بول سے بستر گول

(Ibnul Hussain Abidi, )

سال گزشت کے کچھ یہی دن تھے، بول چینل میں تقرری کا پہلا دن تھا، ابھی آفس کے درو بام سے علیک سلیک ہوہی رہی تھی کہ والد محترم کی کال آئی: "تم نے چینل میں کام کرنے کی شرعی حیثیت بھی پوچھی ہے؟ حلال کے چند ہزار حرام کے لاکھوں روپوں سے بہتر ہیں". اپنے لمبے لیکچر سے وہ مجھ پہ بم گراگئے. اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوئے ہم.

وہی کھڑے کھڑے استفتاء لکھ کے دارالعلوم کراچی، بنوری ٹاؤن، جامعہ فاروقیہ، جامعة الرشید اور پشاور کے مدرسہ.......کے مفتیان کرام کے نمبر پہ Whatsapp کردیا. سب کا ملتا جلتا جواب یہی ملا کہ اگر ترجمہ اور ریکارڈنگ وغیرہ ناجائز نہ ہو تو کسی چینل میں کام کرنا فی نفسہ حرام نہیں. والد محترم کو مگر پھر بھی تشفی نہ ہوئی. وہ کہتے سائٹ کراچی سے کورنگی ایک گھنٹے کا سفر ہے. اتنی دور جاتے ہو. کراچی کے حالات اور ٹریفک کے بے ہنگم نظام میں اتنے دور جانے سے بہتر ہے کہ اپنی مارکیٹ جو کرایہ پہ دی ہے اس کی خود دیکھ بھال کی جائے. میں مگر شروع سے صحافت سے وابستگی کا خواب دیکھ رہا تھا. بنا کسی علت کے اتنی اچھی جگہ چھوڑنا کفران نعمت سمجھتا.

بول چینل میں ایک سال بہت اچھا گزرا. دیگر چینلز میں جہاں تین ماہ تک تنخواہ رکی رہتی، یہاں گاہے مہینہ ختم ہونے سے پہلے مل جاتی. لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی. چیف جسٹس ثاقب نثار کی چھری کے نیچے آہی گئی. چیف جسٹس صاحب کی "چھری" نے شعیب شیخ کو جیل کی راہ دکھائی. عیاش بول ورکرز کو جان کے لالے پڑگئے. سینکڑوں نکالے گئے تو بہت سوں کو جہاں جگہ ملی وہاں سینگ سماگئے.

پیارے نبی کے فرمان کا مفہوم ہے کہ جو قرض خواہ قرض کی ادائی کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائی کی کوئی راہ نکال لیتا ہے. بول کے سی ای او شعیب شیخ نے بلنگ بانگ دعوے کیے تھے. پاکستان سے غربت ختم کرنے اور ایک کروڑ پاکستانی بچوں کو پڑھانے کا دعویٰ وہ اپنی ہر تقریر میں دہراتے. آج ان کے ورکرز جن کو تین ماہ کی تنخواہ نہیں ملی. در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں. کچھ خودکشی کا سوچ رہے ہیں. نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے. بچوں کی پڑھائی چھوٹ گئی ہے.

شعیب شیخ صاحب! آپ نے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں. اگر آپ نے سچے دل سے دعوے کیے ہیں اور دعوے کے مطابق محب وطن اور غریب دوست ہیں تو اٹھیے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اپنے ورکرز کے دکھوں کا مداوا کیجیے پھر دیکھیے کس طرح غیب سے مدد اترتی ہے.

میں نے جب یہ صورت حال دیکھی کچھ عرصہ انتظار کیا، مرض بڑھتا گیا جوں جوں انتظار کے تو بول سے بستر گول کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور والد محترم کے زیر سایہ مارکیٹ کے ایک کونے میں "بستر" بچھا دیا. کس چیز کی مارکیٹ ہے اور میری کیا ذمہ داری ہے؟ اس پہ ان شاء اللہ اگلی مجلس میں روشنی ڈالیں گے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibnul Hussain Abidi

Read More Articles by Ibnul Hussain Abidi: 60 Articles with 33167 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2019 Views: 156

Comments

آپ کی رائے