کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

(Rehman Mahmood Khan, )
آصف زرداری اور بلاول کی نیب میں پیشی جب کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی نئی جے آئی ٹی نے نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں تفتیش کی

ڈیک:
ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں کو بچانے تک محدود ہو گئی ہیں،اسے قابلِ رشک صورت حال نہیں کہا جا سکتا

ملک کی بدلی ہوئی فضا میں اب یہ مسئلہ نہیں چل سکتا کہ ہر بات کو سیاسی انتقام کے کھاتے میں ڈال کے اپنی بے گناہی ثابت کی جائے

آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے نیب کی الگ الگ ٹیموں نے سوالات کیے جبکہ ضرورت پڑنے پر دونوں سے مشترکہ سوالات بھی کیے گئے

پی پی پی کارکنوں نے میڈیا نمائندوں سے شدید بدتمیزی کی اور صحافیوں اور کیمرہ مینوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا

گزشتہ روزملکی تاریخ کا مصروف ترین دن رہا۔جہاں ایک طرف سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیب کے سامنے پیش ہوئے اور دوسری طرف کوٹ لکھپت جیل میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس پر JITنے نااہل وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے تفتیش کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اپنے والد آصف علی زرداری کے ساتھ 19گاڑیوں کے قافلے میں نیب دفترپہنچے ، نیب کے پرانے ہیڈ کوارٹرزکو راولپنڈی آفس قرار دیا گیا ہے، اس موقع پر نیب کی درخواست پرسیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔نیب آفس اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری، اسپیشل برانچ اور رینجرز اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

پس منظر
آصف زرداری پرپارک لین کمپنی میں 1989ء میں فرنٹ مین کے ذریعے خریداری کاالزام ہے۔جس پر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو پارک لین کمپنی کیس میں طلب کیا گیاتھا، پارک لین کیس میں اربوں روپے کی ترسیلات جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئیں، 2009 ء میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کمپنی کے شیئرہولڈر بنے،دونوں 25،25فیصد کے شیئر ہولڈر ہیں، آصف زرداری بطور کمپنی ڈائریکٹر اکاؤنٹس استعمال کرنے کااختیار رکھتے تھے جبکہ 2008ء میں کمپنی کے دستاویز پر آصف زرداری کے بطور ڈائریکٹر دستخط موجود ہیں، پارک لین کمپنی نے قرضوں کی مد بھی بینکوں سے اربوں روپے لیے۔

ا س کے علاوہ 2015ء کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے آصف زرداری اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداﷲ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداﷲ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

نیب کے چیئرمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے سے قومی احتساب بیورو اسلام آباد کو منتقل کردی ہیں، جس کے بعد چیئرمین نے قانونی اختیار استعمال کرکے متعلقہ مقدمہ اسلام آباد میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا تمام ریکارڈ راولپنڈی کی عدالت منتقل کیا جائے۔جس پرچند روز قبل کراچی کی بینکنگ عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور حسین لوائی کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کردیا تھا۔عدالت نے مقدمے کے تمام ریکارڈ کو راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیاتھا۔

زرداری بلاول پیشی!

کب کیا ہوا؟

جعلی اکاؤنٹس کیس کی تفتیش میں نیب کے نوٹس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیب کے سامنے پیش ہوئے جہاں نیب کی16رکنی ٹیم نے ان سے ایک گھنٹہ سے زائد تفتیش کی۔اس موقع پر نیب کے انٹیلی جنس ونگ کو بھی طلب کیا گیا تھا۔سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول کوتین مقدمات میں 100 سے زائد سوالات پر مشتمل سوالنامے دیئے گئے اور دس سے پندرہ دن میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔روزنامہ آفتاب کے رپورٹرکے مطابق سابق صدرآصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے نیب راولپنڈی کو میگا منی لانڈرنگ کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور نیب کی جوائنٹ ٹیم نے آصف زرداری اور بلاول سے ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور انہیں نیب دفتر میں الگ الگ نہیں بلکہ اکٹھے بٹھایا گیا جبکہ تفتیش کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔کہا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی وزیراعلیٰ سندھ ،فریال تالپوراوردیگرافرادکوبھی طلب کرے گی۔ تمام نامزد افرادکے بیانات ریکارڈ کئے جائیں گے۔

نیب نے تفتیش کی حکمت عملی طے کی
نیب نے آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے تفتیش کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو سوالنامہ فراہم کیا اور دونوں سے الگ الگ ٹیموں نے سوالات کیے جبکہ ضرورت پڑنے پر دونوں سے مشترکہ سوالات بھی کیے گئے، تفتیشی ٹیموں میں مجموعی طورپر16افسران شامل تھے، جس میں نیب کے 4 نگران کیس افسران بھی موجود ہیں ،اس کے علاوہ نیب نے بلاول بھٹو کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس موقع پر آصفہ بھٹو سمیت مرکزی قیادت کو ہال میں بٹھا یا گیا تھا۔بلاول بھٹو نیب کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرانے کے بعدانھوں نے کہا امیدکرتاہوں آئندہ مجھے نیب نہیں بلائے گا۔

مشتعل کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ
بلاول کی آمد پر کارکنوں نے بلاول کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا۔پیشی کے موقع پر پی پی پی کے مشتعل کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ ہوئی جس کے بعد درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اس موقع پر پی پی پی رہنما اورکارکن بڑی تعداد میں نیب دفترکے قریب پہنچے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ نیب دفتر کے باہرپولیس اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور کارکنوں کی بڑی تعداد پولیس کے تمام حصارتوڑتے ہوئے نیب دفترکے باہرپہنچے اور بہت سے افراد دفتر کے اندر بھی داخل ہوگئے۔پی پی پی کارکنوں نے میڈیا نمائندوں سے شدید بدتمیزی کی اور صحافیوں اور کیمرہ مینوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ جیالوں کے تشدد سے متعدد پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ نجی ٹی وی کا ایک کیمرہ مین شدید زخمی ہوگیا جسے طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پی پی پی کارکنوں نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی۔ پی پی کارکنوں کے درمیان آپس بھی لڑائی جھگڑا اور مار پیٹ ہوئی۔

گرفتاریاں
پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کارکنوں کو نیب دفتر کے گیٹ سے دوردھکیلنے کی کوشش کی، تاہم انہیں قابو کرنے میں پولیس مکمل طورپرناکام ہوگئی،نادرہ چوک کے قریب 2 پولیس اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔پی پی کارکنان کی نیب دفترمیں گھسنے کی کوشش میں 5 پولیس اہلکار زخمی اور 50 کے قریب گرفتار ہوئے۔قمر زمان کائرہ کے مطابقپولیس نے ہمارے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا جبکہ 50 سے زائد لاپتہ ہیں۔ پی پی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے سینئر رہنما بھی گرفتار شدگان میں شامل ہیں جن میں ندیم اصغر کائرہ، میرباز کھیتران اور سردار اظہرعباس شامل ہیں۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ تشدد، پتھراؤ اور لاٹھی چارج سے ہمیں روکا نہیں جاسکتا، انتظامیہ لاپتہ جیالوں کو فی الفور ظاہر کرے اور گرفتار جیالوں کو رہا کرے۔

زرداری اوربلاول سے کیا پوچھا گیا؟
٭……سابق صدر سے آصف علی زرداری سے زرداری گروپ آف کمپنیز کے 4جعلی اکاؤنٹس سے تعلق کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔
٭……سابق صدر اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو سے پارک لین اسٹیٹس کی طرف سے ڈیڑھ ارب روپے کا قرض فرنٹ کمپنی میسرز پارتھنن کے ذریعے نیشنل بینک اور سمٹ بینک سے لینے کے بارے میں بازپرس کی گئی۔
٭……نیشنل بینک اور سمٹ بینک سے قرض کو 2.8 ارب تک ری اسٹرکچر کرانے سے متعلق بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
٭…… آصف زرداری اور بلاول سے پارک لین اسٹیٹس میں شئیر ہولڈر ہونے کے بارے میں بھی سوالات کییگئے۔
پیپلز پارٹی نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر اپنے ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں کو نیب آنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔ نیب نے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو خط بھی لکھا تاکہ ایمرجنسی صورتحال سے نبٹا جاسکے۔

بلاول کی پریس کانفرنس
بلاول بھٹو زرداری نے نیب میں پیش ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُن کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی،جب ایک دو سال کا تھا تب بینظیر بھٹو کے ساتھ جیلوں میں پیش ہوتا تھا۔پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ اگر بلیک میلنگ جاری رکھی توحالات کی ذمہ دار حکومت خود ہوگی۔انھوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں،جب تین وفاقی وزرا کا کالعدم تنظیموں سے رابطہ ہوگا کوئی نیشنل ایکشن پلان پر کارروائی کو سیریس نہیں لے گا۔ مجھ پر الزام ہے کہ مَیں کمپنی میں شیئر ہولڈر بنا،حالانکہ تبمیں ایک سال سے کم عمر تھا۔بلاول زرداری نے کہا کہ چیف جسٹس کے ریمارکس تحریری حکم نامے میں شامل نہیں تھے،اس کیس کا تعلق کراچی سے ہے، بینک اکاونٹس کراچی کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے کیس کو راولپنڈی منتقل کرنے کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
٭
جے آئی ٹی کی میاں نواز شریف سے تفتیش
سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی نئی جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہے، نئی جے آئی ٹی نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا بیان کوٹ لکھپت جیلمیں ریکارڈ کیا۔جے آئی ٹی کی سربراہی آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ نے کی۔جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ کرنل محمد عتیق الزمان، ایم آئی کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا شامل تھے، جب کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی بی محمد احمد کمال، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز پولیس گلگت بلتستان قمر رضا بھی جے آئی ٹی کا حصہ بنے۔

جے آئی ٹی سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق نواز شریف سے مختلف سوالات کئے۔اس سے قبل جے آئی ٹی نے احتساب عدالت سے نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت لی تھی۔14 مارچ کو احتساب عدالت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال نے نواز شریف سے جیل میں تفتیش کیلئے اجازت کی درخواست کی تھی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف ماڈل مقدمے میں نامزد ملزم ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ماڈل ٹاون واقعے کی تفتیش سے متعلق نواز شریف سے جیل میں ملنے کی اجازت دی جائے۔جس کے بعد عدالت نے درخواست گزار ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال کی استدعا منظور کرتے ہوئے نواز شریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی تھی۔

24 فروری2019ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمے میں نامزد 7 سیاسی شخصیات کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جس کے بعد خواجہ آصف ، رانا ثنااﷲ اور پرویز رشید جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔جے آئی ٹی 85 سے زائد شاہدین اور 90 پولیس اہلکاروں کے بیان ریکارڈ کرچکی ہیں۔خیال رہے پہلے بنی جی آئی ٹی پرعدم اطمینان کے بعد 19 نومبر 2018ء کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور 5 دسمبر2018ء کو حکومت کی جانب سے کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی۔اس سے قبل سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں نامز ملزم نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہباز، راناثناء اﷲ، دانیال عزیز، پرویز رشید اور خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کئے تھے۔بعد ازاں 3 جنوری 2019ء کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ ہیں۔

تجزیہ
غور کیا جائے تو شریف اور زرداری فیملی کے خلاف مقدمات میں بہت سی چیزیں مماثلت رکھتی ہیں۔ کرداروں میں صرف تھوڑی بہت تبدیلی ہے، وگرنہ معاملات ایک جیسے ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ مریم نواز اور شہباز شریف کو مقدمات کا سامنا رہا۔یہاں آصف علی زرداری کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور یکجا نظر آتے ہیں۔دونوں کے خلاف ناجائز اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیسز ہیں۔منی لانڈرنگ کیس میں حالات سخت ہو رہے ہیں اور اِدھر بلاول بھٹو زرداری کی زبان بھی سخت ہوتی جا رہی ہے۔ زرداری فیملی نے شریف فیملی کے حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور عین اُس کی پیروی کر رہی ہے، یعنی فرق یہ ہے کہ نواز شریف کی جگہ آصف علی زرداری اور مریم نواز کی جگہ بلاول بھٹو زرداری نے لے لی ہے۔چند ماہ قبل مریم نواز سخت ترین الفاظ میں فوج اور عدلیہ پر تنقید کرتی نظر آتی تھیں،اْس و قت مقصد یہ تھا کہ دباؤ اتنا بڑھایا جائے کہ نواز شریف کے مقدمات میں ان کے خلاف فیصلے دینا ممکن نہ رہے، مگر اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ایک ذرا سا ریلیف بھی نہ مل سکا، کیونکہ ریلیف تو شہادتوں پرملنا تھا، جو نہیں دیگئیں اور سارا زور ججوں کو متنازعہ بنانے پر صرف کر دیا گیا۔آج کے حالات دیکھیں کیا ہیں۔ وہ بیانیہ تو کہیں گم ہو گیا ہے، جو فوج و عدلیہ کے خلاف خاصا جارحانہ تھا۔اب تو یہ بیانیہ رہ گیا ہے کہ نواز شریف بہت بیمار ہیں،انہیں طبی بنیاد پر ضمانت ملنی چاہئے تاکہ وہ بیرون ملک اپنے معالج سے علاج کرا سکیں۔گویا بات جارحیت سے التجا تک آ گئی ہے۔ کیا زرداری فیملی نے بھی یہ دائرہ مکمل کرنا ہے، پہلے انتہا کی مزاحمت دکھا کر آخر میں طبی بنیادوں پر ریلیف مانگنا۔نواز شریف اور آصف علی زرداری‘دونوں نے اپنے خلاف بننے والے مقدمات میں بے گناہی ثابت کرنے کی بجائے مسئلے کو سیاسی دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔دونوں نے بالواسطہ طور پر عدلیہ اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں کے بچے دفاع کے لئے میدان میں اُترے اور اپنے بیانیہ میں بہت آگے چلے گئے۔

حکومت کی مخالفت اور ملک کی مخالفت میں بہت معمولی سا فرق ہے۔اگر کوئی لیڈر اس فرق کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتا یا اس فرق کی نزاکت کو نہیں سمجھتا تو عوام کی نظروں سے گِر جاتا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں کو بچانے تک محدود ہو گئی ہیں،اسے قابلِ رشک صورت حال نہیں کہا جا سکتا۔ ملک کی بدلی ہوئی فضا میں اب یہ مسئلہ نہیں چل سکتا کہ ہر بات کو سیاسی انتقام کے کھاتے میں ڈال کے اپنی بے گناہی ثابت کی جائے۔اب تو نیب اور عدلیہ اپنا کام کر رہی ہیں، جہاں سب کچھ شواہد سے ثابت ہوتا ہے اور بے گناہی کے لئے بھی شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں سینکڑوں دستاویزی شواہد سامنے آ چکے ہیں، وہاں سیاسی دھمکیوں سے ریلیف حاصل کرنے کی خواہش دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔
٭٭٭
Box-1
بلاول کی ٹویٹ
بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے نیب ہیڈکوارٹرراولپنڈی میں پیشی سے قبلپر حبیب جالبؔ کے چند اشعار پوسٹ کیے ۔
میں بھی خائف نہیں تختہِ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
٭٭٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 167 Print Article Print
About the Author: Rehman Mahmood Khan

Read More Articles by Rehman Mahmood Khan: 38 Articles with 18084 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ