چرچ میں نماز ‘ گردوارے میں افطار

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
چرچ میں نماز ‘ گردوارے میں افطار

رب کریم کی ذات رب العالمین ہے اور اللہ کے پیارے حبیب محمد مصطفی ;248; رحمت العالمین ہیں ۔ رب تعالیٰ سب جہانوں کی تمام تر مخلوقات کو پالنے والا ہے اور نبی مکرم;248; سب جہانوں کی مخلوقات کے لیے رحمت ہیں ۔ محمد مصطفی ;248; وہ ذات ہیں جو اپنے ;200;پ کو پتھروں سے لہولہان کرنے والوں کیلئے دُعائیں فرماتے اور نبی رحمت;248; پر کوڑا پھینکنے والوں کی عیادت کرتے ‘ دِل جوئی فرماتے ۔ نبی مکرم;248; کے نام پر ہزار بار قربان ہو جائیں تو تب بھی ;200;پ ;248; کے اُمتی ہونے کی نسبت کا رب کے حضور شکر ادا نہیں کیا جا سکتا ۔ نبی مکرم;248; کی جنگ کے میدانوں سے عبادتوں اور معراج تک ہر لمحہ اور حالت میں اپنی اُمت کےلیے دعاءوں میں ;200;سانیاں ہی ;200;سانیاں استوار کر کے نمازوں سے رمضان تک رحمتوں اور بخششوں کے دروازے تا قیامت کھلوا دیے ۔ ;200;پ;248; کے ہر ہر انداز پر قربان جائیں ‘ عیسائیوں کی ایک جماعت ;200;ئی ہے تو انہیں مسجد کے حجرے میں قیام اورعبادت کی اجازت فرماتے ہیں ۔ حیات طیبہ;248; کا ایک ایک حرف اور لمحہ رب کریم کے احکامات کا عملی مظہر ہے ۔ جو درحقیقت اُمت مسلمہ کے تمام جہانوں میں سب سے افضل ہونے کا راستہ ہے جس پر کوئی ایک نقطہ یا گوشہ لیکر غیر مسلم بھی عمل کرتے ہیں تو راحت پاتے ہیں ۔ یہ کیا خوشگوار اور دلکش منظر ہے کہ جو میڈیا رپورٹ میں دیکھنے کو ملا ہے کہ ;200;پ;248; کی تعلیمات کو غیر مسلم اپنی پہچان بناتے ہوئے نیک نامی حاصل کر رہے ہیں ۔ وائس ;200;ف امریکہ کی رپورٹ کی ایک عیسائی دوست نے کلب وٹس ایپ کیا ۔ امریکہ کے شہر بوسٹن میں 1820;247;ء کے قائم کردہ قدیمی چرچ میں مسلمان نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ‘ چرچ کی اہمیت و شہرت اس کا قدیم ہونا نہیں بلکہ اس میں مسلمانوں کا 20 سال سے باقاعدگی سے نمازجمعہ کی ادائیگی ہے ۔ جس سے قبل یہاں کے مسلمان مقامی یونیورسٹی میں نماز ادا کرتے تھے لیکن جگہ کم ہونے کے باعث چرچ کے منتظم سے رابطہ کیا گیا تو مسلم کمیونٹی کو انڈر گراءونڈ فلور میں جگہ فراہم کی گئی اور بعد میں کہا گیا کہ ;200;پ مسلمان بھی اسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی ہم کرتے ہیں اور سیکنڈ فلور کا مرکزی حال مہیا کرتے ہوئے عیسائی عبادت کے لیے موجود پنجز نکال کر مسلم عبادت کے تقاضوں کے مطابق روشن دان ‘ کھڑکیاں بنائی گئیں ۔ وضو خانہ قائم کیا گیا ۔ اس ہال میں عیسائی خود اپنی مرکزی عبادت کا انعقاد کرتے ہیں تو عارضی کرسیاں لگاتے ہیں اور نماز ادا کرنے والے مسلمان بھی اس ;200;بادی کے بے گھر سفید پوش افراد کو تخصیص مذہب سالانہ کھانے پر مدعو کرتے ہیں ۔ بین المذاہب یکجہتی کے تناظر میں سب کو اکٹھا کر کے تقریب بھی منعقد کرتے ہیں ۔ دبئی میں سکھ کمیونٹی کے گردوارے کا رمضان المبارک میں منظر بھی مثالی ہوتا ہے ۔ جہاں روزانہ مسلمانوں کیلئے افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ نماز ادا ہوتی ہے اور سکھ افطار سے لے کر اختتام تک خدمت گاروں کی طرح میزبانی کر کے خوشی کا اظہار کرتے نظر ;200;تے ہیں ۔ رمضان کی مقصدیت پر مسلم سکالرز روشنی ڈالتے ہیں یہ روزے انسانیت کی بھلائی یعنی معاشرے میں غریب ‘ مساکین ‘ لاچار اور بے وسیلہ لوگوں کی مدد کا دعوت احساس ہیں ‘ عیسائیوں کا چرچ اور سکھوں کا گردوارہ ;200;ج اپنی قدر و منزلت مسلمانوں کی میزبانی کر کے رکھتا ہے مگر انسان تو انسان دیگر تمام مخلوقات کے ساتھ بھلائی کا ورثہ مسلمانوں کا ہے جو اللہ اور اس کے نبی ;248; کا عطا کردہ ہے اس پر چلتے ہوئے مسلمانوں کا نام و مقام سب سے بلند ‘ امن و بھلائی کے بطور مسیحا ذکر دیگر مذاہب والوں کی زبان پر ہونا چاہیے تھا مگر حضرت علامہ اقبال یہ کا شعر
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قُر;200;ں ہو کر

غیر مسلموں کے معاشرے میں مسلمانوں کے لیے رمضان کے تناظر میں سب کچھ سستا کر دیا جاتا ہے اور مسلم معاشروں میں یہ مہینہ سارے سال جتنا منافع اکٹھاکرنے کا مقابلہ بن جاتا ہے یہ حکومتوں اور انتظامیہ سمیت کسی ایک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر مسلم مذہبی فریضہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ;200;سانیاں پیدا کر کے دنیا و ;200;خرت کا فضل حاصل کریں ورنہ حقوق العباد اور حقوق اللہ (عبادات) ایک دوسرے کے بغیر بے معنی ہیں ۔ اللہ ہ میں ان حقوق کو روح و جسم کی طرح پورا کرتے ہوئے خیر و برکت کی توفیق عطاء فرمائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 71159 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 May, 2019 Views: 448

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ