تعلیم اور سیاسی تنظیمیں‎

(Ahsan Safder, Karachi)

پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں جس کی ایک اہم وجہ سیاسی تنظیمیں بھی ہیں جو کہ طلبہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کرتی ہیں اور زبردستی اپنی تنظیم میں شامل ہوجانے کا کہتیں ہیں جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ کالج اور یونیورسٹیوں سے دور رہ کر پراءیوٹ پڑتے ہیں تاکہ کسی بھی تنظیم میں شامل ہونے سے بچ سکے کیونکہ ہر طلب علم کسی تنظیم کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور ویسے بھی کالج اور یونیورسٹیاں تعلیم حاصل کرنے کی جگہ ہیں اور ہر والدین اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں تعلیم ہی حاصل کرنے بھیجتے ہیں کسی بھی تنظم کا حصہ بننے کے لیے نہیں بھیجتے.اگر تعلیم اور سیاست کو الگ الگ رکھا جاۓ تو زیادہ بہتر ہوگا اور زیادہ سے زیادہ طلبہ کالج اور یونیورسٹیوں کا رخ کریں گے اور تعلیم کے میدان میں آگے سے آگے بڑے گے کیونکہ ایک تعلیمی ادارہ ہمیں اچھی طرح پڑھا سکتا ہے اور سیکھا سکتا ہےجو ہم گھر بیٹھ کر نہیں سیکھ سکتے.زیادہ تر طلبہ آج کل صرف کالج و یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں اورجاب شروع کر دیتے ہیں روزانہ پابندی کے ساتھ کالج و یونیورسٹی نہیں جاتے اور صرف پیپر دینے جاتے ہیں.کچھ طلبہ کی جاب کرنا مجبوری ہوسکتا ہے لیکن تمام طلبہ کالج و یونیورسٹی سے غیر حاضر رہے یہ غلط ہے.بہت سے طلبہ اس لیے بھی کالج و یونیورسٹی نہیں جاتے کہ تنظیمیں ان کو پریشان نہ کریں کیونکہ ایک کالج و یونیورسٹی میں کوئ ایک تنظیم تو ہوتی نہیں تین یا چار ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ متذبذب رہتا ہے کہ کس تنظیم کا حصہ بنے اور کس تنظیم کا نہیں. کالج و یونیورسٹی میں تنظیموں کا آپس میں جھگڑا اور فساد سے بھی طلبہ خوف و حراس کا شکار ہوجاتے ہیں جب کسی دو گروپوں میں تصادم کے نتیجے میں کوئ عام طلبہ ان کے درمیان آجاتا ہے اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.مجھے تو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئ کے مختلف تنظیموں کے طلبہ ایک دوسرے کو کیونکر مارتے ہیں اپنے ہی لوگوں کو مار کر کیا ملتا ہے .ہمارے ایوان بالا اس طرف توجہ ہی نہیں دیتے ہیں کہ کالج و یونیورسٹی طلبہ پڑنے جاتے ہیں مختلف تنظیموں کے روزروز کے تماشے دکھنےنہیں.میں چاہتی ہوں کہ ہمارے ملک کے تمام کالج و یونیورسٹی سے سیاسی تنظیموں کا خاتمہ ہو تاکہ طلبہ آرام و سکون اور بغیر کسی خوف و حراس کے تعلیم حاصل کر سکے اور ملک کا نام روشن کر سکے لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے جب کوئ بھی طلبہ پر سکون ماحول میں تعلیم حاصل کرے گااس پر سکون ماحول کے لیے ضروری ہے کہ کالج و یونیورسٹی سے تنظیموں کو نکالا جاۓ.(فروا علی,طلب علم بی ایس آئ آر)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahsan Safder

Read More Articles by Ahsan Safder: 5 Articles with 1072 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2019 Views: 263

Comments

آپ کی رائے