قرآن کریم : پارہ 9 (قَالَا الْمَلَا) خلاصہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

قَالَا الْمَلاَ‘ قرآن کریم کا نواں پارہ ہے ، اس کا مطلب ہے ’’کہا سرداروں نے‘‘ ۔ پارہ کا آغازسورۃ الْاَعْرَاف کی آیت88 سے ہوتا ہے،اس سورۃ کا اختتام اسی پارہ میں 206آیت پر ہوجائے گا ۔ بعد میں اسی پارے 9 میں سورۃ الْاَنْفَالشروع ہوگی ۔ اس پارہ میں سورہ انفال کی 40 آیات ہیں ۔ آیت 88سے قرآن کا خاصہ یہاں بیان کیا گیا ہے ۔

سورۃ الْاَعْرَافکی آیت 88 میں حضرت شعیب;174; کو اس دور کے سرداروں نے اپنی بستی سے نکال دینے کی دھمکی دی، آیت میں کہا گیا ہے ۔ ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ’’ اے شعیب;174; ! ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراہ ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر سے آجاوَ‘‘ ۔ حضرت شعیب ;174; نے جواب دیا کہ ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر سے آجائیں ۔ شعیب ;174; نے معاملہ اللہ کے سپرد کیا اور دعا کی کہ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، آیت 90 میں کہا گیاکہ اس قوم کے ایک دوسرے سردار نے کہا کہ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے‘ ۔ اس کی اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ ’پھر انہیں زلزے نے آپکڑا چنانچہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے‘‘ ۔ سورۃ الْاَعْرَافکی 103آیت سے حضرت موسیٰ ;174; اور فرعون کا قصہ شروع ہوتا ہے جو آیت145 تک بیان ہوا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے کہ ’’پھر ان نبیوں کے بعد ہم نے موسیٰ ;174; کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے دربار یوں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے ان نشانیوں کو نہیں مانا ، موسیٰ ;174;نے کہا اے فرعون! بے شک میں سب جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ، مجھ پر واجب ہے کہ اللہ کی طرف سے حق کے سوا کچھ نہ کہوں ، تحقیق میں تمہارے پاس ، تمہارے رب کی طرف واضح دلیل لایا ہوں ،اس لیے ا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے، فرعون نے کہا کہ اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر، اگر تو سچوں میں سے ہے، تب موسیٰ ;174; نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ اسی وقت اژدھا بن کر ظاہر ہوا، اور موسیٰ ;174; نے اپنی بغل سے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا سفید تھا، فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا بے شک یہ تو ماہر جادو گر ہے، یہ چاہتا ہے کہ تمہیں سرزمین سے نکال دے پس تم کیا مشورہ دیتے ہو، انہوں ے کہا اسے اور اس کے بھائی ہارون کو مہلت دے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دے تاکہ وہ ہر ماہر جادو گر کو تیرے پاس لے آئیں اور وہ سامری جادو گر فرعون کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا یقینا ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہم غالب آگئے، فرعون نے کہا ، ہاں اور بے شک تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوگے ۔ جادو گروں نے کہا : اے موسیٰ ;174; ! یا تو تو ڈال یا پہلے ہم ہی اپنا جادوڈالیں ، موسیٰ ;174; نے کہا کہ پہلے تم ڈالو، پھر جب انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپوں سے ڈرایا اور بہت بڑا جادو لائے تھے‘‘ ۔ اللہ نے ارشاد فرمایا ’’اور ہم نے موسیٰ ;174; کی طرف وحی کی کہ تو بھی اپنا عصا ڈال جب اس نے ڈالا تو وہ دیکھتے دیکھتے اژدھا بن کر ان سانپوں کو نگلنے لگا جو وہ جادو گر گھڑتے تھے، بالآ خر حق ثا بت ہوگیا اور جو کچھ وہ لوگ کررہے تھے باطل ٹہرا، وہ جادو گر مغلوب ہوگئے اور ذلیل وخوار ہوکر پیچھے ہٹ گئے، اور جادو گر بے اختیار سجدے میں گر پڑے ، انہوں نے کہا ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے، موسیٰ ;174; اور ہارون ;174; کے رب پر ، فرعون نے کہا تم میرے اجازت کے بغیر ایمان لے آئے ہو;238; بے شک یہ مکر ہے، تم نے اس شہر میں مل کر یہ مکر کیا ہے تاکہ یہاں رہنے والوں کو اس شہر سے نکال دو پھر جلد ہی اس کا نتیجہ تم جان لوگے‘‘ ۔ فرعون نے اپنی قوم کو بہت ڈرا دھمکایا ، قتل کی دھمکی دی، بیٹو کو مارنے کا کہا، بیٹیوں کو نہ چھوڑنے کی فضول دھمکی دی وغیر وغیرہ لیکن ایمان لانے والے اپنے فیصلہ پر اٹل رہے ۔ بعد میں اللہ نے ’آل فرعون کو قحط سالی اور پھلوں کے نقصان میں پکڑا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ‘ ۔ اس کے بعد ان پر طوفان ٹڈی دَل، جووَں ، مینڈکوں اور خون کا عذاب بھیجا ، یہ الگ الگ نشانیاں تھیں ، پھر بھی انہوں نے تکبر کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے عہد توڑنے کی بات کی کہ جب ان پر سے عذاب ہٹادیا جاتا تو یہ پھر وہی کچھ کرنے لگ جاتے ۔

موسیٰ ;174; کو تیس راتیں کوہ طور پر گزارنے کا کہا جس میں اضافہ ہوکر چالیس راتیں ہوگئیں اور موسیٰ ;174; نے چالیس راتیں کوہ طور پر بسر کیں ، چالیس روزے رکھے ۔ اللہ نے موسیٰ ;174; سے کلام کیاتو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے اپنی جھلک دکھاکہ میں تجھے دیکھ سکوں ، اللہ نے فرمایا : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکوگے لیکن تو اس پہاڑ کی طرف دیکھ، پھر اگر وہ اپنی جگہ ٹہرا رہا تو تم مجھے بھی ضرور دیکھ سکوگے ، پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا جلوہ ڈالا تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا، موسیٰ ;174; بے ہوش ہو کر گرپڑے ، پھر جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے عرض کی اے اللہ تو پاک ہے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں ‘ ۔ آیت 44 میں اللہ نے فرمایا ’’اے موسیٰ ;174; بے شک میں نے اپنے پیغامات پہنچانے اور اپنی ہم کلامی کے لیے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے، چنانچہ تو لے جو میں نے تجھے دیا ہے اور شکر گزاروں میں شامل ہوجا‘‘ ۔ پھر آیت 45 میں کہا اللہ پاک نے نے موسیٰ کے لیے ‘‘اور ہم نے موسیٰ ;174; کے لیے تورات کی تختیوں میں زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق تفصیل لکھ کر دے دی ہے، چنانچہ وہ ان ہدایات کو مضبوطی سے پکڑ لے اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کی اچھی اچھی باتوں پر کاربند رہیں ، جلد ہی میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکاؤں گا‘ ۔ چالیس دن بعد کوہ طور پر اللہ سے ملاقات کر کے موسیٰ ;174; واپس ہوئے توریت لے کر تو اپنی قوم کی حالت دیکھ کر شدید نڈھال اور غصہ ہوئے اور اپنے بھائی ہارون ;174; سے سخت باز پرس کی، اسرائیلیوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی تھی، لیکن حقیقت جان لینے کے بعد موسیٰ ;174; نے اپنے اور اپنے بھائی کے لیے دعا کی ۔ اس جگہ حضرت موسیٰ ;174; کے حوالے سے کئی اور واقعات بھی قرآن میں بیان ہوئے، جیسے عصا پتھر پر مانے سے بارہ چشموں کا پھوٹ آنا، بادلوں کا سایہ ہونا، من و سلویٰ کا نازل ہونا وغیرہ ۔

حضرت موسیٰ ;174; اور فرعون کے قصہ کے بعد جو موضوعات مذکور ہیں ان میں ’ عہد اَ لستُ‘ کا ذکر ہے،یہ عہد حضرت آدم ;174; کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا ، اس کی تفصیل ایک حدیث میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ ’میدان عرفات کے قریب نَعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا ۔ بلعم ابن باعوراء کا قصہ جسے علم و شرف عطا کیا گیا تھا لیکن بدبخت نے اپنے علم کا ودانائی کو چند سنگریزوں کے عوض فروخت کردیا ۔ اِسی طرح عالم ارواح میں تمام انسانوں سے اللہ کے رب ہونے کا عہد کا ذکر ہے ۔ دنیا پرستوں کو تنبیہ کی گئی کہ چند روزہ زندگی پر گھمنڈ نہ کریں ، آیت 179 میں کہا گیا کہ’ کفار چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ، کیونکہ وہ اپنے دل و دماغ ، آنکھوں اور کانوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایمان سے محروم رہتے ہیں ‘ ۔ یہاں تین نصیحتیں بیان ہوئیں ہیں ایک آپ در گزر سے کام لیں ،دوسری نصیحت نیک کام کرنے کا حکم دیں ، اورتیسری نصیحت جاہلوں سے کنارہ یعنی پہلو تہی کریں ۔ آیت 178 میں کہا گیا کہ قیامت اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہے ۔ سورہ اعراف کا آغاز قرآن کریم کی عظمت سے ہوا تھا اور اس کا اختتام بھی اللہ کی آخری کتاب کلام پاک کی تعظیم ، ادب و احترام پر ہورہا ہے آیت 204 میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے ’’قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے ،کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیاجائے‘‘ ۔ پھر کہا گیا کہ اے نبی! اپنے رب کو صبح اور شام اپنے دل میں یاد کیجئے، عاجزی سے اور ڈرتے ہوئے، پست اور ہلکی آوز سے اور آپ غافلوں میں شامل نہ ہوں ، بے شک جو فرشتے آپ کے رب کے پاس ہیں ، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ، وہ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں ‘‘ ۔

سورۃ الْاَنْفَال

سورۃ الْاَنْفَالکا آغازنویں پارے کے’الثلث‘ کے بعد سے ہوتا ہے اور سورہ انفال کی 40آیات کا خلاصہ نویں پارہ میں بیان ہوگا ۔ سورۃ الْاَنْفَالمدنی سورۃ ہے ، قرآنی ترتیب کے اعتبار سے 8ویں اورنزولی ترتیب کے اعتبار سے 88سورہ ہے ۔ ا س میں 10رکو ، 75آیات ہیں ۔ ابتدا مال غنیمت کے بارے میں احکامات سے ہوئی ہے، وہ مال غنیمت جو غزوہ بدر میں ہاتھ آیا تھا، مومنین کی پانچ صفات بیان کی گئیں ہیں ، چھ بار مومنین سے خطاب ان آیات کا حصہ ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت اول میں ’’اے نبی ;174; ! پوچھتے ہیں آپ سے غنیمتوں کے بارے میں ،’’ کہو ! مالِ غنیمت اللہ اور رُسول;174; کا ہے ۔ ڈرو تم اللہ سے اور درست کرو آپس کے تعلقات اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اگر ہو تم مومن‘‘ ۔ یہ سورۃ غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی ، اس میں مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کفار کو شکست ہوئی مال غنیمت ہاتھ آیا، اس کے حوالے سے سورہ انفال کا آغاز ہی اللہ نے مال غنیمت کے موضوع سے کیا ۔ اگلی ہی آیت 2 تا4 میں مومن کی صفات بیان کی گئی ہیں کہا گیا’’مومن تو در حقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب لیا جاتا ہے اللہ کا نام تو لرز جاتے ہیں ان کے دل اور جب پڑھی جاتیں ہیں ان کے سامنے اللہ آیات تو بڑھادیتی ہیں وہ آیات اُن کا ایمان اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں ، وہ جو قائم کرتے ہیں نماز، اور رزق میں سے جو ہم نے ہی دیا ہے اس کو خرچ کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو مومن ہیں سچے، ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے ہاں اور بخشش ہے اور بہترین رزق‘‘ ۔ آیت 5 میں کہا گیا کہ ’’جیسے (بدرکے موقع پر) آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر مدینہ سے حق ُبہترین دبیر) کے ساتھ نکالا تھا اور بے شک اس وقت مومنوں کا ا یک گروہ (اس نکلنے کو) ناپسندف کرتا تھا‘‘ ۔ یعنی جس طرح مال غنیمت کی تقسیم کا معاملہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا تھا ، پھر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالہ کردیا گیا تھا اسی میں مسلمانوں کی بہتری تھی، اسی طرح آپ کا مدینہ سے نکلنا اور آگے چل کر تجارتی قافلے کے بجائے لشکر َقریش سے مڈ بھیڑ ہوجانا، گویا بعض لوگوں کے لیے ناگوار تھا لیکن اس میں بھی بالآ خر فائدہ مسلمانوں ہی کا تھا ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313تھی جب کہ کافر ان سے تین گنا (ہزار کے قریب) تھے ۔ پھر مسلمان نہتے اور بے سروسامان تھے جب کہ کافروں کے پاس اسلحے کی بھی فراوانی تھی، ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ ہی کی ذات تھی ، جس سے وہ گڑگڑا کو مدد کی فریادیں کررہے تھے ۔ خوادنبی ﷺ الگ ایک غیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروف دعا تھے ۔ اللہ نے دعا قبول کی اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے لگا تار مسلمانوں کی مدد کے لیے آگئے، یعنی فرشتوں کی آمد کی خوش خبری اور مسلمانوں کے دلوں کے اطمینان کے لیے تھی ، اصل مدد تو اللہ کی طرف سے تھی ۔ فتح کی کئی صورتیں اللہ نے پیدا کیں جنگ بدر میں ،یہ بھی بیان ہوا ہے کہ فرشتوں نے جنگ میں عملی حصہ لیا، اونگ طاری کرناجس سے مسلمانوں کے دلوں کا بوجھ ہلکا ہوگیاوہ اطمینان کی کیفیت میں آگئے، اس موقع پر بارش نازل فرمادی، اس سے بے شمار فائدے مسلمانوں کو ہوئے ۔ غرض اللہ کی مدد سے یہ جنگ مسلمانوں کی فتح کا باعث ہوئی ۔

سورۃ الْاَنْفَال کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو چھ باریٰٓاَیُّھَا ا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْ جیسے محبت آمیز الفاظ سے مخاطب فرمایا ۔ ان آیات سے مومن کی صفات کا علم ہوتا ہے ۔ پہلی بار آیت 15 میں فرمایا’ اے ایمان والو!جب تمہارا ان لوگوں کے لشکر سے مقابلہ ہو جنہوں نے کفر کیا تو تم ان سے پیٹھ نہ پھیرو‘ ۔ دوسری بار آیت 20 میں فرمایا ’اے ایمان والو!اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اس سے نہ پھرو، حالانکہ تم سن رہے ہو‘ ۔ تیسری بار آیت24 میں فرمایا’ اے ایمان والو!تم اللہ اور رسول کی بات کو قبول کرو جب وہ تمہیں اس ا امر کے لیے بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے‘ ۔ چوتھی بار آیت 27 میں فرمایا’ اے ایمان والو!اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو ، اور نہ تم آپس کی امانتوں میں خیانت کرو جب کہ تم جانتے ہو‘ ۔ پانچویں بار آیت 29 میں فرمایا’ اے ایمان والو!اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہارے لیے نکلنے کی راہ ہے اور تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔ اور اللہ بہت بڑا فضل والا ہے‘ ۔ چھٹی بار آیت45 میں فرمایا ، یہ آیت اگلے پارہ(10) میں ہے ۔ ’ اے ایمان والو!جب کسی گروہ سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاوَاور اللہ اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا ورنہ تم بزدل ہوجاوَگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘ ۔ یعنی مسلمانوں کو وہ طریقے بتائے گئے جن کو دشمن کے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ سب سے پہلی بات ثابت قدمی اور استقلال ، دوسری اللہ کو کثرت سے یاد کرنا ، تیسری اللہ اور رسول کی اطاعت ، چوتھی ہدایت کہ آپس میں تنازع اور اختلاف نہ کرواس سے تم بزدل ہوجاوَگے ۔ پانچویں ہدایت کہ صبر کرو ۔ اللہ کی ان باتوں پر عمل پیرا ہوکر مسلمان کفار سے بہ آسانی مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ بشرطیکہ مسلمانوں میں اللہ اور اس کے رسول کا ڈر و خوف ہو، اس کے بتائی ہوئیں باتوں پر ایمانداری سے، سچائی سے عمل کریں ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو اپنائے، استغفار کریں ، اللہ پاک مسلمانوں کو زندگی کے ہر ہر معاملے میں آسانیاں فراہم کریں گے ۔ پریشانیوں سے، مشکلات سے ، ہر طرح کے عذاب سے بچے رہنے کا واحد طریقہ یہی ہے ۔ اللہ ہ میں نیک ہدایت دے ۔ آمین(9 رمضان المبارک 1440ھ،15مئی2019ء)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 669906 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
15 May, 2019 Views: 581

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ