زندہ لاشیں

(iftikhar Chohdury, )

ایک روز وقت سے پہلے دفتر پہنچ گیا تو مجھ سے پہلے ایڈمن آفیسر بھی موجود تھے کہنے لگے کہ میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ سٹاف کے دو تین لوگ ملے۔ سلام کی مگر ہنستے ہوئے چلے گئے میں نے انہیں کرسی سے اٹھنے کو کہا ۔ انتہائی شریف النفس اور سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ اٹھے تو دیکھا کہ انہوں نے شلوار الٹی پہنی ہوئی تھی۔ بتانے پر سیدھی کی ۔ مجھے اس وقت سٹاف کے لوگوں کی اس حرکت پر غصہ ضرور آیا کہ انہیں مذاق اڑانے کی بجائے پروقار انداز میں نشاندہی کرنی چاہیے تھی مگر یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایڈمن آفیسر سے ایسا ہوا کیوں؟

محترم قارئین! تقریباً 15سال گزرنے کے بعد آج جب میں اکثر اپنا موبائل بھول جاتا ہوں۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے غلط راستے پر نکل جاتا ہوں۔ دفتر پہنچنے پر علم ہوتا ہے کہ عینک گھر رہ گئی ہے یا پھر سامنے بیٹھے شخص سے بار بار اس کا نام پوچھتا ہوں تو اس دن کے واقعہ کی وجوہات تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کچھ عرصہ قبل پاک سیکرٹریٹ میں ہونے والا واقعہ یقینا ابھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہوگا کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کی نوکری کیلئے اوپر کی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی۔ کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ اس کے بیٹے کی لازمی ملازمت اسی صورت ممکن ہے کہ وہ وفات پا جائے تقریباً 4سال پہلے کا ذکر ہے کہ میرے ایک دوست فضل عباس جو کہ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے ،نے دیکھا کہ ایک شخص پل کے اوپر بار بار بے چینی کی کیفیت میں اِدھر اُدھر دوڑ رہا ہے ۔ فضل عباس پل کے اوپر گئے تو اتفاق سے وہ شخص ان کا واقف نکلا۔ اس وقت وہ شخص پل سے نیچے ایکسپریس وے پر چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے کا ارادہ کر چکا تھا ۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ اس کی ایک ننھی شیر خوار بچی ہے وہ رات سے بھوکی ہے اس کے بہن بھائی کھا تے پیتے جبکہ ایک بھائی بیرون ملک بھی ہے۔ اور جائیداد کے مالک بھی ہیں مگر اس بے بسی و بے کسی کے عالم میں اس کی کسی نے مدد نہیں کی۔ صبح سویرے مزدوری کیلئے شہر آیا مگر اس میں بھی ناکام رہا ۔ کہنے لگا کہ میرے کانوں سے ننھی شیر خوار لخت ِ جگر کے بھوک سے رونے کی آوازیں صبح سے بار بار ٹکرا رہی ہیں جو برداشت سے باہر ہو چکی ہیں لہذا میں اس اذیت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میرے دوست نے اس کو سمجھایا اور حوصلہ دیا ۔ فوراً ساتھ لیا دو عدد بکریاں لے کر دیں تاکہ بچی کے دودھ کا مستقل طور پر بندوبست ہو سکے اور کچھ نقد پیسے اسے تھمائے ۔ حالانکہ میرے دوست کے گھر کا ماجرا بھی کچھ مختلف نہ تھا اور وہ یہ پیسے بذات خود کسی سے قرض لے کر آیا تھا کچھ عرصہ بعد سردیوں کی ایک اداس شام کو میں اور میرا دوست اکیلے ایک ڈھابے پر چائے پی رہے تھے کہ آسمان کی طرف گھورتے ہوئے میرا دوست مخاطب ہوا کہنے لگا کہ یار گورنمنٹ نے سرکاری ملازم کی وفات پر ایک اچھے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے ۔ میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ اس جہاں سے کوچ کر جاؤں تاکہ میری بیوی بچے آسانی اور سکون سے زندگی گزار سکیں۔ میں نے اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک دیکھی اور خوفزدہ ہوگیا۔ اس کو ڈانٹا ، ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایسا سوچنے سے سختی سے منع کیا ۔ معزز قارئین ! اور پھر ایک دن ایسا ہو ہی گیا۔ علی الصبح مجھے اطلاع ملی کہ میرا دوست ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس جہان سے کوچ کر گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین ۔ آہ بقول شاعر
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ہمارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ عبادات ہم پر فرض ہیں مگر حقوق العباد اور معاملات کو کسی صورت ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی بلکہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔ بدقسمتی سے اذان کی آواز پر خاموشی اور خواتین کا سر پر دوپٹہ لے لینا یا پھر شب برأت ، شب معراج ، میلا د النبی ؐ ، اور ماہ رمضان میں تراویح کا اہتمام کر لیناہی ہم کافی سمجھتے ہیں اور اگر عید الاضحی پر ایک قیمتی جانور کی قربانی دے بیٹھیں تو پھر تو ہم سے بڑا شاید ہی کوئی متقی اور پارسا ہو ۔ یقینا یہ سارے اعمال اسلام میں کہیں فرائض کی حیثیت رکھتے ہیں تو کہیں واجب اور سنت عمل ہے مگر حقوق العباد اور معاملات سے روگردانی بھی کسی صورت قابل معافی نہیں ہے۔

بہت سارے بے بسی کی تصویر بنے لاچار و مجبور چہرے میری آنکھوں کے سامنے زندہ درگور ہو گئے اور ان گنت چلتی پھرتی سفید پوش زندہ لاشیں مجھے چیخ چیخ کر مخاطب ہیں کہ کیا ان کے بھی دفن ہونے کا انتظار ہو رہا ہے ۔ جی ہاں بد قسمتی سے کچھ ایسا ہی ہے ۔ ہم زندگی میں دکھوں کا مداوا کرتے نہیں اور مگر مر جانے کے بعد ٹسوے بہانے کے ماہر ہیں۔ معاشرے کے اس بے حس پہلو پر میرے چند اشعار ہیں۔
خود قابل ہیں منافق یہ زمانے والے
کیا روئیں گے مجھے دنیا میں رلانے والے
ہر سہارا چھین کر دنیا سے یوں چلتا کیا
واہ! میت کو میری کندھے پر اٹھانے والے
میرے بچو! گھر کے کواڑوں کو مقفل کر لو
بڑے آئیں گے ہمدردی جتلانے والے
کوئی اپنا نہیں ہیں اﷲ ہی کو اپنا رکھنا
گدھ جسموں کو ہیں نوچ کے کھانے والے
دل دکھانے پہ قمر بات کیوں نہیں کرتے
صبح و شام و عظ منبر پہ سنانے والے

قارئین! یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک آٹے کا تھیلا دینا ہو یا پانچ دس لوگوں کی افطاری کروانا ہو تب تک ہم یہ عمل نہیں کرتے جب تک کیمرے کا انتظام نہ ہو جائے اور اخبارات میں خبر چھپنے کا یقین نہ ہو ۔ خدارا ہم اس ریا کاری سے نکلیں ۔ دوسروں کو دکھانے کی غرض سے نمبر ون سے افطاریاں کروانا اور خبروں میں آنے کیلئے چند کلو آٹے کے تھیلے تقسیم کرنا۔ ان ضرورت مند سفید پوش لوگوں کی عزت نفس کا قتل ہے۔ ان کے پاس ایک عزت نفس ، غیرت، خودی اور سفید پوشی کا بھر م ہی تو ہے خدارا ہم اس کو تار تار نہ کریں۔ اسلام میں تو حکم ہے کہ ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو۔

اسلام آباد سرکاری ملازمین کا شہر کہلاتا ہے ایک عام سرکاری ملازم کی اوسط ماہانہ آمدنی 40تا50ہزار سے زائد نہیں ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے ہوش ربا بلز، زیر تعلیم بچوں کی فیس ، وین کے کرائے ، ماہانہ راشن کا خرچہ ، رشتہ داروں میں غمی خوشی کے موقع پر شرکت ،شادی بیاہ گھر میں بیماری کا علاج وغیرہ یہ سب کچھ کسی صورت اس آمدن میں ممکن نہیں۔

باہر کھانے کیلئے جانا ، برتھ ڈے منانااورپکنک جیسی چھوٹی چھوٹی بچوں کی خواہشات کی تکمیل تو ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعمیر ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے اپنا گھر بار چھوڑ کر اسلام آباد جیسے شہر کو اپنا مسکن بنالیا ہے ۔ ملازمت کے آخری سالوں میں ہونے کی وجہ سے درمیان میں معلق ہیں۔ ان کے ضروری اخراجات بھی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس صورت حال نے انہیں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ۔ یہ جو اچانک آپ کی گاڑی کو پیچھے سے کوئی بائیک ٹکر مار دیتی ہے ۔ یا کسی شخص کا آپ کے ساتھ لہجہ تلخ ہو جاتا ہے کوئی آپ کی بات اچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہے یا پھر اپنے موقف پر تکرار پر اتر آتا ہے ۔ آپ کے زیر سایہ کام کرنے والے ملازمین ،بتائے گئے کاموں کو بھول جاتے ہیں یا ان سے فاعلیں اکثر درست حالت میں آپ کی ٹیبل پر نہیں پہنچتیں۔ کبھی کبھار وہ دیر سے دفتر آتے ہیں یا پھر جلد چلے جاتے ہیں تو یقین جانئے ان کے پیچھے ان کی مجبوریوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو یہ سفید پوش بتانا بھی چاہیں تو ان کی زبان ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے یہ روزانہ مرتے ہیں اور روزانہ زندہ ہوتے ہیں۔ یہ چلتی پھرتی زندہ لاشیں ہیں۔ انہیں آپ کے تعاون اور سہارے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔ یہی ان کا کل اثاثہ ہے ۔ ان کے چہروں پر لکھی تحریر کو پڑھنا سیکھیں اور ان کی آنکھوں سے بولے گئے الفاظ کو سمجھنا سیکھیں۔

ان میں سے بہت سارے خاندان ایسے بھی ہیں جنہیں بہت تھوڑے سے سہارے کی ضرورت ہے ۔ سوسائٹی میں شان و شوکت کی غرض سے دی گئی پر تکلف افطاری کو اگر سادہ بنالیں اور اس سے بچائی گئی پچاس ساٹھ ہزار کی رقم سے کسی بھی ایک خاندان کے پارٹ ٹائم روزگار کا انتظام ہو سکتا ہے ۔ آپ اس ایک شخص یا خاندان کے روزگار کا سبب نہیں بن رہے ہوں گے بلکہ پوری ایک نسل کے پاؤں پر کھڑا ہو نے کا سہرا آپ کے سر ہوگا۔

ادریس قمر چوہدری

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 383 Articles with 129767 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: