نئی زندگی

(Abida Rahmani, Karachi)
یہ ایک ۸۷ سالہ ضعیف العمر خاتون کی حقیقی داستان ہے ۔ جو اس عمر میں اولاد ہونے کے باوجود بے سہارا اور تنہا زندگی گزار رہی ہے ۔

میں اسوقت امریکہ کے جس خطے میں مقیم ہوں یہاں معتدل
موسم ہے بہار اپنی بہار دکھا رہی ہے ۔فضا میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے ۔ ہمنگ برڈ ،جا بجا درختوں اور پھولوں سے جھول رہاہے حقیقتا یہ پرندہ میں نے کبھی پاکستان میں نہیں دیکھا،اسکا منا سا گھونسلا بھی ایک شاہکار ہو تا ہے۔
جو شاخ نازک پہ آشیانہ۔۔ بنے گا نا پائدارہوگا ۔
لیکن وہ اس ننھے منے سے پرندے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
دیگر پرندے بھی اپنےگھونسلوں کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں ۔ کھلے موسم سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور ہر طرف انکی سریلی صدائیں آرہی ہیں ۔ تیتر بٹیر بھی اڑتے پھرتے ہیں ۔آزاد فضانہ شکار نہ شکاری۔
امریکہ کی شمال مشرقی ریاستیں اور کینیڈا برفانی طوفانوں اور یخ بستہ موسم کی زد میں ہے ۔
وہاں کے بیشتر معمر باشندے سردی کے سخت موسم سے فرار حاصل کر کے ان معتدل علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ بہت سی ایسوسی ایشن بنی ہوئی ہیں جو انہیں آرام اور سہولیات مہیا کرتی ہیں ۔ انمیں ایک سنو برڈ ایسوسی ایشن بھی ہے اور یہ برفانی پرندے ( انسان ) ہزاروں کی تعداد میں ان گرم اور معتدل علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ یہاں انکی آؤ بھگت کے لئے پورے پورے شہر بسائے گئے ہیں ، ان میں ذاتی مکانات بھی ہیں اپارٹمنٹ بلڈنگز ،کنڈومینئم، ریٹائرمنٹ اور نرسنگ ہومز ۔ ہر طرح کی طبی سہولیات میسر ہیں ۔ کسی طبی مرکز میں جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر میں جیسے کوئی جوان سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ سوائے کام کرنے والے عملے کے ۔ انمیں بھی بیشتر معمر حضرات ہوتے ہیں۔
مغربی معاشرے میں معمر شہریوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے معمر شہریوں کی تعداد جوانوں کی نسبت زیادہ ہوچکی ہے۔ اس بزرگ ہونے والے معاشرے کے اپنے مسائل اور فرائض ہیں ۔ بیشتر وہ افراد ہیں جنہیں ہم گورے کہتے ہیں انکی زندگی گزارنے کا ڈھب ہم سے کافی حد تک مختلف ہے ۔
ہم کون ہیں ؟ بر صغیر کے باشندے یا مسلمان باشندے ، بر صغیر کے باشندوں کو عرف عام میں دیسی کہا جاتا ہے ۔ ہماری تہذیب اور معاشرت گوروں سے مختلف ہے ۔ والدین کی ادب، تعظیم اور دیکھ بھال ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے ۔ اسلام میں یہ احکامات قرآن اور احادیث میں انتہائی تاکید کے ساتھ واضح ہیں ۔
ان ممالک میں رہنے والے بیشتر والدین خاموشی سے اور بہت سے بادل ناخواستہ اپنے بچوں کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں لیکن کئی تکلیف دہ اور نا گفتہ بہ داستانیں بھی موجود ہیں ۔

رضیہ خانم ایک طرحدار خاتون ہیں ۔ انہوں نے لاہور میں پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا تھا اور حیدرآباد کے کالج میں لیکچرار تھیں ۔گھرانہ پڑھا لکھا تھا ، سب بھائی بہنوں میں چھوٹی تھیں ۔ عمر بڑھتی جارہی تھی اس دوران رفیق صاحب کا رشتہ آیا تو حامی بھر لی ، شادی کے بعد معلوم ہوا کہ میاں میٹرک فیل ہیں کچھ ٹیکسٹائیل کا ہنر جانتے تھے لیکن جدید طریقوں سے ہم آہنگ نہ ہو پائے ۔ ملازمت آتی جاتی رہی ۔ رضیہ نے مقامی سکول میں پڑھانا شروع کیا اور پرنسپل کے عہدے پر پہنچ گئیں ۔ اس دوران دوبچے بھی پیدا ہوئے ۔ ہمت والی خاتون تھیں سویٹر بننے کی مشین بھی خرید ڈالی اور اجرات پر سویٹر بننے لگیں ۔ آواز عمدہ پائی تھی پہلے تو شوقیہ گاتی تھیں بعد میں نعتیں پڑھنی شروع کیں ۔ میلاد محفلوں تک رسائی ہوئی اور میلاد کی ایک مشہور آواز بن گئیں ۔ اسطرح وہ شوہر کی کمائی کی محتاجی سے بچ گئیں ۔ بچے پلتے رہے انکو اپنی والدہ سے بھی رقم ملی جس کے ساتھ اپنی پس انداز رقم ملا کر ایک فلیٹ خرید لیا ۔ شوہر کے ساتھ جیسے تیسے گزر رہی تھی ۔ ایک نکھٹو شوہر کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے ؟ بس وہی حال تھا رفیق صاحب کا۔مقدور بھر بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیتی رہیں دونوں کو اچھے اسکولوں میں داخل کیا اور انکے بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے لگیں میاں کا تو یہ حال تھا کہ انکو بچوں کے سکول میں فیس دینے بھیجا اور بعد میں معلوم ہوا کہ فیس تو جمع ہی نہیں ہوئی ۔ شور شرابے کے بعد قائل ہوئے کہ وہ انہوں نے اپنے قرضے میں ادا کر دئے تھے ۔ اس طرح کے ماحول میں وہ شوہر کے ہوتے ہوئے بھی تن تنہا گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں ۔
بیٹے نے میٹرک کے بعد کالج میں داخلہ لیا تو اسکو ایک ہی بھوت سوار تھا کہ امریکہ جاکر انجینئرنگ کرنا ہے ۔ رضیہ کیلئے یہ ایک سہانے خواب کی تکمیل تھی ۔ اسنے ابھی سے کمیٹیاں اور بیسیاں ڈالکر اسے بھیجنے کیلئے رقم اکٹھی کرنی شروع کی ۔ انٹر کا امتحان دیتے ہی بیٹے نے اپنے دوستوں کے ہمراہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی کوششیں شروع کیں ۔ ٹوفل کا امتحان پاس کیا اسے کنساس کی ایک یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں داخلہ مل گیا۔
بیٹا رخصت ہوا اسکے جانے کا دکھ تو تھا لیکن اسکے مستقبل کی خوشی سے ایک طمانیت تھی۔اسکے داخلے اور ایک سمسٹر کی فیس جمع کرنے کیلئے رضیہ نے جمع پونجی داؤ پر لگادی ۔
بیٹی بھی اب کالج میں آگئی تھی، اسکی ایک دوست قریب میں رہتی تھی جس کے ہاں اسکا آنا جانا تھا دوںوں کلاس فیلو بھی تھیں ۔ رضیہ نے بھانپ لیا کہ شبنم اب بہانے بہانے اسکے ہاں کچھ زیادہ ہی جانے لگی ۔
ایک روز اسنے شبنم کو آڑے ہاتھ لیا تو اسنے ماں کو کھول کر بتا دیا ” اماں ندیم سے میری شادی کروادیں .“
وہ تو بے حد خوش قسمتی تھی کہ چند روز میں ندیم کی ماں رشتہ لیکر آگئی ، وہ بھی محض انٹر پاس تھا ایک ورکشاپ میں کام کرتا تھا ،لیکن امریکہ میں اسکے بھائی نے سپانسر کیا تھا اور کچھ عرصے میں امریکہ جانیوالاتھا۔
رضیہ نے اسے غیبی مدد سمجھا جھٹ منگنی پٹ بیاہ ۔اسنے دوستوں سے قرضے لئے ، بھائی بہنوں سے مدد کی درخواست کی ، اپنے زیورات بیٹی کو دئے اور یوں بیٹی کو بیاہ دیا ۔
اب وہ اور رفیق گھر میں اکیلے رہ گئے رفیق کم از کم گھر کا خیال کر لیتے اور کچھ سودا سلف لے آتے ۔ تعلقات تو انکے بس یونہی تھے۔
رضیہ اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر قرضے اتارنے میں لگی رہیں اب انہوں نے فارغ اوقات میں گھر پر بھی ٹیوشن پڑھانی شروع کردی ۔بیٹا فرحان بھی اکثر رقم کا مطالبہ کر تا تھا جوہ مختلف ذرائع سے پورا کرتیں وہ خود بھی مختلف ملازمتیں کر رہاتھا ۔ خدا خدا کر کے بیٹے کی تعلیم مکمل ہونے کے قریب آ ئی ۔ بیچلرز ڈگری ملی ۔ تو اسنے ماسٹرز کرنیکی ٹھانی۔
رفیق یوں تو ایک عضو معطل تھے۔پھر بھی ایک شخص کاساتھ تھا ایک رات وہ ایسا سوئے کہ پھر انہوں نے صبح نہیں دیکھی۔
بیٹی ، داماد بھی امریکہ روانگی کیلئے تیار تھے داماد کو اپنے بھائی کے ذریعے گرین کارڈ ملاتھا۔
رضیہ خانم نے بھی امریکہ کے وزٹ ویزے کیلئے درخواست دی ہوئی تھی ۔ خوش قسمتی سے پانچ سال کا ویزہ لگ چکا تھا ۔ انہوں نے سکول سے استعفی دیا ، بیٹی داماد کی مدد سے فلیٹ بیچا سامان وغیرہ بھی کچھ بک گیا ، باقی تقسیم ہو گیا ۔ رقم کوڈالروں میں بدل کر آدھی رقم بیٹی کو دے دی اور آ دھی بیٹے کے لئے لے کر بہت آرزؤں کے ساتھ روانہ ہوئیں ۔ بیٹا اسوقت اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں تھا اسلئے کافی مشکل تھی بعد میں اسنے ایک الگ اپارٹمنٹ لیا ۔ پکاتی اچھا تھیں بیٹے کو کھانے کا آرام ہوا ، اسکے دوست بھی اکثر ان سے پکواتے ۔ تھوڑی بہت کیٹرنگ شروع کی ۔ تو مصروفیت کے ساتھ کچھ آمدنی بھی ہونے لگی ۔
پڑھائی مکمل ہوتے ہی فرحان کو ایک مشہور کمپنی میں اچھی ملاز مت مل گئی ۔ رضیہ کی مرادیں بر آئیں ۔ اب اسکی دلہن کی تلاش شروع ہوئی ۔ ایک پاکستانی دوست کی چھوٹی بہن لاہور سے آئی تھی ، بیٹے کو دکھائی اسے بھی پسند آئی ، پہلے منگنی اور دو ماہ کے بعد شادی ہوئی۔
شروع میں تو رضیہ حاوی رہیں لیکن رفتہ رفتہ بہو نے رنگ دکھانے شروع کئے ۔ بہر کیف معاملہ چلتا رہا ۔۔ بیٹی نیویارک میں تھی اور دو بچوں کی ماں بن چکی تھی ۔ رضیہ بیٹے اور بیٹی کے مابین سفر کرتی رہیں ۔ باورچی خانے کی ذمہ داری بخوبی سنبھال سکتی تھیں بچوں کی دیکھ بھال بھی کر لیتیں ۔ وزٹ ویزے کو گرین کارڈ میں بدلنے کا لمحہ طول پکڑ گیا تو پاکستان جانے کا سوال ہی نہیں تھا ایک بھانجی ، بھتیجی بھی تھی انکے پاس بھی چند ماہ کیلئے چلی جاتیں ۔
بیٹے کے ہاں کئی سال کے علاج اور دعاؤں کے بعد بیٹا پیدا ہوا تو اسکی خوشی میں واپس آگئیں ۔ گھر میں حالات اکثر نا گفتہ بہ ہو جاتے تھے لیکن گزارہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
ایک وکیل کی کوششوں سے گرین کارڈ ملا تو خوشی کی انتہا دیدنی تھی اب امریکی شہریت کے حصول کا انتظار شروع ہوا۔ ڈھلتی عمر کے ساتھ صحت کے مسائیل بھی چلتے رہے ۔ اب میڈ یکیڈ کی سہولت مل چکی تھی تو گھٹنا بدلنے کا آپریشن ہوا ۔ صحت یاب ہوکر آئیں تو بہو کے تیور بہت ٹیڑھے تھے ۔ بہانے بہانے انکی بے عزتی پر اتر آتی ، ساتھ میں بیٹا بھی شامل ہوجاتا ۔ آخر میں روتے دھوتے انکو معافیاں مانگنی پڑ جاتیں۔
ہاتھ میں رعشہ تھا ایک روز کام کرتے ہوئے قیمتی برتن چھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوا تو بہو کا پارہ ایسا چڑھا کہ بیٹا بھی ساتھ شامل ہوا ۔ بیٹی اب اسی قصبے میں قریب ہی رہتی تھی ،روتے دھوتے اسکو فون کیا وہ فورا بھاگ کر آئی ۔ نند بھاوج اور بھائی میں خوب تکرار ہوئی اور نوبت اس پر آئی کہ اگر اپنی ماں کا اتنا ہی خیال ہے تو خود کیوں نہیں رکھتی ہو ؟
بوریا بستر لپیٹ کر بیٹی کے گھر آگئیں اسوقت تو داماد نے بہت خیال کیا کمروں کی تنگی تھی ایک کمرہ گیراج کے ایک کونے میں بنا دیا ۔ بیٹی نے کچن کا چارج دے دیا ۔ شروع میں تو بہت خوش تھیں اپنی دوستوں کو بھی بلا لیتیں ۔ نواسے نواسیوں سے بھی گپ شپ ہو جاتی۔ بیٹے بہو سے مکمل لاتعلقی ہو چکی تھی ۔ رضیہ نے دودھ نہ بخشنے اور مرتے دم چہرہ نہ دکھانے کی دھمکی دی تھی۔
چند سال اسی طرح گزر گئے ساری جمع پونجی ، زیورات بچوں پر نچھاور کر چکی تھیں ۔ خوش قسمتی سے سوشل سیکیورٹی سے چھ سو ڈالر ملنے لگے تھے اسمیں سے تین یا چارسو ماہوار پہلے بہو کو اور پھر بیٹی کو دینے لگیں۔
اب داماد نے بھی اپنے رنگ دکھانے شروع کئے وہ تو کھلم کھلا بڑھیا کہہ کہہ کر انکی ہتک کرتا ۔ انکی وجہ سے بیٹی داماد میں بھی خوب جھگڑے ہوئے ۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔
اب تو انہوں نے ہر وقت اللہ سے عزت کے ساتھ اٹھانے جانے کی دعائیں شروع کیں ۔ کہ اچانک انکی ایک پرانی دوست تنویر کا فلوریڈا سے فون آیا انہوں نےجب انکی روداد سنی تو اپنے پاس بلا لیا ۔
انہیں یوں لگا جیسے اللہ تعالی نے انکی سن لی ہو۔ انہوں نے اپنی روانگی کی تیاری شروع کی بیٹی سے کہا کہ دو ماہ میں واپس آجائینگی۔ تنویر نے انکو ہاتھوں ہاتھ لیا ،رضیہ کو یوں محسوس ہوا کہ انکو قید اور ہر وقت کی بے عزتی سے نجات مل گئی ۔ بیٹی کو واپس نہ جانے کی اطلاع دی اس نے بھی سکون کا سانس لیا۔
یہاں ایک بڑے پاکستانی ریسٹورنٹ کی جانب سے معمر شہریوں کیلئے ( بیشتر انڈیا اور پاکستان کے مسلمان) ہفتے میں پانچ روز صبح کے ناشتے اور ظہرانے کا انتظام ہوتا ہے انہی کی جانب سےآنے جانے کیلئے گاڑیوں کا انتظام بھی ہے ۔ تفریح کی تفریح، عمدہ صحت بخش خوراک ، اپنے ہم عمروں سے گپ شب ، دوستی ، دلچسپ پروگرام ، نعت خوانی ، بیت بازی ، گانے ،انکی تو جیسے دلی مراد بھر آئی۔ کوئی بہن بنی ، کوئی بھائی ۔ کئی لوگ مدد کیلئے تیار ہوئے ۔
تنویر کے پاس سال ہو چلاتھا کہ اسنے بتایا کہ میرے پوتے کا یہاں داخلہ ہوگیا ہے اسے کمرہ چاہئے ہوگا۔ تو رضیہ جو بچوں کے پاس واپسی کے تمام راستے مسدود کر چکی ہیں اور اپنی موجودہ جنت کو کسی صورت پر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے ایک بیڈ روم کا اپارٹمنٹ ڈھونڈھ لیا اپنی ایک ڈاکٹر بھانجی سے کرائے کا معاہدہ کروایا ۔ ساتھ میں سرکاری مکان اور سوشل سیکورٹی میں اضافے کیلئے درخواستیں دیں ۔ انکے دوست احباب نے تمام فرنیچر اور گھریلو سامان مہیا کیا ۔انکی ضعیفی اور کمزوری دیکھ کر سوشل سروس کی جانب سے انکو روزانہ دوگھنٹے کیلئے ایک ملازمہ بھی مل گئی ہے جو انکو شاپنگ بھی کرا دیتی ہے ۔ انکی خوشی اور طمانیت کی کوئی انتہا نہیں خوراک کے اخراجات فوڈ سٹیمپس سے پورے ہو جاتے ہیں ،لیکن باقی اخراجات کیسے پورے ہونگے ، نوسو تو صرف کرایہ ہے ۔ سوشل سیکورٹی کی رقم ناکافی ہے تو دوست احباب سے مدد کرنے کو کہا ۔ چند دوستوں نے مدد کی ہے لیکن کب تک ۔۔
وہ اپنے آج میں بے حد خوش ہیں اور کل کس نے دیکھا ہے انہیں امید ہے کہ وہ مسبب الاسباب ضرور کچھ نہ کچھ بندوبست کر دیگا۔
ایک ضعیف العمر (اولاد کے ہوتے ہوئے بے سہارا) 87 برس کی عورت جیسے دوبارہ زندہ ہوگئی ہے ۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 553 Print Article Print
About the Author: Abida Rahmani

Read More Articles by Abida Rahmani: 193 Articles with 125182 views »
I am basically a writer and write on various topics in Urdu and English. I have published two urdu books , zindagi aik safar and a auto biography ,"mu.. View More

Reviews & Comments

Language: