والدین کی لاپرواہیاں اور موبائل کی تباہ کاریاں

(Aslam Lodhi, Lahore)

جب موبائل نہیں تھا تو زندگی کتنی سکون تھی ‘ ہر چھوٹا بڑا سکون کی نیند سوتا تھا ‘ موبائل کی فراوانی سے زندگی میں بھونچال آچکا ہے‘ بیوی شوہر سے بیزار اور شوہر بیوی سے کنارہ کش ‘ اولا د ماں باپ سے باغی اور ماں باپ بچوں سے لاپروا‘ ہر شخص حالات‘ موسم اور وقت کو بھول کر موبائل کوہاتھوں میں اٹھائے اور سینے سے لگائے یوں پھرتا ہے جیسے زندگی کا سب سے اہم اثاثہ یہی ہو ۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو موبائل کانوں سے لگائے کسی سے جھگڑتی جارہی تھی ‘ چند لمحوں کے بعد وہی خاتون موبائل پر بات کرتے ہوئے ایک قیمتی گاڑی کو ڈرائیوکرتی دکھائی ‘ کچھ ہی دور جا کر اس نے جب مخالف سمت ٹرن لیا تو دوسری جانب سے بھی ایک ایسا ہی شخص سامنے آگیا بس پھر کیا تھا ایک دھماکہ ہوا اور دونوں خون میں لت پت تڑپتے دکھائی دیئے ۔ایک مرتبہ میں نہر کے ساتھ ساتھ جوہر ٹاؤن کی جانب بائیک پر جارہاتھا صبح کے وقت ہر شخص کوجلدی ہوتی ہے گاڑی ہو یا بائیک سب طوفانی رفتار سے رواں دواں دکھائی دیتے ہیں ۔پنجاب یونیورسٹی کا ایک طالب علم موبائل پر مسیجنگ کرتا ہوا سڑک عبور کررہا تھا ابھی وہ سڑک کے درمیان میں پہنچا ہی تھا کہ ایک تیزرفتار گاڑی نے اٹھا کر نہر میں پھینک دیا ۔کچھ لوگ رک گئے اور کچھ نے رکنامناسب نہیں سمجھا ۔دیر تو مجھے بھی ہورہی تھی لیکن مجھے اس نوجوان میں اپنا بیٹا دکھائی دیا اورمیں رکا ۔ وہ لڑکا زخموں سے چور تھا وہ نوجوان (جو ایک خاندان کا چشم و چراغ تھا )اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ایک مرتبہ مجھے ایک سرکار ی آفس میں جانے کا اتفاق ہوا ۔میں ڈائریکٹر سے ملنا چاہتا تھا‘ آفس کا دروازہ بند تھا باہر ایک چپڑاسی بیٹھا تھا میں نے اسے بتایاکہ میں ڈائریکٹر سے ملنا چاہتاہوں اس نے بے رخی سے جواب دیا صاحب میٹنگ میں ہیں آپ کل آجائیں ۔حسن اتفاق سے دروازے کے کچھ حصے سے اندر دیکھا جاسکتا تھا مجھے ڈائریکٹر کے علاوہ کوئی اوراندر دکھائی نہ دیا۔ میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا ۔عجیب منظر میرے سامنے تھا ڈائریکٹر صاحب کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں یوں محسوس ہورہا تھا وہ کسی لڑکی سے معاشقہ کررہاتھا مجھے دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا ۔ میں نے پوچھا آپ کا چپڑاسی تو کہہ رہاتھا کہ اندر میٹنگ ہورہی ہے کیا آپ کے حکم پر وہ جھوٹ بول رہا تھا ۔آپ عوام کے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں اور وفتر ی اوقات میں موبائل پر چیٹنگ کے سوائے کچھ نہیں کرتے ۔ ایک بار اچانک میری اہلیہ کے سینے میں درد کااحساس ہوا ۔میں اسے فوری طور پرلے کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ کارڈیالوجی پہنچا ‘ تو ڈاکٹر ایک کمرے میں اکٹھے ہوکر چائے سموسے کھارہے تھے اور چند موبائل پر چیٹنگ میں مصروف تھے ‘ میں نے بیگم کی ناساز طبع کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ایک ڈاکٹر نے کہا آپ جائیں میں آتا ہوں۔ پندرہ بیس منٹ گزرنے کے بعد جب کوئی نہ آیا تو میں دوبارہ گیا ‘ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میری اہلیہ کرسی پر بیٹھی تڑپ رہی ہے اسے کوئی بیڈہی عنایت فرما دیں۔اس نے جواب دیا یہاں کوئی بیڈ خالی نہیں ہے اگر کرسی مل گئی تو اس پر بھی شکر اداکریں ورنہ مریض فرش پر ہی لیٹے رہتے ہیں ۔ بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر میں اسے پرائیویٹ ہسپتال لے گیا ۔لیکن ایک بات کاافسوس ضرور ہوا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ لے کر ڈاکٹر بننے والے اپنا مقصد بھول چکے ہیں ۔ پبلک ڈیلنگ کے جتنے بھی ادارے ہیں تمام اداروں میں افسروں سے لے کر ماتحتوں تک ایک ہی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آوے کا آوہ ہی بگڑ جائے تو پھر کون روک سکتا ہے ۔چند دن پہلے ایک خبراخبارت میں نظر آئی کہ سکول ٹائم میں ٹیچرز موبائل استعمال نہیں کرسکتے ۔ میں نے سوچا کاش یہ حکم تمام سرکاری دفاتر کے لیے ہوتا ہے بطور خاص پبلک ڈیلنگ والے دفاتر میں تو موبائل لانابھی ممنوع ہونا چاہیئے ۔ اب تو اوپر سے نیچے تک سب موبائل کے ہی دیوانے ہیں اب تو چھابڑی فروشوں بھی موبائل کے بغیر نظر نہیں آتے ۔میرے مشاہدے میں کتنے ہی ایسے والدین ہیں جن کی لاپرواہی کے نتیجے میں ان کے تمام بچوں کو چشمے لگ چکے ہیں ‘ میں سمجھتاہوں ایسے بے پروا والدین کو سزا ملنی چاہیئے جنہوں نے بچوں کو اس قدر آزادی اور موبائل خرید کر دے رکھا ہے ۔ ایک دن میں سکول کے باہر بیٹھا اپنے پوتے پوتیوں کا انتظار کررہا تھا تو سکول سے نکلنے والے اکثر بچے اور بچیوں کی آنکھوں پر عینکیں لگی دکھائی دیتی ہیں وہ بچے جو بچپن میں ہی اپنی نظر کمزور کر بیٹھیں گے وہ زندگی کے باقی ماہ و سال کیسے گزاریں گے ۔ سوشل میڈیا پر ایک سبق آموز ویڈیو دیکھی جس میں ایک بات بیٹی کوانگلی سے لگائے چل رہاتھااور موبائل پر کسی سے گفتگو بھی کررہاہے ایک اوباش شخص نے اس بچی کوکھانے کی کوئی چیز دکھاکر اپنے پاس بلایا تو بچی باپ کی انگلی چھوڑ کر اس شخص کے پاس چلی گئی وہ شخص بچی کو اٹھاکر رفوچکر ہوگیا موبائل پر جب بات ختم ہوئی تو اسے اپنی بچی کا خیال آیا‘اس لمحے اس غافل باپ کی بے بسی دیکھی نہ جاتی تھی ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے معاشرے روٹین بنتے جارہے ہیں ابھی کل کی بات ہے ایک دوست نے ویڈیو بھجوائی جس میں باپ اپنے بیٹے کو کار میں سکول چھوڑنے آتا ہے کار رکی دروازہ کھول کر بیٹا بستہ لے کر اترا ۔ وہ بچہ سکول جانے کے لیے کار کے سامنے سے گزر ہی رہا تھا کہ باپ موبائل پر کسی سے گفتگو میں ایسا مصروف تھا کہ اس نے بے دھیانی میں کار چلا دی اس طرح باپ کے ہاتھوں ہی بچہ موت کی وادی میں جاسویا ۔موبائل کی وجہ سے موبائل کے شوقین باپ کو زندگی کا روگ لگ گیا ۔دور حاضر کے لوگوں کو ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچنا چاہئیے کہ موبائل کا استعمال ایک حد تک محدود رکھنا چاہیئے حد سے زیادہ اہمیت دینے اور بچوں کی جانب سے لاپرواہی برتنے سے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں جو آجکل جابجا دیکھے جاسکتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 573 Articles with 291349 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2019 Views: 523

Comments

آپ کی رائے