میں نے مقتول کو مضبوطی سے پکڑا اور والد نے جلدی سے اس کا گلا کاٹ دیا جس کے بعد تیز دھار آلے سے سابق پولیس افسر کے ٹکڑے کیے اور سوپ بناکر پیا اور باقی گوشت فریج میں محفوظ کردیا۔

گواہوں نے بتایا کہ آدم خور باپ بیٹے سابق پولیس افسر کی گمشدگی کے روز مقتول کے ساتھ تھے، پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مقتول پیٹروو کا سر ایک باکس سے برآمد ہوا جو بالکونی میں رکھا ہوا تھا۔ پرایسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے مقتول کی سربریدہ لاش کا اتنا برا حال کر دیا تھا کہ اسے پہچاننا مشکل تھا-

عدالت نے آدم خور باپ یٹے پر قتل کا الزام ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کردی ہے تاہم ابھی دونوں ملزمان کا ٹرائل جاری ہے۔

Reviews & Comments

Language: