اس دن عید مبارک ہو سی

(Iftikhar Chohdury, )

ونگ کمانڈر ہارون الرشید سے پوچھا وہ اوپر کیا ہے کہنے لگا ماموں یہ مری بروری ہے اور جو کیبن نظر آ رہا ہے یہاں چونگی ہوا کرتی تھی گھوڑا گلی لورہ موڑ سے چند کلو میٹر فارسٹ کالج سے ایک راستہ نیچے جاتا ہے گاؤں کا نام نمب ہے۔میں ایک قبر کے پاؤں پے کھڑا تھا جو میری تایا زاد بہن کی تھی۔اسے شوگر نے گھول کے مارا پہلے اندھا کیا پھر آہستہ آہستہ کھرچ کے رکھ دیا اور ایک منحوس صبح اﷲ کو پیاری ہو گئیں ان کا گھر ایئر پورٹ سوسائٹی میں تھا اس سے پہلا مکھا سنگھ سٹیٹ اور اس سے پہلے ڈی اے وی کالج روڈ پر رہا کرتی تھیں۔باجی نصرت کا رشتہ مری نمب بیرا مال کے گجروں میں ہوا اﷲ ہمارے بھائی چودھری رشید کو صحت دے وہ بھی چند سالوں سے معلق زندگی گزار رہے ہیں۔مری کا خوشگوار موسم جو لاہور میں نومبر کے وسط میں ہوتا ہے مجھے بہت پیچھے لے گیا ہارون تمہیں پتہ ہے تماہری امی کی ڈولی یہیں اتری تھی اور پھر کہاروں نے اسے یہاں اس گھر میں یہ جو دائیں جانب ہے اتارا تھا۔اور شائد تمہیں علم نہیں کہ اس ڈولی میں ماجد کی امی بھی ساتھ آئیں تھیں تا کہ کزن کو نئے گھر چھوڑ آئیں۔جیسے کیمرے کا زاویہ ہوتا ہے میں اس قبر کے درمیانی پٹی سے اوپر دیکھ رہا تھا اوپر شائد پیدل چلیں تو تیس منٹ لگ جائیں۔باجی کا رشتہ کیسے ہوا سنا ہے بابو رزاق صاحب نے کرایا تھا ہم ہزارے وال گجرانوالہ چلے گئے تھے تایا جان نے ساری زندگی گجرانوالہ گزاری منج راجپوتوں کے داماد بنے کہنے لگے میں اپنی بیٹی گجروں میں دوں گا اور وہ بھی پہاڑی علاقے کے ہوں گے تو تب۔وہ واپس پلٹنا چاہتے تھے۔کہا کرتے تھے میرے دل کا راستہ میری بیٹی کے گھر سے ہو کر آتا ہے جس نے مجھ سے پیار لینا ہے وہ میری بیٹی کو راضی رکھے۔بیٹیوں سے پیار شائد اس لئے مستند ہے کہ میرے نبی نے ﷺ اپنی بیٹی کو ٹوٹ کر چاہا۔رشتہ ہو گیا تاریخ یاد نہیں باجی نے پوچھا کہ کون سا سال ہو گا میں نے کہا بھائی جان ذوالفقار کی شادی ۱۹۶۷ میں ہوئی تھی باجی نصرت کی ایک دو سال بعد۔ہم چھوٹے تھے شائد ساتویں میں پڑھتا تھا بہنوئی ٹرانسپورٹر تھے گارڈن کالج سے گریجوایشن کی۔کھاتے پیتے گھر کے بھائی رشید آج فالج کے حملے کے بعد ویل چیئر پر ہیں۔تایا جان نے حاجی علی مردان جو انگریز دور کے کنٹ ریکٹر اور ٹرانسپورٹر تھے اپنی بیٹی کا رشتہ ان کے منجلے بیٹے سے کیا حاجی زرین صاحب اس علاقے کا نامور شخص تھے چند برس پہلے اس جہان فانی سے چلے گئے۔

باجی کا زیادہ عرصہ ڈی اے وی کالج روڈ کی پانچ نمبر گلی میں گزرا یہ لیڈروں کا علاقہ ہے مشاہد اﷲ خان مولانا فتح محمد شکیل اعوان جازی خان اسی علاقے کے ہیں ساتھ میں شیخ رشید کی لال حویلی ہے۔ہم جب گجرانوالہ سے گاؤں جانے کے لئے نکلتے تو ہمارا پہلا پڑاؤ باجی کے گھر ہوتا۔اﷲ پاک خوش رکھے بھائی رشید کو ان کے ننھے منے بچے اور ان کی بہنیں بھائی فراخ دلی سے استقبال کرتے۔

۱۹۷۹ کے رمضان کی بات ہے سخت گرمیوں کے روزے تھے اﷲ کا کرم ہے آج چونسٹھ برس کا ہوں اور مکمل روزے رکھے ہیں ان دنون اﷲ معاف کرے کوتاہی ہو جاتی تھی ویسے بھی سفر میں روزہ معاف ہے میں اور میرے خلیرے بھائی نے صبح ناشہ کالج روڈ کیا اور ہم نکلے سیر کرنے چودھری غلام نبی آف چارہان کے گھر پہنچے دن بھر سیر کی افطار سے گھنٹہ پہلے گھر پہنچے انہیں بتایا کہ روزہ ہے وہ بے چارے بھاگ دوڑ میں لگ گئے نیچے سوراسی بازار سے پکوڑے وغیرہ لے کر آئے۔دستر خوان سج گیا دیکھتے ہیں تھوڑی ہی دیر میں بھائی جان او ر باجی پہنچ گئے ہم دونوں نے سروں پر رومال باندھے تھے اور منتظر تھے کہ کہیں سے آواز آئے تو روزہ افطار کریں اﷲ میاں کے علاوہ بھائی جان اور باجی کو علم تھا کہ یہ صبح انڈے پراٹھے کھا کر گھر سے روانہ ہوئے تھے وہ مسکرا رہے تھے اور ہم دونوں شرمندہ۔بھائی جان کا شرارتی انداز آج بھی یاد آتا ہے سچ پوچھیں اتنا متحرک شخص جو اپنی مرسیڈیز میں پنڈی سے گجرانوالہ ان دنوں اڑھائی گھنٹے میں پہنچ جاتے بلکہ گہوٹکی سندھ میں اپنے سسر کی زمینوں پر بھی اسی گاڑی میں کرتے۔آج جب کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے نہیں کھا سکتے تو رو پڑتا ہوں اﷲ بھلا کرے بہو کا اور گھریلو ملازم جسے ملازم لکھتے ہوئے بھی جی نہیں چاہتا ۔اﷲ نے سب کچھ دے رکھا ہے تابع فراماں اولاد پوتے اور پوتیاں مگر ایک نہیں ہے تو صحت۔

باجی نے کوئی انتالیس سال سسرال میں گزارے۔اپنے پیچھے بہترین یادیں چھوڑ کر گئیں گجرانوالہ میں ان کی سہیلیاں بھی کمال کی تھیں ایک باجی تو ہنسا ہنسا کر بد حال کر دیتی تھیں تایا جان کا مذاق اڑاتٰن ہزارے والوں کی چادراور بڑے گھیرے کی شلواروں کا اس انداز سے تمسخر اڑاتیں کہ بندہ لوٹ پوٹ جاتا وہ مرحومہ باجی کا نام نسیم فردوس بٹ تھا جو آج کے سہیل احمد کی سگی خالہ تھیں عزیزی جب مذاق اڑاتے ہیں دونوں باجیاں یاد آ جاتی ہیں۔مین جدہ سے جب اجڑ کے آیا تو پنڈی بسیرا کیا مکان بنوا رہا تھا کہنے لگیں پارکنگ بڑی رکھنا کم از کم دو گاڑیاں ضرور ہونی چاہئیں میں نے کہا باجی سائیکل لینے کے پیسے نہیں ہیں آپ دو دو گاڑیوں کی پارکنگ بنانے کا کہہ رہی ہیں۔باجی نے چادر پھیلائی اور دعا کی کہنے لگیں جا افتخار میرے لاڈلے بھائی اﷲ تمہیں اتنا دے گا کہ کہ یہ جگہ کم پڑ جائے گی اور جب میں نے ذاتی گاڑی لی اور بعد میں نوید نے اپنی گاڑی تو ہمیں گیٹ کو گلی کی طرف بؑھانا پڑا۔
بڑی بہنیں مائیں ہوتی ہیں ان کی دعاؤں کا اثر ہمیشہ رہتا ہے۔

بھائی کے ساتھ شاندار زندگی گزاری بچے خوب پڑھائے اپنے پورے خاندان کو اٹھایا ہارون ونگ کمانڈر ہمایوں لندن میں اچھی زندگی گزار رہا ہے احسن پر بھی اﷲ کا کرم ہے بیٹیاں جو ہماری بہت لاڈلی رہیں اچھی تعلیم پائی چندا جس کا نام عائیشہ ہے ماشاء اﷲ باجی ثانی ہے نفیسہ وہاں بریطانیہ میں کوش و خرم ہے اﷲ سب کو خوش رکھے۔اس قبر کی درمیانی پٹی سے اٹھتی نظروں نے جو دیکھا اور محسوس کیا میں نے چند سطروں میں بیان کر دیا ہے ۔آج الحاج زین کا سالنہ بھی تھا اور ان کی مرحومہ بیٹی کا چہلم بہت لوگ آئے میں نے اس صحن کی طرف کنڈ کر دی جہاں میری بہن اتری تھی جہاں وہ ایک بڑے گھر کو سنبھالا دیتی رہیں۔مجھے اس بڑے گھر کے ان کمروں میں جانا اچھا نہیں لگتا آٹے کیجستی پیٹیاں اور بہت سا پرانا فرنیچر مجھ سے نہیں دیکھا جاتا۔

میں ان پیٹیوں کے کنڈوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتا جنہیں میری بہن ہزاروں بار لگا چکی تھیں۔تایا جان بختے والے رہتے تھے اور ہم باغبانپورہ گجرانوالہ میں۔ان کے ہاں اخبار جہاں آیا کرتا تھا میں مہینے بھر کی اخباریں اور رسالے چادر میں باندھ کر گھر لے آتا ایک ایک حرف ایک ایک لفظ پڑھتا انہی دنوں اردن کے شاہ طلال کی شادی شائیستہ اکرام اﷲ کی بیٹی ثروت سے ہوئی ایوب خان نکاح کے گواہ بنے وہ تصویریں وہ سہہ منزلہ گھر آج بھی یاد آتا ہے۔اس گھر سے جری یادیں دل کے نہاں خانے میں موجود ہیں۔خوش رہنا ہنسوں کا جوڑا الگ ہو گیا۔اﷲ پاک کروٹ کروٹ جنت بخشے۔حاجی زرین صاحب کے گھرانے پر کرم کی بارش کرے اﷲ بابو شوکت ارشد راشد اور دیگر پر نوازشات برسائے ۔ہم انہی یادوں کو کریدتے سوچتے عابد کی گاڑی میں بیٹھ واپس پنڈی پہنچے۔یاد رفتگاں بھی ایک آزمائیش ہے۔ہم ہیں جو انہیں یاد کر لیتے ہیں ہم گئے تو کون یاد کرے گا اور اگر کرے گا بھی تو لکھے گا کون؟
سلام پیاری باجی نصرت اس دن عید مبارک ہوسی جس دن آن ملاں گے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 289 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 383 Articles with 129846 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: