کیا جہیز ایک لعنت ہے؟

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ہر چیز میں دو پہلو ہوتے ہیں اچھا بھی اور برا بھی۔اس لئے حتمی طور پر یہ کہہ دینا کہ جہیز ایک لعنت ہے کچھ ٹھیک نہیں۔ جہیز کے لین دین میں بھی دونوں پہلو نظر آتے ہیں۔ یہ ایک مقامی رسم ہے۔ اس علاقے کا کلچر ہے۔ جس نسل نے اس کی ابتدا کی تھی، اس نے یقیناً اس میں خیر کے بہت سے پہلو دیکھے ہونگے۔ میرے خیال میں ان لوگوں نے اسے ایک رحمت جان کر اس کی ابتدا کی تھی اور شاید اک عرصے تک جہیز ایک نعمت تھا، رحمت تھا۔ ایک نیا شادی شدہ جوڑا ایک نئے گھر کی ابتدا کرتا ہے اس نئے گھر کی بہت ساری ضروریات ہوتی ہے۔ رہنے کے لئے کمرا جس میں تھوڑا بہت فرنیچر، بستر چادریں ، پردے وغیرہ، کھانے پینے کے لئے کچھ برتن اور چند دوسری چیزیں۔ جب اس رسم کی ابتدا ہوئی تو یہی تصور تھا کہ چونکہ نیا شادی شدہ جوڑا یہ تھوڑا سا بوجھ بھی برداشت نہیں کر سکتا اس لئے دونوں کے ماں باپ ان کی مدد کر دیتے۔ یہ مدد اتنی ہوتی تھی کہ دونوں کے ماں باپ کو بالکل بوجھ محسوس نہ ہوتا اور یہ سب کام ہنسی خوشی انجام دیا جاتا۔رفتہ رفتہ یہ رسم ایک قبیع شکل اختیار کر گئی ، اس میں نمود کا عنصر زیادہ ہو گیا۔ نمائش عام ہو گئی اور یہ رسم ماں باپ کے لئے ایک جبر کی شکل اختیار کر گئی اسی وجہ سے آج ہم کہتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے۔

ایک اور بہت خوبصورت رسم سلامی کی تھی ۔ میرے بچپن میں شادی کی رسم میں لوگ سلامی گیارہ روپے، اکیس روپے، اکیاون روپے ایک سو ایک روپے جیسی رقمیں دیتے۔ میں نے خود دیکھا ہے لوگ آتے اور حسب توفیق کوئی رقم دولہا یا اس کے باپ کو دیتے۔ اس رقم کا موقع پر باقاعدہ اندراج کیا جاتا۔ گیارہ ، اکیس، اکاون جیسی رقم ، جس میں ایک کی خاص حیثیت تھی ،کی منطق مجھے بہت بعد پتہ چلی۔ مثال کے طور پر ایک غریب رشتہ دار اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایک سو ایک روپیہ سلامی کے طور پر دے دیتا تو دولہا یا دلہن کا باپ یا سرپرست اس کی مالی حالت جانتے ہوئے شادی کے فوری بعد اس میں سے ایک روپیہ رکھ کر بقیہ چپکے سے دینے والے کو واپس کر آتے۔ ایک روپیہ رکھنے کا مطلب تھا کہ دینے والے کی دل آزاری نہ ہو۔ سلامی بھی ہو جاتی اور غریب آدمی پر بوجھ بھی نہ بنتا۔ وہ رقم قرض حسنہ کی طرح ہوتی تھی۔ کوئی اگر سو روپے سلامی وصول کرتا تو دینے والے کے بچے یا بچی کی شادی پر بڑے اہتمام سے اس سے ملتی جلتی رقم اس کی سلامی کی شکل میں لوٹادیتا۔ یہاں تک بھی دیکھا گیا کہ ایک خاندان وسعت اختیار کر گیا اور اپنے کچھ عزیزوں کو نہیں بلا سکا مگر وہ لوگ جنہوں نے سلامی وصول کی ہوتی کسی اور عزیز کے ہاتھ اسے واپس بجھوا دیتے کہ ان کے عزیز کو شادی کے وقت کم سے کم مالی بوجھ محسوس ہو۔ اس وقت شادی بوجھ نہیں بلکہ تمام رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کا مشترکہ فرض سمجھا جاتا تھا۔ ایک دوسرے کا احساس کیا جاتا تھا۔شادی کی تمام رسوم باہمی تعاون سے ادا ہوتی تھیں۔

اسلام میں جہیز کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ جب حضرت علی نے رسول مقبول سے حضرت فاطمہ سے شادی کرنے کی استدعا کی ۔ تو رسول مقبول نے پوچھا، علی تمہارے پاس کیا ہے ۔ حضرت علی نے جواب دیا کہ ایک گھوڑا اور اور اس پر ڈالنے والی کاٹھی یا زین۔ آپ نے کہا کہ کاٹھی بیچ دو اور صرف گھوڑا اپنے پاس رکھو۔ کاٹھی حضرت عثمان نے چار سو اسی درہم میں خریدی۔ ان پیسوں سے رسول کریم کی ہدایت پر حضرت علی نے ایک چارپائی،ایک بستر، ایک چھاگل ایک چکی اور کچھ برتن خریدے۔ یہ جہیز ہرگز نہیں تھا۔یہ حضرت علی کی اپنی ذاتی چیزیں تھیں جو انہوں نے خود خریدیں تھیں۔قران حکیم، فقہ ، حدیث یا کسی بھی دینی کتاب میں جہیز کا ذکر نہیں ملتا۔ رسول کریم نے اپنی چار بیٹیوں کی شادی کی ، کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی چیز جہیز کے نام پر نہیں دی۔

اسلام میں جو ہے وہ مہر ہے جس کا ذکر قران حکیم اور احادیث میں بارہا ملتا ہے۔ اس کی رقم کچھ مقرر نہیں ۔ بس کچھ معقول رقم جو دولہا مناسب سمجھے، اپنی بیوی کونکاح کے وقت تحفتاً دیتا یا دینے کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ رقم قسطوں میں بھی دی جا سکتی ہے۔ وہ رقم جو موقع پر ادا کر دی جائے وہ معجل اور جو بعد میں ا دا کی ا جائے غیر معجل کہلاتی ہے۔ مہر کے لئے کہی یا وعدہ کی گئی رقم کسی صورت میں کم نہیں ہو سکتی۔ یہ دولہا کی طرف سے اپنی دلہن کو شرعاًدیا گیا تحفہ ہے ۔ حضور رسول کریم نے کہا ہے کہ بہترین نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم رقم خرچ کی گئی ہو۔ انگریزی زبان کا لفظ (Dowry) جہیز کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کے لغوی معنیٰ وہ رقم یا چیزیں ہیں جو دلہن اپنے ساتھ شوہر کے پاس لے کر آتی ہے۔ عربی زبان کا ایک لفظ ہے تجہیز Tajheez)) جس کے لغوی معنی ہیں سفر کی تیاری۔ جو چیزیں تیار کی جاتی ہیں انہیں جہازن (Jahazun) کہا جاتا ہے۔ اردو لفظ جہیز وہیں سے نکلا ہے۔ عورت اپنے ماں باپ کے گھر سے ایک نئے گھر کی طرف سفر کرتی ہے اس حوالے سے اس کے ساتھ جانے والا سامان جہیز کہلاتا ہے۔ اسلام عورت کو وراثت سمیت تمام حقوق دیتا ہے۔

ہندو معاشرے میں جہیز کی روایت بہت عام تھی۔ کنیا دان کرتے وقت لڑکی کا باپ یا کوئی بزرگ لڑکی کا ہاتھ لڑکے کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے پاس موجود دنیا کی خوبصورت ترین چیز لڑکے کو دان کر دی ہے دان چیریٹی کے معنوں میں آتا ہے۔ہندوؤں میں چونکہ1956 کے ہندو وراثت ایکٹ سے پہلے عورت کا جائداد میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا اس لئے ماں باپ بچی کو جہیز کی صورت کچھ چیزیں اور رقم دے کر اس کی دلجوئی کرتے تھے۔ ہمارے لوگ چونکہ اسی کلچر میں ان لوگوں کے ساتھ رہے ہیں اس لئے وہ رسوم ہم میں پوری طرح سرایت کر چکی ہیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جہیز اور سلامی دونوں انتہائی قبیع اور فرسودہ رسموں کی شکل اختیار کر چکی ہیں ماں، باپ بیٹی کی شادی کرتے ہوئے جہیز کو لازمی سمجھتے ہیں اس لئے کہ بہت سے بیٹوں والے لوگ گھٹیا پن کی حد جہیز کا مطالبہ کرتے اور جہیز مانگتے شرم بھی محسوس نہیں کرتے ۔وہ لوگ جن کی کئی کئی بیٹیاں ہیں اس رسم کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جاتے ہیں۔یہ رسم کئی گھروں کو برباد کر چکی ہے۔

آج معاشرے میں تعلیم فروغ پا رہی ہے ۔ وہ لوگ جنہیں تعلیم نے ایک اچھا شہری اور ایک اچھا انسان بنایا ہے۔ وہ اس رسم کے حد سے بڑھتے گھناؤنے پن کے سبب اسے لعنت قرار دے رہے ہیں۔ میں ایک ایسے جوڑے کو جانتا ہوں کہ انہوں نے نکاح کے علاوہ کوئی چھوٹی سی رسم بھی نہیں کی۔ ان کو آج چالیس سال ہو گئے ہیں خوش وخرم زندگی گزارتے ہوئے۔ جوان بچے ہیں ۔بہترین پوش علاقے میں شاندار گھر ہے اور اس کے علاوہ رب العزت کی دی ہوئی ہر نعمت ہے۔ ضروری ہے کہ نمود و نمائش سے پرہیز کیا جائے، نوجوان نسل کو اپنے ماں باپ کو کسی صورت مجبور نہیں کرنا چائیے کہ جہیز کی مد میں کچھ رقم یا چیزیں دیں۔خوشی کی بات یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل اس رسم کی بد ترین شکل کے مضمرات کو سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف دٹ جانے کے عزم اظہار کر رہی ہے۔ میری دعائیں ہی نہیں عملی تعاون بھی ان لوگوں کے ساتھ ہے۔ بہت سے حلقوں میں صورت حال پہلے سے بہتر بھی ہو رہی ہے ۔ مگر اس کے باوجود بہت بڑاحلقہ اس رسم سے جڑا ہے۔ نوجوانوں سے میری درخواست ہے اپنے عزم کو جوان رکھیں اور ہمت اور جرات سے اس رسم کے خلاف کام جاری رکھیں ۔ کم سے کم اپنی ذات کی حد تک اپنے حصے کا دیا جلاتے جائیں۔ اس ایمان کے ساتھ کہ یقیناً تبدیلی آئے گی۔(ایک سیمینار میں کہا گیا بیانیہ)۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 150 Print Article Print
About the Author: Tanvir Sadiq
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: