شبِ برأت کے فضائل و برکات

(Nadeem Ahmed Ansari, India)

شب ِ برا ء ت دولفظوں سے مرکب ہے:(۱)شب اور (۲)برا ء ت۔’شب‘ فارسی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مطلب ہے ’رات‘ اور براء ت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ’چھٹکارا‘۔ (اللغات الکشوری)حدیث کے مطابق چوں کہ اس رات میں بے شمار گناہ گار وں کی مغفرت اور مجرموں کی بخشش ہوتی ہے اور عذابِ جہنم سے چھٹکارا اور نجات ملتی ہے، اس لیے عرف میں اس رات کا نام ’شبِ براء ت‘ مشہور ہوگیا،البتہ! حدیث شریف میں اس رات کا کوئی مخصوص نام نہیں آیا، بلکہ لیلۃ النصف من شعبانیعنی شعبان کی درمیانی شب کہہ کر
اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ (الفضائل والاحکام للشھور والایام)

شبِ برا ت میں کیاکیالکھا جاتاہے؟
امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ حضرت نبیٔ اکرمﷺ نے( مجھ سے )فرمایا : کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں شب میں کیا کیا ہوتاہے؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا: کیاکیاہوتاہے اس رات میں اے اﷲ کے رسول ؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اولاد ِ آدم میں سے جو لوگ اس سال میں پیدا ہونے والے ہیں وہ سب اس رات میں لکھے جاتے ہیں ،اور اولاد آدم میں سے جولوگ اس سال میں مرنے والے ہیں وہ سب اس رات میں لکھے جاتے ہیں ، اور اس رات میں لوگوں کے اعمال اٹھا ئے جاتے ہیں ،اور اسی رات میں ان کے رزق اتارے جاتے ہیں۔ (حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہ سن کر)میں نے عر ض کیا: اے اﷲ کے رسول!اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا؟ آپ ﷺفرمایا :نہیں ۔اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔ آپﷺ نے یہ الفاظ تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ ﷺبھی نہیں اے اﷲ کے رسول؟(یہ سن کر)آنحضرتﷺنے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : نہیں (میں بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گا)، مگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مجھ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ۔یہ الفاظ بھی آنحضرت نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔ (مشکوۃ)

شبِ برات میں سرِ شام نزولِ الٰہی
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اﷲ سبحانہ تعالیٰ ، ہر شب آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور یہ رات کے آخری تیسرے حصے میں ہوتاہے لیکن پندرہویں شعبان کی شب میں اﷲ تعالیٰ کا یہ نزول رات کے آخری تیسرے حصے میں منحصر نہیں بلکہ سرِشام مغرب ہی کے وقت سے صبح صادق تک آسمانِ دنیاپر نزولِ اجلال فرماتے ہیں اور اسی وجہ سے پندرہویں شعبان کی یہ فضیلت وبرتری ہے۔ (ماثبت بالسنۃ،مجالس الابرار)

شبِ قدر کے بعد افضل شب
ابن ماجہ میں ابی موسیؓ کی زبانی مرقوم ہے کہ کوئی رات، شبِ قدر کے بعد پندرھویں شعبان کی شب سے زیادہ افضل نہیں ہے۔ رواہ ابن ماجۃ عن ابی موسیٰ ما من لیلۃ بعد لیلۃ القدر افضل من لیلۃ النصف من شعبان۔(ما ثبت بالسنۃ)

شبِ برات اورعلما
شام کے تابعی مثلاًخالدبن سعدان ؒ ،مکحولؒ اورلقمان بن عامرؒ وغیرہ اس رات کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اس رات میں عبادت کی بہت کوششیں کرتے تھے۔ (مجالس الابرار)امام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ بھی اس رات کی فضیلت کے قائل ہیں۔(فتاویٰ ابن تیمیہ)

شبِ برا ت کی دعا
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲﷺ کو شبِ براء ت میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا :اَللّٰھُمَّ أعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ ، وَأعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَ أعُوْذُ بِکَ مِنْکَ إلَیْکَ،لآ أُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ کَمَا أثْنَیْتَ عَلیٰ نَفْسِکَ۔اے اﷲ! میں آپ کی پکڑ سے آپ کی درگزر کی پناہ مانگتا ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے آپ کی رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں، اور آپ سے آپ ہی کی پناہ مانگتا ہوں، میں آپ کی مکمل حمد وثنا نہیں کرسکتا، آپ کی شان تو وہی ہے، جو خود آپ نے بیان فرمائی ہے۔(شعب الایمان،الترغیب والترہیب)

پندرہویں شعبان میں قیام وصیام
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا : جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتواس میں قیام کرواور اس کے دن میں روزہ رکھو ، اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ اس رات میں غروبِ آفتاب ہی سے آسمانِ دنیا پر( اپنی شان کے موافق )نزول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ ’ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں ؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اس کو روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت میں مبتلاکہ میں اس کو عافیت دوں ؟ اسی طرح اور بھی ندائیں جاری رہتی ہیں ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو‘۔ (رواہ ابن ماجہ،الترغیب والترہیب)
٭٭٭٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 516 Print Article Print
About the Author: Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Read More Articles by Maulana Nadeem Ahmed Ansari: 143 Articles with 70141 views »
(M.A., Journalist).. View More

Reviews & Comments

Aoa
Maulana SB hm janana chahta hn k kin timings mn Quran e pak ki tilawat ni krna change.
By: Moeez, Lahore on Apr, 17 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ