زندگی کا اصل چہرہ

(Ayesha Gulzar Malik, Karachi)

وہ جو کنارے پر کھڑا تھا مجھے اک سہارا دے کر
وہ چھوڑ گیا تھا بیج بھور یوں ہی راہ چلتے چلتے

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جس کی ماں کا انتقال ہو چکا تھا۔ بچپن ہی میں اور وہ اپنے باپ کے ساتھ اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہ رہے تھی۔ ماں کی وہ کبھی بھی بات نہ سنتی اور باپ نے بہت زیادہ لاڈ پیار سے پالا ۔وقت گزرنے کے ساتھ جب وہ بڑی ہوئی تو ان کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تو پھر بھی اس کا باپ جو کما کر لاتا اس کے لیے وہ اس پیسوں سے سگریٹ خریدتا ۔اور دونوں باپ بیٹی مل کے سگریٹ پیتے کہنے کو جو سوتیلی ماں تھی۔ اس نے کبھی بھی باپ بیٹی کے کسی بھی کام میں دخل اندازی نہ کی بلکہ ہمیشہ چپ رہی۔یہ واقعہ بالکل میری آنکھوں دیکھا ہے ۔گھر میں چاہے کھانے کے فاقے ہو جاتے لیکن بیٹی کو ماں کی کمی محسوس نہ ہو۔ اس لیے باپ اس کی ہر جائز اور نا جائز خواہش کو پورا کرتا ۔اس لڑکی سے میری کافی بات چیت تھی تو اس نے مجھے بتایا تھا ۔کہ بچپن میں ہی اس کا رشتہ کسی ایسے لڑکے سے ہو گیا تھا ۔جو لڑکا پاگل تھا تو ان کے رواج میں یہ بات تھی۔ کہ جب لڑکی بڑی ہو جاتی تو وہ اس کی شادی کرنے کے بعد لڑکے والے بیٹی والوں کو باقاعدہ پیسے دیا کرتے تھے۔مگر وہ ہمیشہ مجھے یہ کہتی تھی کہ اس کے ابو سے بہت محبت کرتے ہیں تو وہ یہ رشتہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔کافی عرصے کے بعد جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی شادی اسی لڑکے سے ہوئی ہے جو پاگل تھا اور بچپن سے ہی جس سے اس کا رشتہ طے ہو چکا تھا وہ روتی ہوئی بتا رہی تھی۔ کہ اس نے اپنے ابو کو بہت سمجھایا کہ یہ شادی وہ نہیں کرنا چاہتیں مگر اس کے ابو نے اس کی ایک بات نہ سنی۔ اور پیسے لے کر اس نے اپنی بیٹی کی اس لڑکے سے شادی کر دی اب وہ بہت برے حالات میں زندگی گزار رہی ہے ۔اس کا شوہر تو کوئی کام کر نہیں سکتا۔ اس لیے وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ میرے ابو سے تو اچھی میری سوتیلی ماں تھی ۔جس نے مجھے کبھی کچھ نہ کہا میری سوتیلی ماں مجھے اس حالت میں دیکھ کے روتی ہے ۔اور میرے سگے باپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ باپ جو مجھے تکلیف میں دیکھا نہیں سکتا تھا آج میں اس حالت میں ہو تو پھر بھی وہ بہت مطمئن ہے۔اس کے ان سب باتوں سے میں بھی سوچ میں پڑ گئی کہ کیا وہ محبت صرف غرض کی خاطر تھی۔ کہ اسے اپنی بیٹی کی کوئی بھی تکلیف نظر نہیں آتی ۔کتنی عجیب ہے نا یہ دنیا ساری زندگی جس شخص کاکیا ہے اور پھر ایک جھٹکے میں ہی اپنی نیکی کو دریا میں ڈال دیا ہے یا تو انسان اتنی محبت اتنی عزت نہ دے انسان کو کہ وہ اتنی اونچائی پہ ہوکہ پھر اسے کچھ نظرنہ آئے او کسی پر بھی اعتبار کرنے کے قابل نہ رہے۔ہم سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ رشتوں میں غرض ڈھونڈنے کی بجائے رشتوں کو خلوص سے سوار جائے تو وہ ہی اصل زندگی کا مقصد ہے اور شاید ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں۔وہ بیٹی جو اپنے باپ پر بہت یقین رکھتی تھی ۔جب اس کا یہ یقین مٹی میں ملا ہوگا تو اس پر کیا گزری ہوگی ۔بس آپ سب پڑھنے والے سے درخواست ہے کہ کبھی کسی کا یقین بنو تو اس یقین کو کبھی مت توڑو ۔کیونکہ جب کسی کا یقین ٹوٹتا ہے نہ تو ایک زندہ انسان بھی زندگی سے ہار جاتا ہے ۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ دنیاوالے کس وہم میں جی رہے ہیں ۔اس دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے ۔اور جو لے کر جانا ہے اس کی فکر ہی نہیں ہیں اور جو عارضی ہے ۔اسی کے پیچھے انسان بھاگتا چلا جا رہا ہے۔آج اگر ہم مر جائیں تو ہمارے پاس موجود ہر چیز کسی دوسرے کے پاس چلی جائے گی ہمارے کام بلکل نہیں آئے گی۔ہماری زندگی کا تو کوئی بھروسہ ہی نہیں ہے ۔تو ہم اپنی آنے والی زندگی کو سنوارنے کے چکر میں اپنی اصل زندگی کو بھلائے بیٹھے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ کیا ہم یہ ٹھیک کر رہے ہیں !!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Gulzar Malik

Read More Articles by Ayesha Gulzar Malik: 6 Articles with 2716 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2019 Views: 212

Comments

آپ کی رائے