پاک بھارت کشیدگی اور میرا نظریہ

(Sohail, islamabad)
پاک بھارت کشیدگی اور میرا نظریہ

There Should be no war

تاریخ پاکستان۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔یہ ملک21کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہے۔

اس ملک کا کل رقبہ881،913مربع کلومیٹر(340،509مربع میل)ہے۔یہ ملک 14اگست1947کو مرز وجود
میں آیا۔ اور اس کو پانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

14اکست1947کے بعد جب قائداعظمؒ نے عوام سے یہ خطاب فرمایا :
پاکستانیوں اس ملک کو بنانے کے لیے ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور اس کو قائم رکھنے کے لیے اور بھی قربانیاں دینی ہوں گی۔

یہ وہ نظریہ ہے جو پاکستان کو دے کر گے تھے۔الحمدٗللہ آج پاکستان کے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب اس
نظریہ پر قائم ہے۔اور اپنے ملک پر جان نسار کرنےکے لیے تیار ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی۔
14اگست1947سے لے کر آج تک پاکستان اور بھارت کے حالات کشیدہ ہی رہے ہے۔اپنا وجود حاصل کرنے کے بعد آج تک پاکستان نے چار بڑی جنگیں لڑی ہے ۔

1947 کی جنگ :
پاکستان آزاد ہونے کے بعد پاک بھارت کی کشیدگی کشمیر سے شروع ہوی ۔بادشاہ ہاری سنگھ کی سوچ یہ تھی کہ کشمیر ایک آزاد ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر اؒبھرے لیکن کشمیر کی عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتی تھی۔بادشاہ کی اس سوچ نے کشمیر کو مشکل میں ڈال دیا۔دوسری طرف سے بھارت نے اپنی فوجیں جموں کشمیر میں بیجھ دی تو ادہر سے پاکستان نے بھی دفاع کے تور پر اپنی فوجیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بیجھ کر واہاں کا کنٹرول سبھال لیا۔ اور بھارت جموں کشمیر پر قابض ہو گیا اور پاکستان نے آج تک جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ ماننیں سے انکار کرتا ہے۔

1965کی جنگ:
اس جنگ وجہ یہ تھی کہ 1956میں بھارت نے گجرات کے ایک کنارے پر قابض ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان نے 1965 میں اپنی فوجیں گجرات بیجھی ۔ اس جنگ میں دونوں ملکوں کو ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا تھا۔یہ جنگ 17دن جاری رہی اور یہ دوسری جنگ کہ بعد یہ جنگ ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ تھی۔

امریکہ اور سوویت یونین نے امن اور جنگ بندی پر زور دیتے ہوے امن معاہدے پر دستاخت کروائے گئے اور اس پر برطانیہ کی حکومتوں نے پوزیشنوں کی حمایت نہیں کی۔ اس جنگ میں دونوں کو نقصان جانی اور مالی نقصان ہوا۔

1971کی جنگ:
1971 کی بھارت اور پاکستان جنگ ان ممالک کے درمیان پہلی جنگ تھی جو کشمیر کے علاقے پر جنگ میں شامل نہیں تھے. اس وقت، پاکستان کا ڈومین ویسٹ پاکستان اور مشرقی پاکستان (ابتدائی طور پر مشرقی بنگال) میں تقسیم کیا گیا تھا. یہ دونوں علاقوں بھارت کے بڑے ملک کی طرف سے الگ تھے. مشرق پاکستان نے مغربی پاکستان کی استحصال محسوس کی، جس میں اکثریت سیاسی طاقت تھی. 1971 کے مارچ میں، ایک مشرقی پاکستان کے سیاسی جماعت نے انتخابات جیت لیا، اور مغربی پاکستان نے نتائج کو تسلیم نہیں کیا. یہ فیصلے مشرقی پاکستان میں سیاسی بدامنی کی وجہ سے ہوا اور مغربی پاکستان نے فوجی طاقت کا جواب دیا. بنگلہ دیشی لبریشن جنگ نے مشرقی پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے طور پر آزادی کا اعلان کیا.

بنگلہ دیش میں تشدد کی وجہ سے، اس کے بہت سے باشندوں نے بھارت میں پناہ گزین کی. وزیر اعظم نے ایک آزاد بنگالی ریاست کی حمایت کرتے ہوئے، سول جنگ میں مداخلت کا فیصلہ کیا. کچھ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ تعلقات کی طرف سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے، دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ پناہ گزینوں کی تعداد کو کم کرنا تھا. بنگلہ دیش میں عسکریت پسندوں نے باغی فوجوں کی حمایت شروع کردی، پاکستان نے 1971 کے دسمبر میں ایک بھارتی فوجی اڈے پر حملہ کیا. یہ حملہ جنگ کا سرکاری آغاز تھا.

اس دوران ہم سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا اور بنگلہ دیش کی صورت میں ایک اور ملک بن گیا.

1999کی جنگ:
1999 کے ہندوستانی جنگجو، کارگل جنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مئی اور جولائی کے درمیان. پاکستان کشمیر کے سرحدی علاقے میں کارگل کے ضلع باغیوں میں شامل ہونے کے لئے کشمیر کے سرحدی علاقے میں فوجیوں کو بھیجا جب اس تنازعے کو فروغ دیا. بھارت نے ایک اہم فوجی ردعمل کے ساتھ جواب دیا. بھارتی فوج، ائر فورس کے ساتھ مل کر، کارگل ضلع کی اکثریت کو ہٹا دیا. بین الاقوامی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کو باقی ضلعوں پر اپنے حملے سے دور کرنے پر مجبور کیا گیا تھا. بہت سے ممالک نے تنازعہ شروع کرنے کے لئے پاکستان پر تنقید کی، اور اس کی کمزوری معیشت کو کم سے کم بین الاقوامی تجارت کے خطرے کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا.

کارگل کی اس جنگ میں ہمیں کافی تعداد میں نقصان اؒٹھانا پڑا۔اس جنگ میں کافی تعداد میں فوجی جوان شہید ہوئے۔

میرا نظریہ:
میرے نظریے کے مطابق پاکستان اور بھارت کو آپس میں کشیدگی کو کم کرنا ہوگا۔ہم دونوں ملکوں کو جنگ سے ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے۔جبکہ پاکستان نے کتنی دفعہ امن قائم کرنے کی کوشش کی مگر بھارت سرکار ہر مرتبہ اس کوشش کو رد کرتی رہی۔ پاکستان اور بھارت کی کشیدگی ہالیہ دنوں بھارت پر ہوے پلوامہ کے حملہ کے بعد زور پکڑ گئی۔اور بھارت نے بغیر سوچے اور بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا۔اور اس پر بھی پس نہیں کی ہماری حدود کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی اور26فروری2019کو رات کے وقت بھارت نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور جب پاک فضائیہ نے ان کا تاقب کیا اور بھارتی طیارے ہماری سرحدو پر بمباری کرتے ہوے بھاگ گئے۔اس پر وزیراعظم نے سخت ردے عمل دیا ۔اور اگلی صبح بھارت نے پھر سے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی لیکن اس بار پاک فضائیہ نے منہ تور جواب دیا اور بھارت کے دو طیارے مِگ21مار گرائے۔بھارت کا یہ داہواہ تھا کے اَس نے پاکستان میں جےشے محمد کے اڈو کو تباہ کر دیا ہے مگ سچائی تو یہ ہے کہ واہاں تو ایک کوے اور چند درختوں کو نقصان پہنچا۔پاکستان نے نا صرف بھارت کے طیارے گرائے بلکہ بھارت کا ایک پائلٹ بھی گرفتار کر لیا گیا۔

اب بھارت کو مسلمانوں اور کشمیری عوام پر ظلم ستم بند کرنا ہونگے۔ اگر جنگ کی صورت بنتی ہے تو یہ دونوں ملک ایٹمی طاقت رکھتے ہے۔ اگر ایسا ہوا تو دنیا میں یہ آخری جنگ ہو گئی ۔دنیا سے 90فیصد آبادی کا نام نشان مٹ جائے گا۔ اسی لیے ہمیشہ امن کو ہی موقعہ دینا چاہیئے دیکھا جائے تو دنیا ما جہاں کئی بھی جنگ ہوئی ہے واہاں نقصان ہی ہوا ہے ۔بھارت تو خود دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے۔ اؒس کے اپنے ملک میں اور کشمیر کے مسلمان محفوز نہیں ہیں۔اور اقوام متحدہ جیسے ادارے کو بھی کشمیر،برمااور شام پر جو ظلم مسلمانوں پر ہو رہے ہے یہ اؒن کو نظر نہیں آتے لہذا ہم تمام مسلم ممالک کو اتفاق کرنا ہو گا اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 137 Print Article Print
About the Author: Sohail
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: