تبدیلی کے منتظر

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ڈبل سڑک پر ٹریفک اپنی اپنی سمت میں تیزی سے رواں تھی۔سڑک کے دائیں طرف ایک لمبی دیوار تھی اور بائیں طرف بہت سی دکانیں ۔ ان دکانوں کے آگے ایک شخص اپنی ریڑھی پر کانجی بیچ رہا تھا۔ ریڑھی کے ارد گرد تین چار گاہک کھڑے تھے اور کانجی پی رہے تھے۔ایک منی ٹرک سامنے کی طرف سے دوسری سڑک پر آ رہا تھا۔ ٹرک والے کو انہی دکانوں سے کچھ لینا تھا۔ سڑک کے ایک طرف سے دوسری طرف آنے کے لئے سڑک کے درمیان کٹ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہیں۔منی ٹرک والے نے بجائے صحیح انداز میں اگلے کٹ سے مڑ کر آنے کی بجائے قریبی کٹ سے سڑک عبور کی اور چلتی ٹریفک کے مخالف سڑک کے کنارے فٹ پاتھ والے حصے پرغلط ٹرک چلاتا دکانوں کی طرف آنے لگا۔آگے کانجی والے کی رہڑی تھی۔ اس نے زور زور سے ہارن بجایامگر رہڑی والے اپنے گاہکوں میں مصروف تھا۔ اسے سب سمیٹنے میں کچھ وقت درکار تھا۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ دو منٹ انتظار کرو۔ ابھی راستہ دیتا ہوں۔

منی ٹرک میں اتفاق سے اس ٹرک کا نوجوان مالک اور اس کے دو تین ملازم بھی موجود تھے۔نوجوانی کے اپنے طور طریقے ہیں۔ خصوصاً اس ملک میں نوجوانی اور پیسہ دونوں مل جائیں تو تھوڑا پاگل پن تو طبیعت کا خاصہ بن جاتا ہے۔نوجوان مالک نے دیکھا کہ گستاخ رہڑی والا ، ہٹنے میں دیر کر رہا ہے تو ٹرک سے نیچے اترا۔ پہلے رہڑی والے کو گالیاں دیں۔ پھر جوش میں اس کے مٹکے کو رہڑی سے نیچے پھینک دیا۔لال لال اور سرخ سرخ ،لہو رنگ کانجی سڑک پر یوں پھیل گئی جیسے وہاں زبردست کشت و خون ہوا ہو۔ ملازموں نے مالک کو مستی میں دیکھا تووہ کیوں پیچھے رہتے۔ انہوں نے رہڑی کا ایک پہیہ توڑ دیا۔رہڑی والا جس کی کل پونجی وہ رہڑی اور کانجی تھی، اس طرح خود کو لٹتے دیکھ کو ٹرک مالک سے الجھ گیا۔ اس کے گاہکوں نے بھی اس زیادتی پر اس کا ساتھ دیا۔زبردست لڑائی شروع ہو گئی۔ ایک طرف ٹرک مالک اور اس کے ملازم، دوسری طرف کانجی والا اور اس کے گاہک۔ ایک دو لوگوں کے سر بھی پھٹ گئے ۔ ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ جس نے بڑی مشکل سے دونوں کو قابو کیا، خاص طور پر ٹرک مالک اور اس کے کارندوں کو۔
ایک پراپرٹی ڈیلر کی دکان میں دونوں فریقوں کو بٹھایا گیا۔ پنچایت شروع ہو گئی۔ سب نے نوجوان ٹرک مالک کو قصوروار ٹھہرایا اور اسے اس کی زیادتی کا ازالہ کرنے کو کہا۔ٹرک مالک بضد تھا کہ اس کا قصور نہیں ، وہ پولیس کو بلاتا ہے تھانے جا کر فیصلہ ہو گا۔اس کے خیال میں رہڑی والے نے رستہ نہ دے کر جو جرم عظیم کیا تھا فقظ اس کی سزا اسے دی ہے تو کیا برا کیا ہے۔ وہ بتانے لگا کہ اس کے کئی ٹرک ہیں اور وہ بہت بڑا ٹرانسپورٹر ہے ۔ اس کے علاقے میں کسی کی اتنی جرات نہیں کہ اسے راستہ نہ دے۔ اس رہڑی والے نے کیوں یہ جرات کی۔ اسے اندازہ تھا کہ پولیس ہر حال میں اس کا ساتھ دے گی۔کافی کوشش کے باوجود ٹرک مالک نہ مانا اور پولیس کو بلانے پر بضد تھا۔فیصلہ کرنے والے سمجھ گئے کہ ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے اس کا پولیس سے کھلا رابطہ ہے اس لئے وہ پولیس کی مدد چاہتا ہے۔انہوں نے اس کا فون چھینا اور اسے پچھلے کمرے میں بند کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ تین چار بندوں کو کہا کہ بند کرنے کے بعد اسے اچھی طرح دھو بھی دیا جائے۔ ٹرک مالک کو کچھ اندازہ ہو گیاکہ صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ چنانچہ مجبوری میں اس نے احتجاجاً رہڑی والے کے نقصان کا پنچایت کے کہنے کے مطابق ازالہ کیا اور جان چھڑائی۔ لوگ خوش تھے کہ پولیس اگر مداخلت کرتی تو پولیس کو تو بہت کچھ مل جاتا مگر اس غریب رہڑی والے کو کچھ نہ ملتا۔

اسی دن ایک دوسرا واقعہ بھی نظر سے گزرا۔ ایک نوجوان بڑے ڈھرلے سے گول چکر پر ٹریفک کے مخالف موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ ایک کار تیزی سے گول چکر پر آئی۔ کار والے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موٹر سائیکل والا ایسے بھی آ سکتا ہے۔ اس نے زور دار بریک لگائی مگر رکتے رکتے گاڑی نے موٹر سائیکل کو چھو لیا۔پرانی سی خستہ حال موٹر سائیکل نوجوان سوار سمیت نیچے گر گئی۔ سوار اٹھا اور تیزی سے آ کر گاڑی کے آگے بیٹھ گیا۔ جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے فوری پہنچنے کا کہا۔موبائل واپس جیب میں ڈالا اور زور زور سے واویلا شروع کر دیا۔ـ’’غریب کو مار دیا۔ گاڑی دیکھ کر نہیں چلاتے، انسان کو انسان نہیں سمجھتے۔ میری موٹر سائیکل تباہ کر دی، کوئی ان سے پوچھے، اندھے تھے کیا جو غریب کو مار دیا۔ غریب کو تباہ کر دیا‘‘۔گاڑی کا ڈرائیور جو درمیانی عمر کا ایک آدمی تھا۔گاڑی سے باہر آ کر اس کے پاس کھڑا اس کا واویلا سن رہا تھا۔ اس کی بیوی گاڑی ہی میں بیٹھی تھی۔گاڑی والے نے اس لڑکے سے کہا،’’بیٹا قصور تمہارا ہے ، شکر کرو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ موٹر سائیکل تو پہلے ہی بہت خستہ حالت میں ہے اسے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اتنے میں بیس پچیس لڑکے ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے نمودار ہوئے ۔ آتے ہی انہوں نے لڑکے سے سوال کیا، ’’ کس گاڑی نے ٹکر ماری ہے، یہی گاڑی ہے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے گاڑی پر چند لاٹھیاں چلا دیں۔گاڑی والا پریشان ہو گیا۔ چند لوگ جو گاڑی والے کی حمایت کر رہے تھے، لاٹھی بردار ہجوم کو دیکھ کر موقع سے غائب ہو گئے۔ ہجوم میں ایک لڑکے نے سب کو منع کیا اور گاڑی والے کو کہنے لگاکہ غریب آدمی ہے، تھوڑی مدد کرکے اپنی جان چھڑائیں۔ آپ صرف پانچ سات ہزار اسے دے دیں اور مزے سے جائیں۔

کس چیز کے پانچ سات ہزار دوں ، غلطی اس کی ہے اور سزامیں بھگتوں۔ گاڑی والا اکڑ گیا۔ہجوم نعرے بازی کرنے لگا۔ پتہ چلا کہ لڑکے سمیت وہ سارے لوگ قریبی آبادی کے رہائشی ہیں اور لڑکے نے ڈرامہ رچانے کے لئے فون کرکے انہیں بلایا ہے۔ گاڑی والے کی بیگم پولیس کو بار بار فون کر رہی تھی مگر پولیس کا دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔لڑکا لگاتار شور مچا رہا تھا کہ گاڑیوں والے امیر لوگ غریبوں کو مار جاتے ہیں اور کوئی نہیں سنتا۔ عقل سے پیدل بہت سی مخلوق غریبی کی ہمدرد تھی۔ کوئی بھی دیانتداری سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ پرانی سی گاڑی تھی جو آج عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ہجوم نے گاڑی والے کو دھکے دینے اور گاڑی پر لاٹھیا ں مارنی شروع کر دیں۔ گاڑی والا اپنی جگہ بضد تھا کہ میرا قصور نہیں۔ اس صورت حال میں اس کی بیگم گاڑی سے نکلی اور اس نے کچھ لڑکوں سے بات کی ،کہ بیٹا ہم بھی غریب لوگ ہیں کچھ خیال کرو۔تھوڑی بات چیت کے بعد اس نے اپنے پرس سے دوہزار نکالے ،ان لڑکوں کو دئیے، مدد کا کہا اور میاں کا بازو پکڑ کر اسے گاڑی میں بٹھایا اور چلانے کا کہا۔ جن لڑکوں نے پیسے پکڑے تھے، انہوں نے راستہ دیا اور یوں ان کی جان چھٹ گئی۔

چند سال پہلے میں چین کی ایک مارکیٹ میں موجود تھا۔ وہاں دو گروپوں میں لڑائی ہو گئی۔ دونوں طرف کے مرد اور عورتیں باہر نکل کر ایک دوسرے کو کوس رہے تھے۔ اس قدر شور اور ہنگامہ تھا کہ مجھے لگا ابھی سخت لڑائی کے نتیجے میں کئی زخمی اور کئی شدیدزخمی نظر آئیں گے۔میں نے اپنے چائینیز دوست کو کہا کہ بہتر ہے یہاں سے نکل جائیں ۔جواب ملا مگر کیوں۔میں نے کہا کہ کس قدر ہنگامہ ہے مجھے لگتا ہے کہ لڑائی پھیل گئی تو ہم بھی اس کی زد میں نہ آ جائیں۔وہ ہنسا اور کہنے لگا۔ یہ لڑائی فقط اس شور تک محدود ہے ابھی سب اپنی اپنی دکانوں میں واپس چلے جائیں گے۔ یہاں مار پیٹ کا کوئی تصور نہیں کیونکہ جس نے ایسی غلطی کی وہ کئی سال عذاب اور قید میں گزارے گا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہاں قانون بھی ہے اور انصاف بھی۔ ذیادتی کرنے والا بچ نہیں سکتا۔زیادتی اور ڈھٹائی یہ صرف ہماری اشرافیہ کاوصف ہے۔
یورپ میں ایک سڑک پر دو گاڑیاں ٹکرا گیئں۔ دونوں ڈرائیور تیزی سے گاڑیوں سے نکلے۔ایک دوسرے کی گاڑی کو چیک کیا۔آپس میں اپنی گلطی کی معذرت کی۔پھر کہیں فون کیا اور آپس میں گپیں لگانے لگے۔ میں حیران دیکھ رہا تھا کسی نے دوسرے پر الزام نہیں دیا۔ معذرت کے بعد بڑے سکون سے آپس میں گپ شپ میں مصروف ہیں۔ چند منٹ مین کچھ لوگ آئے۔ پتہ چلا کہ انشورنس کمپنی والے ہیں۔ انہوں نے گاڑیوں کا معائنہ کیا۔ فون کرکے متبادل گاڑیاں منگوائیں ۔ دونوں حضرات کے سپرد کیں کہ ان کے کام کا حرج نہ ہو اور سب اپنی اپنی راہ چل دئیے۔ وہاں لوگوں کو احساس بھی ہے شعور بھی۔ سڑک پر چلتی گاڑی کسی وقت حادثے کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا حل انشورنس ہے ، لڑائی جھگڑا نہیں۔ وہاں کی انشورنس کمپنیاں بھی واقعی انشورنس کمپنیاں ہیں ہماری طرح فراڈ کمپنیاں نہیں۔ حکومت کی ہر چیز پر پوری گرفت ہے ۔ وہاں عوام کی عزت اور قدر ہے۔ بے توقیری صرف ہمارے حصے میں آئی ہے۔

میں سوچ رہا تھاکہ آخر کب تک ہمارا یہ نظام اسی طبقاتی ڈگر پر چلتا رہے گا۔ ہمیں کب عقل آئے گی۔ ہم شعور سے کب آشنا ہونگے۔ہمارا نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی، کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ہمارے جج بڑے نیک ہوں یا انتہائی پرہیز گا۔ ہمارے بیوروکریٹ کرپٹ ہوں یا ایماندار۔ اس معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک ہم ہر چیز کو معیاری بنانا نہیں سیکھیں گے۔ہماری زیادہ پارلیمان انتہائی کم پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں سیاست کی ابجدکا بھی پتہ نہیں ، سیاست کے بنیادی وصف ،عوام کی خدمت ،سے وہ واقف ہی نہیں۔ عوام کی پسندیدگی تو کوئی معیار نہیں، بنیادی معیار مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری عدلیہ سیاسی وکیلوں پر مشتمل ہے جن کی عملاً پریکٹس بہت معمولی ہوتی ہے، مگر سیاسی اثر کی بنا پر جج بن جاتے ہیں۔ ان کی سلیکشن کی داستانیں اتنی مزیدار اور دلچسپ ہیں کہ اگر توہین عدالت کا ڈر نہ ہو تو کئی شاندار کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، خدارا کچھ معیار تو ہو کہ جج قانون کے علم اور ا نصاف کے تقاضوں سے تو واقف ہو۔ پوری بیوروکریسی کا عجیب عالم ہے ایک امتحان پاس کرنے والا شخص ہر محکمے کا ارسطو ہوتا ہے اور اسے ہر بات میں بہتر جانا جاتا ہے۔ زیادہ تر پاس کرنے والے درمیانے طالب علم ہوتے ہیں۔ بہتر تو میڈیکل، انجیئرنگ اور دوسرے شعبوں میں چلے جاتے ہیں لیکن یہ ایک امتحان پاس کرنے کے بوتے پر ہر جگہ رقصاں ہوتے ہیں۔میرا اپنا محکمہ تعلیم ایک مافیہ کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے کبھی کلاس روم کی شکل نہیں دیکھی جو کبھی کسی تعلیمی ادارے میں زیادہ عرصہ نہیں رہے۔ وہ ہر پالیسی بناتے ہیں۔ ہر فیصلہ کرتے ہیں محکمے کے وزیر کا مزاج دیکھ کر چیزوں کا دائیں بائیں کیا اور تبدیلی کی نوید دے دی۔ وزیروں کا معیار تو سب جانتے ہی ہیں۔لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا انہیں آتا ہی نہیں۔ شاید اصل قصور ہماری اپنی عقل کا ہے۔ہماری بے حسی کا ہے، ہماری لا تعلقی کا ہے۔پھر بھی ہم تبدیلی کے منتظر ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 221369 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
02 May, 2019 Views: 161

Comments

آپ کی رائے