نیوزی لینڈ اور ہم

(Saleem Jabbari, )

سانحات کبھی بھی اورکہیں بھی ہوسکتے ہیں مگر اہم یہ ہے کہ کیا ایک معاشرہ یا ریاست اس سے کوئی سبق بھی لیتی ہے یا نہیں۔ سانحات کے بعد کا رد عمل طے کرتا ہے کہ ان میں کس درجے کا اخلاص، ہمدردی اور انسان دوستی ہے ۔ نیوزی لینڈ پر امن ممالک کی فہرست میں پہلے یا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی شر پسند، دہشت گرد کے لیے کارروائی کرنا نہایت آسان تھا کیونکہ سیکیورٹی ادارے زیادہ چوکس نہ تھے۔ بہرحال المناک سانحہ رونما ہوگیا۔بحیثیت اقلیت نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمان شہریوں کے قتل پر اس معاشرے نے جو رد عمل ظاہر کیا اس سے تو یقین اور پختہ ہوجاتا ہے کہ قدرت انہی اقوام کو سرفرازی عطا کرتی ہے جو اخلاقی طور پر دوسری قوموں سے برتر ہوتی ہیں۔ مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا گیا، سب ممبران پارلیمنٹ نے مودبانہ کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کے آخری پیغام ہدایت کی چند آیات مبارکہ کی دلنشین آواز میں تلاوت سنی۔ ان کے سکولوں کے ننھے بچوں تک مسلمانوں سے کاغذوں پر لکھ لکھ کر معافی مانگتے رہے کہ بطور قوم وہ مسلمانوں کی حفاظت نہ کرسکے۔ لوگ مسجدوں میں آکے نمازیوں کی صفوں کے پیچھے رکھوالی کو کھڑے ہوگئے کہ تم بلا جھجک عبادت کرو تمہاری حفاظت کے لیے ہم موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی نے فنڈ فراہمی کا پیج بنایا تو دیکھتے ہی دیکھتے رقوم کے ڈھیر لگ گئے۔ کسی نے کھانے کا پیج بنایا تو چند لمحوں بعد ہی کہنا پڑا اور مت بھیجئے، اب ضرورت سے زائد ہوچکا ہے اور سنبھالنا مشکل ہے ۔

انہوں نے اس دن کہا کہ سیکیورٹی مسائل کے باعث آپ کی اپنی مساجد میں عبادت ممکن نہ ہو توہمارے عبادت خانے اس کے لیے حاضر ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے پرمغز خطاب کیا جو کسی سیاستدان کا کم اور کسی جہاندیدہ، ہمدرد اور احساس رکھنے والے دانشمند کا زیادہ تھا۔اس نے فوراً اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ میری زبان پر کبھی اس دہشت گرد کا نام تک نہ آنے پائے گا مگر میں جان کھو دینے والوں کا نام ضرور لوں گی۔اس کے چہرے پرمسلمانوں کے لیے لکھی کرب کی عبارتیں واضح پڑھی جارہی تھیں۔اس نے فوراً اپنی تہذیبی روایت کے برعکس سر دوپٹے سے ڈھانپا اور مسلم کمیونٹی سے اظہار ہمدردی کے لیے ان کے گھر وں میں جاپہنچی اورگلے مِل مِل کے آنسو بہاتی رہی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جب اس سے پوچھا کہ امریکہ اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہے تو اس نے برملا کہا :’’امریکہ بس مسلمانوں سے اظہار محبت اور ہمدردی کا سلوک روا رکھے‘‘ اور فون بند کردیا۔نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آیندہ جمعہ کا خطبہ اور اذان سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی۔ ان کی پولیس کی بڑی آفسیر نے اپنی گفتگو کا آغاز خطبہ مسنونہ سے کچھ یوں کیاکہ درد کے بوجھ سے اس کی آواز رندھ گئی اور الفاظ گلے میں اٹک کر رہ گئے۔ان کے یہ خوش نما اخلاقی رویے فقط انسانی ہمدردی کی بنا پر تھے جبکہ ہم مسلک،برادری اور سیاسی وابستگی کی بنا پر ان جذبات سے عاری اور باہم برداشت سے تہی داماں ہیں۔اب اس ساری صورت حال کا پاکستان سے موازنہ کیجئے۔ عین اس وقت جب نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی تو پاکستان کی اعلیٰ قیادت کرکٹ میچ کی آڑ میں بپا کئے گئے بے ہنگم جشن سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ حکمران جماعت کا ایک اعلیٰ عہدیدار’’ نچ پنجابن نچ‘‘کی دھن پر تھرک رہا تھا۔ عین اس وقت جب نیوزی لینڈ کی حکومت اس سانحے کو دہشت گردی قرار دے رہی تھی تو پاکستان کا مشہور انگریزی اخبار’’دی ڈان نیوز‘‘ اس سفاک انسان کو فقط ’’شوٹر‘‘ قرار دے رہا تھا۔ وہاں اقلیتوں سے یہ سلوک یہاں کی اکثریت سے روا رکھی جانے والی بدسلوکی کا منہ چڑا رہا تھا۔ ہاں بحرانوں میں قیادت کے رویے کیا ہوتے ہیں یہ ہمیں نیوزی لینڈ سمجھا رہا تھا۔ گھنٹوں جاری رہنے والے اس مادر پدر آزاد جشن کے دوران ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرکے ان شہدا کے خون سے مذاق کیا گیا، اس واقعے سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔

ایک معاصر کے مطابق یہ بھی ثابت ہوا کہ دہشت گرد گورے بھی ہو سکتے ہیں، یہ آسٹریلیا جیسے جدید ترین ملکوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ نیوزی لینڈ جیسے ملکوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں، یہ بھی ثابت ہوا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا شہریت نہیں ہوتی۔یہ لوگ کہیں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا نیوزی لینڈ ہو ،آسٹریلیا ہو یا پھر پاکستان ، دنیا کا کوئی ملک اب محفوظ نہیں، دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مسلمان ہوں یا عیسائی دنیا کے تمام لوگ غیر محفوظ ہیں اور آخری نکتہ دنیا کو اب مسلمانوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی جیسے لوگوں اور ان کے پیروکاروں سے ہے ۔

آئیے دعا کے لیے ہاتھ پھلائیں : یا الٰہی! دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد مسلمانوں کو ایسے روح فرسا سانحات اور پریشانیوں سے محفوظ فرما۔ سفر آخرت کے لیے اچانک بلاوا آجانے پر ندامت اور شرمندگی سے بچنے کے لیے ہمیں زاد راہ کی تیاری کی توفیق عطا ۔ آمین

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
About the Author: Saleem Jabbari

Read More Articles by Saleem Jabbari: 8 Articles with 1506 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: