منشیات اور نوجوان نسل

(Zarmeen Yousuf khan, )

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و شعور سے نوازا ہے ۔لیکن ہم انسان ہی اسکا بھرپور استعمال نہیں کرتے۔ ہر شخص اپنے ذاتی اور معاشی فکر میں الجھا ہوا ہےکہ اس کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ نوجوان نسل کے منشیات کی طرف بڑھتے ہوے رجحان کو روک سکے۔بد قسمتی سے ہم ایک ایسے دلدل میں دھستے چلے جا رہے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔افسوس صد افسوس ہمیں اسکا احساس تک نہیں ہے۔بحثیت ایک پاکستانی میرے درد کی شدّت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے۔جب گھر سے باہر نکلتے ہی میری نظر قوم کے نوجوان نسل پر پڑتی ہے۔جو ہتھیار اٹھائے سرے عام منشیات کے اڈو پر بیٹھ کر کم عمری میں اپنی زندگی کو برباد کر رہے ہیں حلانکہ یہ وہ عمر ہے جس میں وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دوسروں کے سامنے لا سکتے ہیں اور اپنے آپ کو منوا سکتے ہیں ۔ نوجوانوں کو منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر شدید کرب اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے کہ کاش کہ میرے ملک کے یہ نوجوان اقبال کہ شاہین بن سکیں۔ہمارا شہر کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔لیکن آج یہ منشیات فروش اور گینگ وار کے نام سے منسوب ہے۔شہرے کراچی میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ہر کوئی اپنی زبان اور طبقے کی اجارہ داری چاہتا ہے ۔جسکی وجہ سے شہریوں کو نہایت دشواری کا سامنا ہے۔

اسکے ساتھ ہی لوگ زہنی انتشار احساس محرومی اور غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا ہو رہے ہیں۔جس سے فرار حاصل کرنے کہ لئے لوگ منشیات کا بیدریغ استعمال کر رہے ہیں اور صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ منشیات سے مراد ایسی چیزیں ہیں جنکے استعمال سے سرور کی کیفیت دنیا سے بینیازی اور بے خودی،نیند ،بے ہوشی ،مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جاتا ہے۔شروع شروع میں سکون اور فرحت محسوس کرتا ہے ۔درحقیقت نشہ جب بڑھ جاتا ہے تو بیچین کر دیتا ہے۔اس کہ حصول کہ لئے کچھ بھی کرتا ہے۔اسکی ذندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے۔یہ دماغ میں فتور پیدا کر کہ عقل کو قتل کر دیتا ہے۔
ہماری نوجوان نسل کی اس حالت کا ذمدار کون ؟منشیات جیسی لعنت نوجوان نسل کو کھوکلا کر رہی ہے ؟اس برائی کا ذمدار کون ہے ؟وہ کون سے ملک دشمن عناصر ہیں جو ان منشیات فروشوں کو تحفظ دے کر ملک کہ نوجوان کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر انکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو برباد کر رہے ہیں ۔حکومت اگر سنجیدہ ہو تو منشیات کا کاروبار بند کروا سکتی ہے لیکن اسے اپنے دوسرے دھندھوں سے فرصت نہیں ۔گھروں میں والدین نے انہے بالکل کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ایسے نوجوان جنھیں ہیروئن یا چرس نہیں مل پاتی وہ ادویات کے پورے پورے پیکٹ خرید لیتے ہیں اور ایک وقت میں آٹھ آٹھ دس دس گولیاں کھا کر نشہ پورا کرتے ہیں یہاں کوئی قاعدے اور قوانین نہیں ہیں ۔یہاں کیمسٹ حضرات ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نشہ آور ادویات فروخت کرتے ہیں ۔عام طور پر نشہ آور مرد حضرات ازداوجی ذندگی میں تلخیوں کا سامنا بھی کرتے ہیں نشئی حضرات کو کوئی عزت کی نظر سے نہیں دیکھتا سب اسے تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کے لڑکیاں بھی نشہ کرنے لگی ہے یہ لت دولت مند گھرانوں کے لڑکے لڑکیوں کو زیادہ ہے کیوں کہ پیسہ ان کے لئے کوئی پرابلم نہیں ہوتا اور نشہ بیچنے والے ایسے ہی امیر گھرانوں کے نوجوانوں کو پھساتے ہیں ۔

پچھلے دنوں حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں طلبہ علموں کا خون ٹیسٹ کیا جائے گا اگر ان میں سے کسی کے خون میں نشہ پایا گیا تو اسکا علاج ہوگا ۔لیکن یہ وعدہ محض وعدہ ہی رہا بالکل ویسا ہی جیسے لوڈشیدڈنگ کے لئے کیا گیا تھا کے وہ سال میں ختم کر دی جائی گی ۔نشہ نسلوں کو کھا جاتا ہے ہیروئن بیچنے والے کسی ایک کو آسان ٹارگٹ بنا لیتے ہیں پہلے اسے فری سیگریٹ دے کر پھر مفت کا لالچ دے کر فروخت کرتے ہیں اور مزید گاہک تلاش کرنے کا بھی کہتے ہیں ۔آخر میں یہ نشہ موت کو گلے لگا لیتا ہے ۔

والدین کو چاہیے کہ وہ از خود نوٹس لیں اور بچوں پر کڑی نظر رکھیں ۔انکی مصروفیات ،دوستوں کا حلقہ ،اور دیگر مقامات پر جہاں وہ جاتے ہیں ۔

اگر بیٹا یا بیٹی کا پتا چل جائے کے وہ نشہ کرتا ہے تو اسے علاج کے لئے ڈاکٹر کے سپرد کریں اور دوستانہ رویہ رکھیں ۔اسے زندگی کی اہمیت بتائے ۔طعنہ زنی نہ کریں ۔اس طرح وہ تنہا رہ جائیگا اور منشیات میں ہی اپنی پناہ تلاش کرے گا ۔کاونسلنگ سے اسکا بھروسہ بحال ہوگا اور وہ علاج میں بھی تعاون کرے گا ۔علاج لمبا ہے طویل ہے لیکن نا ممکن نہیں ۔آج کل ماں باپ نے اپنے بچوں کو بالکل اکیلا چھوڑ دیا ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کے تعلیمی اداروں میں بھرتی کے بعد وہ اپنے فرائض سے فارغ ہو گئے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ اولاد کے نوجوان ہونے کے بعد ان کی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اساتذہ بھی اپنا رول ٹھیک طریقے سے سر انجام نہیں دے رہے اس طرح والدین کی ذمہ داریاں بھی مزید بڑھ جاتی ہے ۔

اگر آج بھی ہم مل کر اس برائی سے نجات حاصل نہیں کریں گے تو منشیات کے چنگل میں ہماری نسلیں دھستی چلی جائی گی ۔آج بھی وقت ہے ہمیں اس برائی سے بچنے کے لئے اقدامات کرنے چائیے ۔

طاقت سے بھرپور نوجوان زندگی کا شباب ہے بالکل چڑھتے ہوے سورج کی مانند ۔ہماری تمام امیدیں نوجوانوں سے وابستہ ہے ۔آج اگر یہ نوجوان نسل اپنی اہمیت سمجھ لیں ۔اور اپنے ہوش و ہواس اور نفس پر قابو پا لے تو بہت جلد اپنے مسائل کو حل کر سکتی ہے ۔
بس ذرا سوچنے کی بات ہے ۔۔۔!!!
کسی عالِم نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔
"جس قوم کے نوجوان سو جاتے ہیں اس قوم کی قسمت سو جاتی ہے "۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 380 Print Article Print
About the Author: Zarmeen Yousuf khan

Read More Articles by Zarmeen Yousuf khan: 5 Articles with 1491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: