قرآن کریم : پارہ 22 ( وَمَنْ یَّقْنُت) خلاصہ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

وَمَنْ یَّقْنُت‘قرآن کریم کابائیسواں (22) پارہ ہے ۔ وَمَنْ یَّقْنُت کامطلب ہے ’’اور تم میں سے جو‘‘ ۔ یہ پارہ چار سورتوں سُوْرَۃُالْاحْزَابِکی آخری 43 آیات، سُوْرَۃُ سَبَا، سُوْرَۃفَاطِر،اور سُوْرَۃِ یٰسٓ کی 21 آیات پر مشتمل ہے ۔ بقیہ 62 آیات اگلے پارہ میں شامل ہیں ۔ ازواج مطہرات کے بارے میں ، خواتین کے بارے میں ، منہ بولے یا لے پالک ، کس سے نکاح ہوسکتا ہے کس سے نہیں ، پردے کا حکم ، خواتین کے مسائل اور دیگر امور شامل ہیں ۔

سُوْرَۃُالْاحْزَابِ(آخری 43آیات

سابقہ پارہ میں سورہ احزاب کی آخری آیت ازواج مطہرات کے بارے میں تھی، یہاں 31ویں سورت میں یہ موضوع اور آگے بڑھا ہے ۔ ابتدائی آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریگی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر بھی دوہرادیں گے، اور اس کے لیے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے‘‘ ۔ آیت32 میں پھر انہیں سے خطاب ہے فرمایا ’’اے نبی کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیز گاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرواور اپنے گھر میں قرار سے رہو،او ر قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناوَ کا اظہارنہ کرو ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو، اے اہل بیتِ! بس اللہ توچاہتا ہے کہ وہ تم سے ناپاکی دور کردے اور تمہیں پوری طرح پاک صاف کردے ۔ یاد رکھو اللہ کی آ یات اورسنت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں وہ یاد کرو ۔ بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے‘‘ ۔ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ آیات جنگ اَحزاب اور بنی قُریظہ سے متصل زمانے میں جب کہ فتوحات کا دور شروع ہوچکا تو ازواج مطہرات نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے وظیفہ اور نفقہ میں کچھ اضافہ کردیاجائے ، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان میں انہیں دوباتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا کہ وہ ’خوشحالی کی زندگی گزانے کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں ‘ یا’ اپنی آخرت سنوارلیں ‘ ۔ ان آیات کے سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ اہل البیت سے مراد نبیﷺ کی تمام ازواج ہیں ۔ اللہ نے پہلے نبیﷺ کی ازواج مطہرات کو برائی سے اجتناب کا کہا بعد میں انہیں نیکی اختیار کرنے کی ہدیت کی ۔ یہاں یہ موضوع اختتام ہوتا ہے ۔ اس کے بعداللہ کا مردوں کے علاوہ عورتوں سے خطاب کے بارے میں آیات کا بیان ہے،مسند احمد ، ترمذی میں ہے کہ حضرت ام سلمہ رضہ اللہ عنہا اور بعض دیگر صحابیات نے کہا کیا بات ہے، اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتاہے ، عورتوں سے نہیں جس پر آیت 35نازل ہوئی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں کو ایک ساتھ اس طرح مخاطب کیا اوران کے لیے وسیع مغفرت اور ثواب کی بات کی، فرمایا اللہ تعالیٰ نے’‘بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، ، فرماں برداری والے مرد اور فرمانبردار عورتیں ، راست باز مرد اورراست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرداور صبر کرنے والی عورتیں ، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں ، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں ،بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اورکرنے والیاں سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے وسیع مغفرت اور بڑا ثواب تیار رکھا ہے‘‘ ۔ اللہ کے مرد وں اور عورتوں سے اس طرح خطاب سے واضح ہے کہ اللہ کے نذدیک دونوں کی حیثیت برابر ہے ، عبادت و اطاعت، اخروی درجات وفضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ، دونوں کے لیے یکساں طور پر میدان کھلا ہے اور دونوں زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اجر و ثواب کما سکتے ہیں ۔ اس کے بعد آیت 36سے 40آیات میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضہ اللہ عنہ سے، طلاق، منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ خاتون سے نکاح پر یہ آیات اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عرب تھے ، جب وہ چھوٹے تھے تو انہیں بطور غلام بیچ دیا گیا تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حضور اکرم ﷺ سے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انہیں نبی ﷺ کو ہبہ کردیا تھا ۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد کرکے اپنا بیٹا بنالیا تھا، نبی ﷺ نے ان کے نکاح کے لیے حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو آپﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں کوچنا ، حضور ﷺ کی خواہش تھی اس لیے نکاح تو ہوگیا لیکن خاندان میں اس نکاح پر کچھ اختلاف بھی پایا جاتا تھا اس کی بنیادی وجہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کاغلام ہونا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ، اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں کہا گیا ک اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں کہ اس میں دخل دے، بلکہ اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ اسے دل سے تسلیم کرلے ۔ اس آیت کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا سمیت سب نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ۔ نکاح ہوگیا ۔ لیکن دونوں میاں بیوی کے مزاج میں فرق تھا، ہم آہنگی نہیں تھی، اس میں خاندانی نسب ، اور اس بات کا بھی دخل تھا کہ جب یہ بات شروع ہوئی تو دل میں اس کے لیے ناپسندیگی تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیا، وقت کے ساتھ ساتھ اختلافات بڑھتے گئے، نبی ﷺ کے علم میں ان دونوں کے اختلافات آتے رہے آپﷺ دونوں کو سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ طلاق کا عندیہ بھی دیا گیا، آپ ﷺ نے طلاق دینے سے روکا اورنبا ہ کرنے کی تلقین فرماتے ۔ علاوہ ازیں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرمادیا تھا کہ زید ر کی طرف سے طلاق واقع ہوکر رہے گی اور اس کے بعد زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا، اس کا ایک مقصد اس رسم اور خیال کی نفی کرنا بھی تھا کہ منہ بولا بیٹا ، شریعت میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے ۔ اس آیت میں ان باتوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ،فرمایا اللہ نے آیت 37 میں ’’پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ، ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا، تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کرلیں ، اللہ کا یہ حکم تو ہوکر ہی رہنے والا تھا‘‘ ۔ گویا حضرت زینب کا نکاح حکم خداوند ی تھا، یہ نکاح معروف طریقے کے برعکس صرف اللہ کے حکم سے قرار پایا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی ۔ یہ پہلے سے ہی تقدیر الہٰی میں تھا جو بہر صورت ہوکر رہنا تھا ۔ آیت49سے51 میں عورت ہی موضوع ہے ۔ آیات کا ترجمہ ہے ’’اے مومنو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت نہیں جسے تم شمار کرو، پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دواور بھلے طریقے سے انہیں رخصت کردو ۔ اے نبیﷺ! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اورتیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ، اور وہ با ایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرناچاہے یہ خاص طر پر صرف تیرے لیے ہی ہے اور مومنوں کے لیے نہیں ، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں احکام مقرر کر رکھے ہیں ، یہ اس لیے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو ، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم والا ہے‘‘ ۔ اگلی آیت51 میں کہا گیا ’’ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے اور اگر تو ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی انہیں دیدے اس پر سب راضی رہیں ‘‘ ۔ اللہ کے فرمان کے مطابق نبی ﷺ کو بعض باتوں میں امتیاز حاصل تھا، بعض خصوصیات کا ذکر دیگر آیات میں بھی آیا ہے،یہاں نکاح کے حوالے سے نبی ﷺ کی خصوصیات کا ذکر ہوا ہے ۔

بغیر اجازت نبی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا، عورت کے لیے پردے کا حکم ہوا تو اللہ نے آیت 54نازل فرمائی جس میں بتا یا گیا کہ وہ ان پر گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور بھتیجوں ، بھانجوں اور اپنی میل جول کی عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں کے سامنے ہوں ۔ آیت59 میں اللہ نے نبیﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’ اے بنیﷺ! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیاکریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کرے گی ‘‘ ۔ سورت کا اختتام فراءض و واجبات اور شرعی احکام کی اہمیت پر ہوتا ہے، یہ احکام اس امانت کا حصہ ہیں جو اللہ نے بندوں کو سونپے ہیں ۔ ان کا بوجھ صرف انسان اٹھا سکتا ہے اس لیے کہ اللہ نے انسان کو عقل و فکر م خیر و شر کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے ۔

سُوْرَۃُ سَبَا

سُوْرَۃُ سَبَامکی سورۃ ہے، قرآن کریم کی ترتیب کے اعتبار سے چونتیسو یں (34)اور نزولِ ترتیب کے اعتبار 58ویں سورۃ ہے ۔ اس میں 6رکو ،54آیات ہیں ۔ اس سورۃ کے موضوعات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے ، کہیں ڈرایا، کہیں سمجھایا اور کہیں برے انجام سے خوف زدہ کیا گیاہے، حضرت داوَد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی طاقت، شہرت، اللہ کی حمایت، معجزات دئے انہوں نے تکبر نہ کیا دوسری قوم سبا کا قصہ ہے جس کو اللہ نے اپنے نعمتوں سے نوازا اس نے تکبر و گھمنڈ کی راہ اختیار کی اور تباہ ہوگئی ۔ دونوں طرح کی مثالیں دینے کا مقصد اچھے اور برے کا انجام بتا نا ہے ۔

ابتدائی آیت میں مالک کائینات کی حمد بیان ہوئی ہے، مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا، وہ دانا اور باخبر ہے اسے ،وہ ہر بات کا علم رکھتا ہے، وہ رحیم ہے ، وہ غفور ہے ۔ مشرکین کہا کرتے تھے کہ تمہارے نبی ﷺ آخرت آخرت کی باتیں کیا کرتے ہیں وہ آخر آکیوں نہیں جاتی اللہ تعالیٰ نے جواب میں کہا ‘کہو: قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی ، وہ تم پر آکر رہے گی ۔ قریش کے سردار یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ محمدﷺ صادق اور امین ہیں ، انہوں نے آپ کی زبان سے کبھی جھوٹی بات نہ سنی تھی، اس لیے وہ اپنا موقف بدل بدل کر سامنے لاتے ، اللہ نے ان کی ایسی بیہودہ باتوں کے جواب میں آیت 9 میں کہا کہ ’ہم اگر چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں ، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرادیں ‘ ۔

حضرت داوَد علیہ السلام کا ذکر آیت 10 میں ہواہے ۔ انہیں اللہ نے بڑا جمال عطا کیا تھا، وہ جب عبادت کیا کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم نوا بن جاتے تھے ،وہ جب زبور کی تلاوت کیا کرتے تو جانور ان کی قرآت سننے اور ان کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے ، حضرت داوَد علیہ السلام کو لوہے پر عبود عطا کیا تھا ، سخت سے سخت لوہے کو آگ میں تپائے اور ہتھوڑے سے کوٹے بغیر ، موم ، گوندھے آٹے اور گیلی مٹی کی طرح جس طرح چاہتے موڑ لیا کرتے تھے ، یہ گویا معجزہ تھا ۔ ان کا پیشہ لوہارکا تھا، یعنی لوئے کا خارخانہ تھا جہاں لوہے کی مختلف اشیاء بنا کرتی تھیں ۔ ایسی زبردست طاقت، اللہ کا خاص کرم اور نعمتوں کے ہوتے ہوئے حضرت داوَد علیہ السلام نے گھمنڈ اور تکبر نہیں کیا، اللہ نے ان کی مثال دی اور ان جیسا اہتمام کرنے کا حکم دیا ۔

حضرت سلیمان داوَد علیہ السلام کا ذکر آیت 11 میں کیا گیا ہے ۔ اللہ نے انہیں بھی بے بہا خوبیوں اور معجزات سے نوازا تھا، پرندوں کی بولیاں سکھائیں ، پرندے ان کا حکم مانتے، ہد ہد نے ان کا خط ملکہ سبا کو پہنچا یا، تانبا ان کے لیے چشمے کی شکل اختیار کرجاتا اس سے وہ جو چاہتے بنا لیتے، جنات کو ان کا تابع فرمان بنایا، ان سے آپ تعمیرات اور حمل و نقل کے مشکل ترین کام لیتے، ملکہ سبا کے شاہی محل سے اس کا تخت آنکھ جھپکتے میں سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچادیناجنات کا ہی کام تھا، ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کردیا گیا تھا، ان عظیم الشان نعمتیں کے حاصل ہونے کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی غرور اور تکبر نہیں کیا، گھمنڈ سے کام نہیں لیا، بلکہ ہر دم اللہ کی نعمتوں عنایتوں کا شکر ہی بجالاتے رہے، ایک عام شخص کو کچھ زیادہ حاصل ہوجائے تو اس کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے، وہ تکبر کرنے لگتا ہے ۔ آیت 14 میں سلیمان علیہ السلام کی موت کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ’’جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ کر لیا تو جنوں کو زمین کے کیڑے دیمک کے سوا کسی چیز نے بھی سلیمان کی موت کی اطلاع نہ دی، وہ (دیمک) اس کی لاٹھی کو کھاتارہا، پھر جب وہ گرپڑی تو جنوں نے جان لیا کہ اگروہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس رسواکن عذاب میں مبتلا نہ رہتے ‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ کی ان باتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ غیب کا علم سلیمان علیہ السلا م کو نہیں تھا اور جنات کو بھی نہیں تھا کہ سلیمان علیہ السلام کی موت واقع ہوچکی ہے، جب ان کا عصا زمین پر گر یا وہ خود زمین پر گرے تو جنوکو احساس ہوا کہ سلیمان کی موت واقع ہوچکی ہے ۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ غیب کا علم سوائے اللہ کے کس کونہیں ۔

اس کے بعد سبا قوم کا قصہ ہے، سبا، دراصل( یمن) اور شام کے درمیان لب سڑک بستیاں تھیں ، یہ سباقوم یا اہل سبا کہلاتے تھے، بعض مفسرین نے ان کی تعداد چار ہزار بیان کی ہے، اہل سبا کو اللہ نے ہر طرح کی دنیاوی نعمتیں عطا کی تھیں ، رزق، صحت، آب وہوا، زرخیز زمین اور پھلدار باغات بے شمار زمین پر، موسم ہر وقت معتدل، پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک ڈیم جس کانا م ’’سدمآرب‘‘ ، سفری سہولیات ، کشادہ سڑکیں ، ہر طرح سے محفوظ زاد راہ ، الغرض کونسی ایسی نعمت تھی جو انہیں حاصل نہیں تھی ، خوشحال اور مالدار قوم لیکن اس بد نصیب قوم نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا ۔ اللہ نے ایسی تباہی مچائی کہ تمام چیزیں تباہ و برباد ہوگئیں ، بستیاں خس و خاشاک بن کر بہہ گئیں ،یہاں تک کہ اہل سبا کا ذکر داستان بن کر رہ گیا ۔

ان تینوں قصوں کے بعد مشرکین کے عقائد و نظریات کی عقلی اور نقلی دلائل سے تردید اور توہین ہے ۔ اللہ نے فرمایا ’’اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے ‘‘ ۔ ا س سے پہلے جتنے بھی رسول آئے وہ اپنی اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے تھے ۔ اللہ نے کہا کہ ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا رسول بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا : بلاشبہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد میں زیادہ ہیں اور ہ میں عذاب نہیں دیا جائے گا ۔ اس کے جواب میں اللہ نے کہارسول ﷺ سے کہ کہہ دیجئے اللہ جس کا رزق چاہے کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کرتا ہے‘‘ ۔ کفار کو تنبیہ کی گئی کہ تم نے تکذیب و انکار کا جوراستہ اختیار کیا ہے وہ نہایت خطرناک ہے تم سے پچھلی امتیں بھی اس راستے پر چل کر تباہ و برباد ہوچکی ہیں ۔ آخری آیت میں کفار کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایمان لانے کی خواہش کریں گے لیکن ان کی خواہش اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا ۔ اور وہ ایمان سے محروم ہی رہیں گے ۔

سُوْرَۃفَاطِر

سُوْرَۃفَاطِرمکی سورۃ ہے، قرآن کریم کی ترتیب کے اعتبار سے پینتیسو یں ;40#41;اور نزولِ ترتیب کے اعتبار 43ویں سورۃ ہے ۔ اس میں 5رکو ،45آیات ہیں ۔

فاطر کے معنی ہیں ’پہلے پہل ایجاد کرنے والا‘، پہلی آیت میں فرمایا گیا ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے ہیں ، وہ اللہ جو چاہے اپنی مخلوق میں زیادہ کرتا ہے ، بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے‘‘ ۔ یہاں قاصد فرشتوں سے مراد حضرت جبریل ، میکائیل اور اسرافیل اور دیگر فرشتے ہیں جن کو اللہ ابنیاء کی جانب مختلف مہمات پر قاصد بنا کر بھیجتا تھا ۔ فرشتوں کے پر ہوتے ہیں جن سے وہ زمین و آسمان میں سفر کرتے ہیں ۔ نبی ﷺ کو جھٹلانے والوں کے بارے میں کہا گیا کہ نبی ﷺ کو جھٹلاکر یہ کہا ں جائیں گے ۔ بالآ خر تمام معاملات کا فیصلہ تو ہ میں ہی کرنا ہے ۔ یہ عمل تو پچھلی امتوں نے بھی کیا، ان کا انجام سامنے ہے اگر انہوں نے بھی وہی کیاتو انہیں ہلاک کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ۔ بے شک قیامت برپا ہوگی نیک و بد کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی ۔ آیت9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک زمین کو ہم شاداب کردیتے ہیں اسی طریقے سے قیامت والے تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کردیں گے‘‘ ۔ کہا گیا کہ کافر اور مومن برابر نہیں ہوسکتے، یہ مثال ایسے ہی کہ جیسے اندھیرہ اورروشنی،اندھا اور دیکھنے والا، زندہ اور مردہ، ظلمت اور نور، دھوپ اورسایہ بالکل ایک دوسرے کا الٹ ہیں ، یہ ایک نہیں ہوسکتے، بے شک اللہ جسے چاہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں ۔ وحدانیت اور قدرت کے دلائل کا بیان ہے کہا گیا آیت25 میں ’’ اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں ،ان لوگوں نے بھی تو جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے ہوئے ، ان کے پاس بھی تو نشانیاں ، صحیفے اور روشن کتاب تھی جو وہ لے کر آئے تھے، پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنہوں نے کفر کیا پس دیکھو میرا عذاب کیسا عبرتناک تھا‘‘ ۔

کائینات میں جو کچھ بھی اللہ نے پیدا کیا اس کی تفصیل ہے، بارش برسنے، پہاڑوں پر سفید اورسرخ گھاٹیاں ہیں ، ان کے رنگ مختلف ہیں ، اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں سے بھی ایسے ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں ، اللہ نے کہا کہ ’’بس اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ڈرتے ہیں ، یہاں علماء سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی ان قدرتوں اور اس کے کمال صناعی کو وہی جان اور سمجھ سکتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ، اس علم سے مراد کتاب وسنت ہے اور جتنی انہیں رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے ۔ ان لوگوں کی تعریف کی گئی جو لوگ کتاب اللہ یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ۔ قرآن نے ان کتابو ں کی بھی تصدیق کی جو اس سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئیں تھیں ، اللہ کہتا ہے کہ ہم نے اپنے بندوں میں سے لوگوں کو چنا اور انہیں کتاب کا وارث بنایا، ان کے بارے میں بتایا کہ ان میں سے بعض اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے، بعض میانہ رو ، بعض نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ۔ ان لوگوں کو جو نیک ہیں کا ٹھکانہ جنت میں ہوگا، لیکن جنت میں جانے کے کچھ مراحل ہیں ، کوئی سیدھا چلاجائے گا، کوئی اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگتنے کے بعد جائے گا، اگر اللہ نہ چاہے تو آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں ،یہ اس کے کمال قدرت کے ساتھ اس کی کمال مہربانی بھی ہے کہ وہ آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے، پھر جنت کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ سورۃ کی آخر میں اللہ کی رحمانیت، مہربانی اور مخلوق سے محبت ہی ہے اگر وہ بندوں کو گناہوں کی سزا فوری دے دیتا ، یا انہیں فوری گرفت میں لے لیتا تو دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا ، زمین پر کوئی انسان ، کوئی حیوان اور چرند پرند بھی زندہ نہ رہ سکتے ۔ اللہ نے روز قیامت کا دن ، حساب کتاب وقت مقرر کیا ہوا ہے، جوں ہی وہ وقت آئے گا، اس کے کہنے کے مطابق قیامت برپا ہوجائے گی ۔

سُوْرَۃِ یٰسٓ (21 آیات)

سُوْرَۃِ یٰسٓ مکی سورۃ ہے، قرآن کریم کی ترتیب کے اعتبار سے چھتیسویں ;40$41;اور نزولِ ترتیب کے اعتبار 41ویں سورۃ ہے ۔ اس میں کل5رکو ،83آیات ہیں ۔ اس پارہ میں سُوْرَۃِ یٰسٓ کی 21آیات ہیں ، باقی اگلے پارہ میں شامل ہیں ۔ اس سورہ کے ابتدائی دو حروف ’ی اور س ‘ کو ہی سورہ کا نام ’’سُوْرَۃِ یٰس‘‘ دیا گیا ۔ یٰسین کے معنی بعض مفسرین نے مختلف مختلف بتائے ہیں ان میں ’انسان‘، ’اے شخص‘، بعض نے اسے ’یا سید‘ کا مخفف بھی قرار دیا ۔ تفہیم القرآن کے مطابق اس تاویل کی رُو سے ان الفاظ کے مخاطَب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس سورۃ کا موضوع رسالت اور قریش مکہ کی مذمت ہے، بعد کی آیات میں جو پارہ تئیس میں ہیں دیگر موضوعات ہیں جیسے حبیب نجار کا قصہ ، اللہ کی قدرت کے دلائل، بنجر زمین کو اپنی قدرت سے شاداب کردینا، شمس و قمر کا نظام ، قیامت کی ہولناکیاں ، صور پھونکے جانے کا تذکرہ ہے ۔

سورہ یٰسین کی پہلی آیت میں اللہ قسم کھا کر اپنے نبی ﷺ کو’’ یقین دلا رہا ہے کہ یقینا تم رسولوں میں سے ہو‘‘، سیدھے راستے پر ہو، اور یہ قرآن غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے، تاکہ تم خبر دار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘ ۔ اللہ کو یقین دلانے کی وجہ کہ تم رسول ہو یہ تھی کہ قریش اس وقت جب یہ سورۃ نازل ہوئی پوری شدت کے ساتھ حضور ﷺکی بنوت کا انکار کررہے تھے ۔ اس لیے اللہ نے اس سورہ میں برائے راست قسم کھاتے ہوئے کہا کہ ’’یقینا تم رسولوں میں سے ہو‘‘ ۔ اس بات میں کسی قسم کا ابہام نہیں ، جو لوگ اب بھی نہیں سمجھ رہے انہیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ، قرآن کھلا ہوا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے ان مشرکین کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور یہ بھی کہ ان کے ایک دیوار آگے اور ایک پیچھے کھڑی کردی ہے ، یہ کسی صورت نہیں مانیں گے، تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، تم تو انہیں خبردار کرو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرے ۔ اللہ نے یہاں پھر کہا کہ ہم یقینا ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ، جو اعمال ہم کرتے جارہے ہیں اللہ انہیں لکھتا جارہ ہے ، اللہ کہتا ہے کہ ’’ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ ۔ یہاں اللہ نے کسی بستی والوں کا قصہ سننے کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ ہم نے ان کی جانب دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا،کہا کہ ہم تو تمہیں فالِ بد سمجھتے ہیں ، انہیں سنگسار کرنے کی دھمکی دی ۔ اس بستی پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ سب ختم ہوگئے ۔ باقی اگلے پارہ میں ۔ (22رمضان المبارک 1440ھ ،28 مئی2019ء)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 755 Articles with 642020 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
28 May, 2019 Views: 576

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ