مختلف ممالک میں مساجد پر دہشت گردانہ حملے

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مساجد میں پیش آئے ۔جس میں مسلح افرادنے داخل ہوکرخودکارہتھیاروں سے نمازیوں پرفائرنگ شروع کردی۔مقامی میڈیا کاکہناہے کہ مسجدمیں ایک شخص داخل ہوا۔ جس نے مشین گن سے فائرنگ کی۔ حملہ آورنے پنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری کے طورپرکرائی۔فوجی وردی میں ملبوس حملہ آورکی عمرتیس سے چالیس سال تھی۔حملہ آورجدیدہتھیاروں سے لیس اورپٹرول بموں سے بھری گاڑی کے ساتھ پہنچاتھا۔جوہیلمنٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیوسوشل میڈیاپرلائیودکھاتارہا۔مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھادھندفائرنگ کی ،اس نے کئی بارگن کوری لوڈ کیااوراس نے مختلف کمروں میں جاکرفائرنگ کی۔مقامی میڈیاکے مطابق حملہ آورتین منٹ تک فائرنگ کرنے کے بعدباہرنکلااوراس نے گاڑیوں پربھی فائرنگ شروع کردی۔نیوزی لینڈ کی مساجد میں فائرنگ کے واقعات نمازجمعہ کی ادائیگی کے دوران پیش آئے۔ جس میں سات سے ۹ پاکستانیوں سمیت پچاس افرادشہیداورمتعددزخمی ہوئے۔نیوزی لینڈ میں مساجدپرحملے کے بعدلندن کی کیننگ سٹریٹ پرمسجدکے باہر نوجوانوں کے تین رکنی گروپ نے مسلمانوں پرہتھوڑے سے حملہ کردیاجس سے ایک مسلمان زخمی ہوگیا۔عینی شاہدین کے مطابق نیلے رنگ کی گاڑی میں سوارنوجوان حملہ آورچیخ چیخ کرمسلمانوں کودہشت گردکہہ رہے تھے۔ہالینڈ کے شہراتریخت میں نامعلوم دہشت گردنے ٹرام پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین مسافرہلاک اور۹ زخمی ہوگئے۔واقعے کے بعدحکام ٹرام اسٹیشن کے قریب علاقے کوگھیرے میں لے لیا۔فائرنگ کرنے ولاشخص فرارہوگیا۔جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔برطانیہ میں ہتھوڑا بردارشخص نے چارمساجدکے بیرونی حصے میں توڑپھوڑ مچادی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ برطانیہ کے شہربرمنگھم میں ایک شخص نے بریچ فلیڈ روڈ پرقائم مسجدکے شیشے توڑ دیے۔پولیس نے مزیدبتایا کہ بریچ فلیڈ پرقائم مسجدپرحملہ رات کے اڑھائی بجے ہوااوراس کے ۴۵ منٹ بعداس کادوسراواقعہ سلیڈ روڈ پرپیش آیا۔ویسٹ میڈلینڈ پولیس کاکہناتھا کہ برمنگھم میں اسٹوں اورپیری بارنامی علاقوں میں بھی دومساجدپرحملے ہوچکے ہیں ۔ دوسری جانب برمنگھم کونسل آف مسجدکے مطابق تقریباً پانچ مساجدکونقصان پہنچایاجاچکاہے اورہم سخت حیران ہیں کہ تمام مساجدپرایک رات میں حملہ ہوا۔امریکہ میں بھی نسل پرست سفیدفام نے دہشت گردی کرتے ہوئے مسجدکوآگ لگادی اور فرار ہو گیا ،نمازیوں نے فوراً آگ بجھادی۔جس کے باعث کوئی نقصان نہیں ہوا۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیاکے شہرایکسن ڈیڈومیں واقع مسجد کو نامعلوم شخص نے آگ لگادی ۔مسجدمیں موجودافرادنے فوراً اقدامات کرتے ہوئے آگ بجھائی۔ آگ رات کے سواتین بجے لگائی گئی۔حملے سے کسی قسم کاجانی نقصان نہیں ہوا۔لیکن مسجدکابیرونی حصہ مجروح ہوگیا۔ برطانیہ میں اسلاموفوبیاکی نئی لہر،نفرت انگیزجرائم میں چھ سوفیصد اضافہ ہوگیا۔نیوکاسل میں حملے سے مسجدکی عمارت اورقرآن مجیدکے نسخوں کومجروح کیاگیا۔نیوکاسل میں اسلامک سکول پرحملے میں توڑپھوڑکے بعدپولیس نے دولڑکیوں سمیت چھ افرادکوحراست میں لے لیا۔برطانوی میڈیاکے مطابق ان حملوں کومسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزجرائم کے تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔جنوب مغربی فرانس میں مسجدتعمیرکرنے والے افرادکوعبادت گاہ کے دروازے پرمردارجانورکاسراورجانورکاخون ملاہے۔گزشتہ ایک دہائی سے زائدعرصے سے یورپ سمیت مغربی ممالک میں مسلمانوں اوران کی عبادت گاہوں کومختلف طریقے نشانہ بنانے کاسلسلہ جاری ہے اوریہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی لگتاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برجیریک کے چھوٹے سے ٹاؤن میں تعمیرہونے والی مسجدکی سال دوہزارسترہ میں پہلی بارتجویزدی گئی تھی اورسخت مخالفت کے باوجوداسے بالآخراکتوبرسال دوہزاراٹھارہ میں منظورکرلیاگیاتھا۔خیال رہے کہ یہ جگہ عام طورپرایک اعلیٰ قسم کی شراب اورفرانسیسی ادبی شخصیت سرانودی برجیریک کے نام کے لیے شہرت رکھتی ہے۔اس حوالے سے برجیریک کے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹرچارلس چارولوئس کاکہناتھا کہ زیرتعمیرحصے کے سامنے ملزمان نے دیوارپرجانورکاخون لگایااوردروازے پرمردارجانورکاکٹاہواسررکھ دیا۔ان کاکہناتھا کہ یہ وحشیانہ واقعہ رات گئے پیش آیا ۔برجیریک کے پولیس کمشنرفریڈرک پیریست کاکہناتھا کہ اس تعمیرکوروکنے کے لیے انتظامی اورقانونی اپیلیں ہیں لہذا ہمارے لیے معاملے کودیکھنے کے لیے بہت سی کڑیاں موجودہیں۔انہوں نے اس عمل کی سختی سے مذمت کی جواظہاررائے کی آزادی کونقصان پہنچائے اورریاست اورچرچ کے علیحدگی کے اصولوں کے برعکس ہو۔ساتھ کی کمیونٹی میں باہمی احترام کامطالبہ بھی کیا۔اس ٹاؤن کے میئرڈینیل گاریگ کاکہناتھا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں پورے علاقے میں پوسٹرلگائے گئے تھے جس میں یہ قراردیاگیاتھا کہ برجیریک پیریگورڈ کاشہرہے اسلام کانہیں۔

استنبول میں بلائے گئے اوآئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدرطیب اردوان کاکہناتھا کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈر آرڈرن نے کرائسٹ چرچ کی دومساجددہشت گردحملہ کے بعدجس طرزعمل اورردعمل کااظہارکیاہے وہ دنیاکے لیے ایک مثال ہوناچاہیے۔حملہ کے خلاف نیوزی لینڈ کی حکومت اورعوام کے جذبات اورعزم واستقلال قابل تعریف ہیں۔ سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعدترکی کے دورے پرآئیے ہوئے نیوزی لینڈ کے وزیرخارجہ نے ترک حکام کے ساتھ ملاقات میں ان کونیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے تحفظ کے بارے میں انتظامات سے آگاہ کیا۔ترک صدرنے کہا کہ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کی شہادت کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔یہ مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت، تعصب اورحسدکانتیجہ ہے۔مغرب کوسفیدفام انتہا پسندوں (دہشت گردوں) کے خلاف اقدامات کرناہوں گے۔جس طرح کالعدم تنظیموں کے خلاف مسلم دنیانے اقدامات کیے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی بھی اوآئی سی کے اجلاس میں موجودتھے۔اوآئی سی کے اجلاس کے بعدجاری کیے گئے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ اوآئی سی کے کرائسٹ چرچ واقعہ کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے پندرہ مارچ کواسلاموفوبیاکے خلاف یکجہتی کادن مطالبہ کردیا اورکہا گیا کہ وہ اس دن کواسلاموفوبیاکے خلاف یکجہتی کادن قرار دے ۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دی گئی چاروں تجاویزاوآئی سی اعلامیہ کاحصہ بن گئی ہیں۔ملائشیاکے وزیراعظم مہاتیرمحمدنے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے نفرت کامقابلہ طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے کرناہوگا۔مہاتیرمحمدکاکہناتھا کہ کرائسٹ چرچ کا واقعہ مسلمانوں سے نفرت ،خوف اوردشمنی کی وجہ سے پیش آیا۔میڈیااورکچھ لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی۔لیکن انتقام اورلڑائی جھگڑے سے اس نفرت کامقابلہ نہیں کرناہوگابلکہ لوگوں کے دل ودماغ جیتنے ہوں گے۔اسلاموفوبیاکامقابلہ کرنے کے لیے نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے اوردنیامیں مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے منفی نکتہ نظرکومثبت نکتہ نظرمیں تبدیل کرناہوگا۔کرائسٹ چرچ میں ۹ پاکستانی اورتین ملائشین بھی شہیدہوئے ہیں۔صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہے ۔ اسلاموفوبیاکے خلاف مسلم ممالک مل کرلائحہ عمل اختیارکریں۔ملائشیاکے وزیراعظم نے دورہ پاکستان میں اسلاموفوبیاکے خلاف آوازاٹھائی۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے سانحہ کے بعد اپنے ٹویٹ میں صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ مساجدپرحملے کی خبرحیران کن اوررنجیدہ کرنے والی ہے۔ ملائشیاکے وزیراعظم مہاتیرمحمدکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کاکہناتھا کہ دنیامیں جان بوجھ کراسلاموفوبیاکوہوادی گئی اوراسلاموفوبیانے امت مسلمہ کونقصان پہنچایا،دہشت گردی نے مسلمانوں کوبہت متاثرکیا۔جب کہ اسلاموفوبیاکی وجہ سے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہدکونقصان پہنچا۔کرائسٹ چرچ حملہ بھی اسلاموفوبیاکانتیجہ ہے۔نیوزی لینڈ میں دہشت گردنے معصوم لوگوں کے قتل کی ویڈیوبنائی ۔سفاک قاتل کواپنے فعل پرذرابھی شرمندگی نہیں تھی۔ نیوزی لینڈ کی مساجدمیں دہشت گردی کے سانحہ کے بعدردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حملہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔یہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتاہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں۔عمران خان نے کہا کہ بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے نائن الیون کے بعدتیزی سے پھیلنے والااسلاموفوبیاہے۔جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طورپراسلام اورسواارب مسلمانوں کے سرتھوپنے کاسلسلہ جاری رہا۔مسلمانوں کی جائزسیاسی جدوجہدکونقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ استعمال کیاگیا۔ اوآئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کاکہناتھا کہ کرائسٹ چرچ واقعہ زیادہ خطرناک اور سرایت کرجانے والے موذی مرض کی موجودگی کی جھلک ہے۔اسلاموفوبیاکے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دیاجائے۔مسلمانوں کوسفیدفام پربوجھ قراردے کرنسلی تعصب کوابھاراجارہاہے۔یہ رجحان مغرب تک ہی محدودنہیں رہا۔بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھتی ہے۔بھارت میں گائے کے نام پر مسلمانوں کاقتل عام جاری ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہورہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال معمول بن چکاہے۔ریاست شہریوں کوقتل کررہی ہے اورجنسی تشددکاحربہ ریاستی دہشتی گردی کی پالیسی کے طورپراستعمال کیاجارہاہے۔ سیاسی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی لہرکوروکناہوگا۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکاموگیرنی کاکہناتھا کہ اسلاموفوبیانہ صرف مسلمانوں بلکہ یورپ کے معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردحملوں میں پاکستانی شہیدہوئے ۔ہمیں پاکستانی شہادتوں پرلواحقین کے ساتھ ہمدردی ہے اورمذہبی مقامات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں۔اسلاموفوبیاہمارے لیے بھی مسئلہ ہے ۔ہم ہرقسم کے تشددکی مخالفت اورمذمت کرتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کاآغازبھی مساجدمیں فائرنگ کے واقعات سے ہوا۔پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے اس وقت فرقہ واریت کوہوادی گئی۔ فرقہ واریت کاحربہ ناکام ہونے کے بعدپاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے بہت سے حربے اوربھی استعمال کیے گئے۔دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی نائن الیون کے بعدآئی۔ سری لنکاکے بعدپاکستان دنیاکاواحدملک ہے جس نے ڈیڑھ دہائیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی ۔اب دنیامیں دہشت گردی کی نئی لہرکاآغازبھی نیوزی لینڈ کی مساجدمیں فائرنگ سے ہواہے۔نیوزی لینڈ کے بعد ہالینڈ، برطانیہ اورامریکہ کی مساجد پر بھی حملے ہوچکے ہیں۔عمران خان نے درست کہا کہ دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری اسلام اورمسلمانوں پرڈال دی جاتی رہی۔ مختلف ممالک میں مساجد پرحملے کرنے والوں میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔نائن الیون کے بعدجب اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت اورتعصب کوہوادی جانے لگی توغیرمسلموں میں اسلامی تعلیمات کے مطالعے کامزیدشوق پیداہوا۔جس سے اسلام کی مقبولیت میں اوراضافہ ہوا۔دنیامیں اسلام اورتیزی سے پھیلا۔ کثیرتعدادمیں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ اس وقت ریاستیں اسلام کے خلاف نفرت اورتعصب پھیلانے میں پیش پیش تھیں۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے سانحہ کے بعد ریاست نے مثبت ردعمل کامظاہرہ کیا۔نیوزی لینڈ کے سرکاری میڈیاسے جمعہ کی اذان نشرہوئی۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ نے مساجدمیں دہشت گردی کی وارداتوں کی جامع تحقیقات کااعلان کیاہے۔مختلف ممالک میں مساجدپرحملوں کے بعدعالمی طاقتوں کادہرامعیارمزیدواضح ہوگیاہے۔ یہ بات بھی اب واضح ہوچکی ہے کہ مسلمان دہشت گردنہیں ۔دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں۔ اب دہشت گردی کواسلام اورمسلمانوں سے منسوب کرنے کاسلسلہ بندہوناچاہیے۔ دہشت گردی کی نئی لہرکوروکناعالمی طاقتوں اورعالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اب دیکھنایہ ہے کہ عالمی ادارے اپنی یہ ذمہ داری پورے کرتے ہیں یاحسب سابق حقائق سے چشم پوشی اختیارکرنے کاسلسلہ برقراررکھتے ہیں۔اسلام اورمسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پرعالمی اداروں اورقوتوں کی پراسرارخاموشی یہ واضح کررہی ہے کہ عالمی اداروں کومسلمانوں کے مسائل سے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب انہیں مسلمانوں کودنیامیں رسواکرنے کاموقع ملتاہے۔دنیاکے مختلف ممالک میں مساجدپرحملے کرنے والوں کوکسی ایک عالمی ادارے نے بھی دہشت گردنہیں کہا۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں مسلمانوں کے خلاف ہے۔اسلام اورمسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی یہ نفرت غیرمسلموں کواسلامی تعلیمات کے مطالعے کی طرف راغب کرے گی جس سے اسلام کی مقبولیت میں مزیداضافہ ہوگیا۔اسلام کے تمام ادیان پرغالب ہونے کااللہ کااعلان پوراہونے جارہاہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 296 Articles with 112817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: