خود نمائی نہیں واقعی کام

(Tahir Durrani, )

صحافت کا لفظ صحیفے سے نکلا ہے ،آسمانی کتابیں صرف چار انبیاء کرام پر نازل ہوئیں جبکہ باقی تمام انبیاء کرام پر اﷲ کریم نے اپنا پیغام صحیفے نازل کرکے پہنچایا ۔ اس بات سے ثابت ہوا صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس پیشے سے جڑا ہر انسان بھی اعلیٰ اور قابل احترام ہے ۔ایک صحافی اپنے علم اور تدبرانہ سوچ کے ذریعے معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنی مثبت سوچ میں ڈھال کر اوراپنے لفظوں میں پرو کر آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ صحافی معاشرے کا عکاس ہوتا ہے ، مسائل کے حل کے لیئے اپنی تحاریر کے ذریعے مثبت انداز میں حل بتانے کی کوشش کرتا ہے ۔ معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے میں اداروں کی مدد کرتا ہے ۔ علم ایک لازوال دولت ہے ، قرآن مجید فرقان حمید میں اﷲ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں ’’ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا جبکہ اس سے اگلی آیات کریمہ میں مذید بتا یا کہ’’ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ‘‘ اس آیت کریمہ سے قلم کی اہمیت واضع طور پر بیا ن کر دی گئی ہے ۔یہ علم ،یہ دولت اہلِ دانش اپنے کالموں کے ذریعے اخبارات کی زینت بناتے ہیں تا کہ عوام تک آسانی سے یہ تخلیقات پہنچ سکیں اور عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے ۔ حالا ت کیسے ہی کیوں نہ ہوں صحافی اپنے قلم اور علم کی مدد سے اپنی کاوش جاری رکھے ہوئے ہیں اور معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے اپنا علمی عَلم بلند کیے میدان صحافت میں اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں بقول شاعر ’’ مالی دا کم پانی بھرنا تے بھر بھر مشکاں پاوے ۔ مالک دا کم پَھل پُھل لانا اُہ لاوے یا نہ لاوے ‘‘ علم و ادب ، اُردو کے فروغ اورصحافیوں / لکھاریوں کے حقوق کے لیے پاکستان میں اس وقت درجن سے زیادہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہر تنظیم اپنے منشور کے مطابق عمل پیرا ہے اور اپنے وسائل کے مطابق لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کچھ تنظیمیں ایسی بھی ہیں جن کا مقصد صرف خود نمائی ہے ۔ ممبرز اپنی تنظیم کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اپنا قیمتی وقت برباد کر کے دلجمعی کے ساتھ کام کرتے ہیں جبکہ کریڈٹ چند لوگ ہی لیتے ہیں اور اپنی خود نمائی میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ میں نے اینوسٹی گیٹیو کونسل آف کالمسٹ پاکستان( المعروف آئی سی سی پاکستان) کے بارے میں کچھ دوستوں سے سُنا کہ وہ خالصتاََ لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیم ہے خاص طور ایسے لکھنے والے جن کی رسائی اخبارات تک نہیں لیکن وہ بڑا اچھا لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اُن کی تخلیقات کسی اخبار ، ویب یا میگزین میں نہیں لگتی ہیں اور ایسے درجنوں لکھاری لکھنے سے توبہ کر نے لگے اور دلبرداشتہ ہو کر نہ لکھنے کا فیصلہ کر چکے تھے، ایسے تمام لکھاریوں کا حوصلہ بڑھانے اور لکھنے کی ہمت بڑھانے میں آئی سی سی پاکستان پیش پیش ہے ۔ میں چونکہ اس تنظیم سے پہلے دو اورکالمنگار تنظیموں کے ساتھ فنانس سیکریٹری اور ترجمان کے طور پر کام کر چکا ہوں ۔ ایک تنظیم کے ساتھ کام کرتے، تنظیم کا پیج پورے دو سال تک اکیلے چلایا لیکن شاباش تک نہ دی گئی اور خود نمائی میں صرف چار لوگ سرفہرست رہتے ۔خیر جب مجھے پتا چلا کہ ایک ایسی تنظیم بھی ہے جو لکھاریوں کی حوصلہ افزائی حقیقی معنوں میں کر رہی ہے اور وہ بھی بنا کسی لالچ اور غرض کے تو مجھے اشتیاق ہوا کہ اس میں شمولیت اختیار کروں ۔میں نے اس تنظیم کی صداقت اور انفرادیت کو جانچنے کے لیے کچھ لکھاریوں سے رابطہ کیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تنظیم سچ میں ایسی ہی ہے جیسا کہ آپ نے سُنا ہے۔اس تنظیم کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ یہ وطن کی آن کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں وقتاََ فوقتاََ پاکستان کی سلامتی کے موضوع پر مقابلہ جات کرواتے ہیں ، پاک فوج کی حوصلہ افزائی اور کارناموں پر مقابلہ جات کرواتے ہیں اورجیتنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کتب کے تحائف بطور انعام دیتے ہیں جس سے نئے لکھنے والوں کو مزید لکھنے کی طاقت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے ۔کئی نئے لکھنے والوں کی تخلیقات شائع ہو کر اُن کے سامنے آچکی ہیں ۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بے لوث اور بغیر کسی لالچ کے کرتے ہیں ، حقیت میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر وقت کوشاں ۔ آئی سی سی کا منشور صرف کام ہے نہ سالانہ فیس، نہ حاضری کی قید نہ بار بار میٹنگز کی کال نہ خود نمائی بلکہ کام کرنے والوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے میں نے اب تک جتنی تنظیموں میں کام کیا کسی ایک تنطیم نے ایک تحریر بھی شائع کروانے میں مدد نہیں کی۔آئی سی سی اس وقت کالمنگاروں کی وہ واحد تنظیم ہے جو اردو کی ترویج اشاعت اور نئے لکھنے والوں کے لیے ایمانداری سے کام کر رہی ہے۔ میں تنظیم کے صد ر محترم رشید احمد نعیم کواُن کے اِ ن اقدامات پر خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس کے علاوہ اطہر طاہر صاحب، محمد عرفان ، ایم ایچ بابر ، ڈاکٹر بی اے خرم ، ناصر حسین سندھو، اشتیاق احمداور دیگر جُملہ اراکین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جو دل جمعی اور لگن کے ساتھ اس تنظیم کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں ۔ اُن تمام اخبارات مالکان ، ایڈیٹرز اور دیگر دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس کارِ خیر میں اپنا کردارادا کرر ہے ہیں ۔رشید احمد نعیم صاحب سے قلمی دوستی تو کافی عرصہ سے تھی مگر شرف ملاقات میری کتاب ’’ سپہ وطن ‘‘ (مادروطن پر قربان ہونے والے جوانوں کی داستان شجاعت)پر ہوا۔ انتہائی سادہ انسان ، خوبصورت لب و لہجہ کے مالک ایک ایسا دوست جس نے میری بے حد معاونت کی ہر قدم پر رہنمائی کی۔ آئی سی سی کے پلیٹ فارم سے میں نے جتنے نئے لکھنے والوں کے کالمز ارسال کیے نہ صرف اُن کی حوصلہ افزائی بلکہ حالات کے مطابق سپیشل ایڈیشنز بھی لگوائے تاکہ لکھنے والے کو خوشی ہو اور وہ مزید کوشش کر کے اپنی تحریر میں نکھار پیدا کر ے ۔میرے الفاظ سادہ ہیں لیکن میرے دل میں اس تنظیم کے لیے بے پنا ہ محبت اور عقیدت ہے ۔
بقول شاعر۔
انداز بیاں گر شوخ نہیں میرا
شائد کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 52 Articles with 19204 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More

Reviews & Comments

Language: