فضول کی رسمیں

(Ayesha Gulzar Malik, Karachi)

آج لمبے عرصے کے بعد میرا کالج جانا ہوا تو وہاں میری ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی ۔جو دیکھنے میں ایجوکیٹ فیملی سے بلونگ کرتی تھی ۔اس نے بتایا کہ اس کے ابو ڈاکٹر ہیں۔ اور اس کے گھر میں سب پڑھے لکھے ہیں ۔بات چیت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں پوچھا ۔جس میں اس نے مجھے ایک ایسی حیرت انگیز بات بتائی۔اس نے بتایا کہ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس میں لڑکیوں کی شادی صرف اور صرف انہی کے کزنوں کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے خاندان میں نہ تو باہر خاندان سے شادی کی جاتی ہے۔اور اگر کوئی بھی لڑکی کے عمر کا کزن نہ ہو تو اس لڑکی کی شادی ہی نہیں کی جاتی ۔وہ خود بھی ایک ایسی ہی فہرست میں شامل تھی۔اس نے مجھے آگے بتایا کہ اس کی نوکری ایک بینک میں لگ گیا جہاں اس کے لیے ایک لڑکے کا رشتہ باہر سے آیا جس کے لیے گھر والوں کو بہت ناراضگی ہوئی اور انہوں نے وہ نوکری ہی نہیں اسے کرنے دی۔ اور گھر پر بیٹھا دیا آج وہ کسی دوست کے ساتھ گھر والوں سے اجازت لے کر بڑی مشکل سے کالج آئی تھی ۔اور اس کے علاوہ اس نے بتایا کہ ایک اس کی پھوپھو اور ایک اس کی خالہ آج بھی جو ہے وہ ان میں لیڈر ہے یعنی وہ شادی شدہ نہیں ہیں اور ان کی عمر تقریبا 40 سے 45 سال ہو چکی ہیں وہ بس اس وجہ سے کہ ان کی عمر کا کوئی کزن نہیں تھا اور میں نے جب یہ بات سنی تو میں اتنی پریشان ہوئیں اور عجیب سی میری کیفیت تھی میں بیان کیسے کروں کہ وہ مطلب آج کے دور میں اتنے ایجوکیٹ لوگ اس طرح سے کریں تو پھر ہمارا ملک کیسے ترقی کرے اور کس طرح سے آگے بڑھے ۔اور ہمارے دین میں بھی یہ بات واضح لکھی گئی ہے کہ جب بیٹی کا رشتہ کیا جائے تو بیٹی سے پوچھ لیا جائے کہ آپ کو یہ رشتہ پسند ہے کہ نہیں ہے ہمارا دین اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ہمارے آج کےمعاشرے نے اس کو بنا دیا ۔ اپنی جھوٹی رسم و رواج کی وجہ سے آپ کسی کی زندگی خراب کر رہے ہیں چاہے وہ ماں باپ ہے وہ کوئی بھی ہے لیکن اس طرح سے کرنا مطلب سمجھ سے باہر ہے کہ اس کے فادر ڈاکٹر اس کی مددر ایجوکیٹ اس کے گھر میں تمام فیملی ممبرز ایجوکیٹ ہونے کے باوجود ان کے ہاں اتنی خطرناک مطلب فضول کہا جا سکتا ہے کہ کس قسم کے رواج کو پروان چڑھائے ہوئے ہیں وہ لوگ ۔یہ کیسا رواج ہے کہ اگر وہ سندھی ہے تو صرف سندیوں میں جائے گی اگر پنجابی ہے تو صرف پنجابیوں میں جائے گی۔ایک معمولی سی بات ہم نہیں سمجھ سکتے کیا کہ ہم نے جب مرنا ہے تو مرنے کے بعد ہم سے یہ تھوڑی نہ پوچھا جائے گا کہ پنجابی حاضر ہوں سندھی حاضر ہو پختون حاضر ہوں بلوچی حاضر ہوں ایسے تھوڑی نہ ہوگا۔ہم تو دنیا میں مسلمان بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ہمارے دین میں ہر مسلمان ایک دوسرے کا بھائی بھائی ہے ۔ہمارے دین میں ہی یہ بات واضح لکھی گئی ہے تو پھر جب کوئی بیمار پڑتا ہے تو خون کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم خون کسی کا بھی لیں گے۔اپنی ذات سے باہر شادی نہیں کریں گے کیوں آخر خون لیتے وقت کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ بھائی تم سندھی ہو بلوچی یا پشتو ہو ۔پھر تو کسی کو بھی خیال نہیں رہتا اسی طرح ہماری رسم کو بھی ہمیں ختم کرنا چاہئے ۔کیونکہ یہ سب ہمارے دین میں نہیں ہے پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آتا وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ سب بنا کے رکھا ہوا ہے۔ کہ پتا نہیں کون آرائیں ہے راجپوت ہیں فلاہے ۔ یہ سب فضول کی ذات وغیرہ ۔مرنے کے بعد ذات پات سے تھوڑی نہ حساب دینا ہے یہ تو ہمارا سب کچھ بنایا ہوا ہے ۔ ہم جب تک اپنا آج نہیں بدلیں گے ہمارا کل نہیں بدلے گا ۔غیر تعلیم یافتہ لوگ یہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے لیکن پڑھے لکھے لوگ اتنی تعلیم کے باوجود اس طرح کی رسموں کو پروان چڑھائیں تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے کیوں کہ پڑھے لکھے لوگوں نے ہی ہمارے معاشرے کو بدلنا ہے انہیں نے ہمارے معاشرے میں تبدیلی لانی ہیں تاکہ جو غیر تعلیم یافتہ لوگ ہیں وہ اپنے آپ کو بدل سکے.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 240 Print Article Print
About the Author: Ayesha Gulzar Malik

Read More Articles by Ayesha Gulzar Malik: 4 Articles with 703 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Very true Society will change only when we try it ۔
By: Sana Ali, Lahore on Apr, 17 2019
Reply Reply
0 Like
Language: