خضر کا کام کر و، راہنما بن جاؤ

(Shafiq Malik, Chakwal)

مدتوں پہلے غالبا ً میٹرک یا انٹر کے سلیبس میں انگلش کی بک میں ایک کہانی ہمیں پڑھائی گئی تھی جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ حضرت ابو بن ادھم ایک مشہور اﷲ والے ہو گذرے ہیں ،نیک لوگ تھے ایک رات تہجد کے بعد باہر باغیچے میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک سفیدنورانی لباس میں ملبوس شخص ایک کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا،ابو بن ادھم ڈرے جھجکے بغیر اس سے مخاطب ہوئے کہ کون ہو اور کیا لکھ رہے ہو نورانی صورت والے نے جواب دیا کہ میں ایک فرشتہ ہوں اور زمانہ موجود کے ان لوگوں کی لسٹ بنا رہا ہوں جو اﷲ سے محبت کرتے ہیں اﷲ کے ولی بولے مجھے بتاو گے کہ اس میں کس کس کا نام ہے فرشتے نے جواب دیا یہ نہیں بتایا جا سکتا کیوں کہ مجھے خود کچھ پتہ نہیں ہوتا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ کس کس کو اس میں شامل کرنا ہے کیوں کہ دلوں کے بھید صرف وہی سب سے بہتر جانتا ہے ،ابوبن ادھم بولے اچھا اتنا بتا دو کیا اس لسٹ میں میرا بھی نام ہے فرشتے نے کاغذ سیدھے کیے بغور جائزہ لیا اور بولا کہ نہیں جناب مجھے افسوس ہے اس میں آپ کا نام نہیں ہے،ابوبن ادھم نے کہا اچھا میرا ایک کام کرو پرور دگار عالم تک میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ جو لوگ اﷲ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں میرا نام اس لسٹ میں ڈال دیں فرشتے نے جی ضرور کہا اورغائب ہو گیا ،کچھ دنوں بعد دوبارہ رات کے وقت یہی معاملہ ہوا اور اسی طرح فرشتہ باغیچے میں کچھ کاغذات ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا،ابو بن ادھم اس کے پاس گئے اور پوچھا کیا کر رہے ہو کہا لسٹ مرتب کر رہا ہوں ان لوگوں کی کہ اﷲ جن سے پیار کرتا ہے ابو بن ادھم نے پوچھا ذرا بتاؤ کیا ان میں میرا نام ہے فرشتے نے لسٹ دیکھی اور بولا کہ جناب آپ کا نام اس لسٹ میں سب سے اوپر ہے،مجھے یہ واقعہ کل یاد اس وقت یاد آیا جب ہم انسانوں کی ایسی بستی میں پہنچے جہاں اس دور میں چار لاکھ آبادی کے شہر میں انسان جانوروں سے بدتر زندگی گذار رہیں جن کے پاس نہانا دھونا تو درکنار پینے کے لیے صاف کیا گندا پانی بھی موجود نہیں ،کنکریٹ کے جنگل میں ٹاٹ اور گھاس کے جھونپڑوں میں بستے انسانوں اور ان کے بچوں کے چہروں پر پھیلی محرومی حسرت و یاس اور بے بسی نے ہمیں دہلا کر رکھ دیا اور کل سے اب تک اﷲ کا بے دریغ شکر ادا کیے جا رہے ہیں ساتھ ہی اپنے مرحوم دوست یونس اعوان اور ان کی فرشتہ سیرت بیوہ کے لیے دل سراپا دعا بنا ہوا ہے ،ماجرہ کچھ یوں ہے کہ مجھے چند روز قبل اپنے اسلام آباد آج نیوز کے آفس سے عتیق عمر سنیئرپروڈیوسر ہفتہ وار پروگرام سیاست سے ذزرا ہٹ کے، کی کال آئی ،وہ ہمہ وقت ایسے موضوعات کی تلاش میں رہتے ہیں جو خالصتاً عوامی ہوں اور ان سے خلق خدا کا براہ راست تعلق ہو،انہوں نے کہا کہ چکوال میں کوئی ایسا موضو ع کوئی ایسا شخص یا ادارہ بتائیں جو انسانیت کی فلاح اور بھلائی کے لیے کام کر رہا ہواور ہم اسے اپنے پروگرام کی زینت بنائیں اور اس پر ایک انٹر نیشنل قسم کی ڈاکو مینٹری بنائیں کیوں آج نیوز بی بی سی کا پروگرام سیربین بھی نشر کرتاہے اور اس میں بھی مخصوص موضوعات کو شامل کیا جاتا ہے،میرا تعلق چونکہ صحافیوں کی بڑی تنظیم الوجود سے ہے جس کا خواب ہمارے مرحوم دوست یونس اعوان صاحب نے دیکھا تھا اورانہوں نے چکوال میں ان لوگوں کے لیے کچھ کرنے کا سوچا جن کا نہ کوئی والی ہے نہ وارث ، ووٹ نہ کوئی شناخت نہ کسی بڑے کے پاس شناختی کارڈ ہے نہ کسی چھوٹے کا فارم ب،یونس اعوان نے ان کے معصوم بچوں کے لیے ایک جگھی اسکول شروع کیا ،یہ اسکول کیا تھا ایک بڑی سی جھگی اور اس میں اکیلا یونس اعوان ایک ٹیچر اور چند گندے مندے بچے،لوگوں نے اول مذاق اڑایا تمسخرانہ انداز اختیار کیا مگر وہ ڈٹا رہا اور چار سے چھ، چھ سے دس اور دس سے پچاس بچے جمع کر لیے یہ بچے بھیک مانگتے تھے مگر یونس اعوان ان کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنا کر اپنی جھگی میں لیکر آیا اور چند مخیر دوستوں کے تعاون سے نہ صرف ان بچوں کی تعلیم و تربیت ان کے کھانے پینے کا بندو بست کیا بلکہ ان کے والدین جو اپنے بچوں کو کسی صورت اسکول یا تعلیم کیلیے بھیجنے پر راضی نہیں تھے کیوں کہ یہ بچے ان کو کما سو دو سو دن کا کما کر یعنی مانگ کر دیتے تھے ان والدین کو ان بچوں کے لیے ماہانہ راشن بیگ کی صورت میں ان کا راشن بھی فراہم کرنا شروع کیا اول ان لوگوں کو بھی کچھ پتہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے مگر آج وہ سب لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر اور رو رو کر یونس اعوان کو دعائیں دیتے ہیں، ایک جھگی میں قائم ہونے والا اسکول اﷲ کے چند نیک بندوں کی وجہ سے ایک شاندار بلڈنگ میں منتقل ہو چکا ہے ،یونس اعوان کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ دار فانی سے کوچ کر گئے ایک دفعہ ان بچوں کولگا کہ اب وہ یتیم ہو چکے ہیں اور دوبارہ مانگنے تانگنے اور بھیک دینے نہ دینے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا مگر آفرین ہے مسز فریدہ یونس کوجنہوں نے اپنی اٹھارویں گریڈ کی سرکاری نوکری کو خیر آباد کہا اور بلا سوچے سمجھے اس میدان میں کود پڑیں اور اپنے مرحوم شوہر کا یہ شاندار کام اپنے ناتواں کندھوں پہ سہار لیا، میں نے اپنی ٹی وی ٹیم کو اسی پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے راضی کیا اور مقررہ دن صبح ساڑھے سات بجے ہم بنجاروں کی ان بستیوں میں پہنچ گئے جہاں سے یہ بچے جھگی اسکول آتے ہیں وہاں جا کر پتہ چلا کہ میڈم فریدہ یونس نے اپنی ایک ٹیچر کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے جو صبح سویرے اپنے گھر سے اٹھ کر اس بستی میں آکر ان بچوں کو تیارکرواتی ہیں اور انہیں اپنے ساتھ لیکر اسکول کی طرف سے فراہم کردہ سواری میں اسکول آتی ہیں اور خود ہی ان کو لیکر واپس گھر بھی چھوڑتی ہیں، ہم نے بچوں کو صبح بے دلی سے اٹھتے ایک نوجوان اور پڑھی لکھی اجلے لباس والی خاتون کو ان گندے مندے بستروں سے بچوں کو نکالتے اور انہیں جلدی جلدی اسکول کے لیے تیار کرنے کا منظر دیکھا اور فلمایا ،بچے تو اپنی ٹیچر ز سے بے پناہ محبت کرتے ہی تھے جو محبت اور تکریم نے ہم نے ان کے والدین کے چہروں پر بچوں کی ٹیچر کے لیے دیکھی وہ لفظون میں بیان کرنا ممکن نہیں،اس کے بعد ہم اس جگہ گئے جہاں پر مرحوم یونس اعوان نے پہلی جھگی بنا کر اس میں اسکو ل قائم کیا تھا ،وہاں نہ پانی ہے نہ بجلی نہ ہی رہنے کے لیے کوئی ڈھنگ کی جگہ ریلوے ٹریک پر یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں آباد ہیں وہاں پر ہمیں اس پروجیکٹ کے کوارڈینٹر چوہدری یاسین اور مسز یونس اعوان نے بھی جائن کیا،ہم نے وہاں کے حالات دیکھے اور جہاں ہم ایک منٹ نہیں رک سکتے تھے وہاں یٰسن چوہدری اور بہن فریدہ یونس کو گھنٹوں اطمینان سے بیٹھے اور ان سے راز و نیاز کی باتیں کرتے دیکھا عورتیں فریدہ یونس کی گرویدہ ہیں تو مرد یٰسن چوہدری کے دیوانے ہیں ،وہ لوگ اپنے مسائل اور بے شمار خاندانی باتیں ان دونوں سے شئیر کرتے رہے جو ککھ بھی ہمارے پلے نہیں پڑا، پلے شاید ان کے بھی نہیں پڑا ہو گا مگر جتنی توجہ اور انہماک سے ان کی باتیں یہ سنتے ہیں اس سے انہیں کم از کم یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہی ہمارے بڑے ہیں اس کے بعد ہم اسکول پہنچے اور بچوں اور ان کی ٹیچرز سے بات چیت کی جنہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کے گھروں میں پانی نہیں ہوتا اس لیے ہم انہیں یہاں ہی نہلاتے دھلاتے ہیں اسکول کی پرنسپل مسز فریدہ یونس نے بتایا کہ جوتوں بستوں اور کتابوں کے علاوہ ڈریس اسکول کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں ، بچوں کو دن کا کھانا اسکول میں فراہم کیا جاتا ہے جس کی ذمہ داریٰسن چوہدری صاحب نے اٹھا رکھی ہے اس کے علاوہ آتا چینی گھی اور دالوں پر مشتمل ایک ایک راشن بیگ بھی ہر ماہ ان کے گھر دیا جاتا ہے جس بیڑہ جناب ریاض بٹ صاحب نے اٹھا رکھا ہے اس اسکول میں پاکستان کرنسی اکیسچینج کے میاں تصور کا بھی بہت ہی اہم کردار ہے، ہم نے دیکھا کہ ان بچوں میں اعتماد کا لیول عام بچوں سے کہیں زیادہ ہے جس کا عملی مظاہر ہ بھی ودیکھا، ان بچوں کو انگریزی اردواور میتھ کے علاوہ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے اس کے علاوہ انہیں معاشرے میں بہترین انسان بنانے کے لیے خصوصاً بچیوں کو دستکاری اور دوسرے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں،بچوں سے جب بات چیت کی گئی تو کہیں بھی نہیں لگا کہ یہ معاشرے کے دھتکارے ہوئے والدین کے بچے ہیں ،بچے اب خود کہتے ہیں کہ اب ہم سے مانگا نہیں جاتا نہ ہم مانگیں گے ہم اور ہمارے والدین میڈم اور ان کے شوہر کے ہمیشہ شکر گذار رہیں گے اسی اسکول سے متعدد بچے بڑی کلاسوں کے لیے گورنمنٹ کے اسکولوں میں جا چکے ہین اور ایک بچی نے اپنے اسکول خان پور میں ٹاپ کیا ہے باقی بچے بھی اسی طرز پر آگے بڑھ رہے ہیں، مگر ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کیا فارم ب کا نہ ہونا ان کی رجسٹریشن ان کے والدین کے شناختی کارڈز کی عدم دستیابی ہے،ہم ان کی عمر کا اندازہ ان کے قد کاٹھ دیکھ کرلگاتے ہیں،پہلے پورے بیج میں یونس اعوان کا نام طور گارڈین لکھا گیا ہے، محترمہ فریدہ یونس نے بتایا کہ یونس صاحب کی وفات کے بعد مجھے لگتا تھا کہ اب بس زندگی ختم ہو گئی مگر جب میں ان کے اس اسکول سے منسلک ہوئی تو لگا کہ شاید قدرت نے ان کے بعد مجھے اس کام کے لیے چنا ہے ،مجھے یہ سارے بچے اپنے بچے لگتے ہیں یہ مجھ سے اور میں ان سے پیار کرتی ہوں ان کے تمام کاموں کا میں خود خیال رکھتی ہوں ،آخر میں ہم دوبارہ ایک اور بستی میں گئے جہاں پر کچھ خواتین کو مرحوم یونس اعوان نے پلان پاکستان سے رکشے لیکر دیے تھے اور وہ خواتین بھی بھیک مانگنا چھوڑ کر اب باعزت زندگی کی تلاش میں ہیں،جب ہم وہاں پہنچے تو شدید سیلن حبس اور گندے ماحول میں سانس تک لینا مشکل ہو رہا تھا ہم باہر ہی کھڑے تھے اور اندر جانے نہ جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ میڈم فریدہ یونس ننگ دھڑنگ بچوں کے جھرمٹ میں ان جھگیوں کے عین درمیان میں پہنچی ہوئی تھیں،ہم بھی بچتے بچاتے ان کے پیچھے پہنچے تو دیکھا کہ وہاں موجود ہر مرد و عورت کی آنکھ سے محترمہ فریدہ کے لیے عجیب محبت اورخلوص جھلک رہا تھا،ان لوگوں نے کہا کہ ہم اسی شہر میں شہر کے وسط میں بیٹھے ہیں ساتھ ٹربائنز موجود ہیں مگر ہمیں پینے کے لیے دس روپے کا ایک کنستر پانی ملتا ہے،نہانے اور برتن دھونے کا ہمارے ہاں کوئی رواج نہیں دین دنیا تو دور کی بات ہے،لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں نہ ہمارے قریب آتے ہیں نہ ہمیں اپنے قریب آنے دیتے ہیں ہمیں کوئی اپنے گھر میں صفائی کے کام پر بھی رکھنے کو تیار نہیں نہ جانے ہمیں اﷲ نے کیوں اور کس لیے اس دنیا میں بھیجا مگر رازق تو وہی ہے رزق بھی دیتا ہے اور یونس اعوان اور ان کی بیگم جیسے فرشتے ہمارے لیے ہی پیدا کر دیے ہیں جنھوں نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم بھی انسان ہیں،ہم نے پروگرام مکمل کیا اور میڈم کا شکریہ ادا کیا ،میں اس وقت سے لیکر اب تک اﷲ کا جہاں شکر ادا کر رہا ہوں کہ ہم پر کتنا کرم اور احسان کیا ہوا ہے وہیں معاشرتی بے حسی ڈھٹائی اور منافقت پر حیران بھی کہ ہم ایک طرف حج پہ حج بلکہ سال میں دو دو بار عمرے کر رہے ہیں،ایک ایک جلوس مجلس ذاکر اور مولوی کو لاکھوں روپے ایک دو گھنٹے کے ادا کر رہے ہیں،تبلیغ کے چلوں چالیسووں اور بیرون کے نام پر سال سال دوسرے ملکوں میں لاکھوں روپے خر چ کر کے اﷲ کو راضی کرنے کی کوشش میں ہیں،پیروں اور درباروں کی نذروں اور منتوں کے لیے کروڑوں روپے ان کے مقبروں پر جھونک رہے ہیں لوگ اپنے پالتو مویشی اور سالانہ فصلیں تک درباروں اور ان کے ملنگوں کی نذر کر رہے ہیں مگر ہماری عین ناک کے نیچے ہم جیسے ہی انسان اﷲ کی مخلوق سسکتے تڑپتے اور بلکتے معصوم بچے جن کے پاس آسمان کے علاوہ سردی گرمی میں کوئی چھت ہی نہیں ہمارے سامنے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں مگر ہمیں پرواہ ہی نہیں،ہم عجیب لوگ ہیں سمجھتے ہیں کہ جس طرح عام افراد کو منافقت سے دھوکا دیا جا سکتا ہے شاید اﷲ کوبھی اسی طرح فریب دینا ممکن ہے ،ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ان کی تعداد لگ بھگ اسی سے نوے لاکھ تک ہے ،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انڈیا میں شودر اور دلت جبکہ بنگلہ دیش میں بہاریوں کے نام پر بیوپار کرنے والوں کواپنے ملک میں یہ شودر اوردلت نظر نہیں آتے،کوئی حکومت ان کی طرف توجہ نہی کرتی کیوں کہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں اور جب شناختی کارڈ نہیں تو ووٹ بھی نہیں اور جب ووٹ نہیں تو یہ ردی اور کچرا ہیں،معاشرے کے ہر فرد جس کو اﷲ نے عزت دولت اور مرتبہ دیا ہے اس سے ان کے بارے میں باز پرس ضرور ہو گی،رہی حکومت تو وہ یاد رکھے اگر عمرؓ جیسے حکمران سے نہر فرات کے کنارے بھوک سے مر جانے والے کتے کے بارے میں باز پرس ہو سکتی ہے تو یہ تو پھر انسان ہیں جو شہروں میں بنے کنکریٹ کے جنگل میں اپنی قسمت اور تقدیر پر نوحہ کناں ہیں،،،،،،اﷲ ہم سب پر رحم کرے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print

Reviews & Comments

Language: