عید الفطر کی فضیلت

(Waraq Hussain, Karachi)

عید کہتے ہیں جس میں اللہ کے احسان و انعام کا بندوں پر اعادہ ہو ، انعامِ الہی کا دن بار بار بندوں کے لئے آئے،اور مختلف انعامات و احسانات سے بندوں کو نوازا جائے۔( رد المحتار:3/44ریاض)رمضان المبارک میں جب بندوں نے مکمل اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہوئے ایک مہینہ کو گذارلیا تو اللہ تعالی نے اپنے ان محنت اور حکم کو پورا کرنے والے بندوں کو انعام سے نوازنے او رمغفرت فرمانے کے لئے عید کا دن رکھا ،عید ین کی راتوں کو لیلۃ الجائزہ ( انعام کی رات ) اور عید ین کے دنوں کو یوم الجائزہ ( انعام کادن ) کہاجاتا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا:اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان لم تعطہن امۃ قبلھم ۔۔۔۔ویغفرلھم فی اخرلیلہ قیل یا رسول اللہ اھی لیلۃ القدر قال لا ولکن العامل انمایوفی اجرہ اذاقضی عملہ ۔(مسند احمد:7717)رمضان المبارک میں میر ی امت کو پانچ چیزیں خاص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی جن میں ایک یہ ہے کہ:رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے ،صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہ شب ِ مغفرت شب ِ قدر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے ۔ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ :جب عید الفطرہوتی ہے تو (آسمانوں پر )اس کانام لیلۃ الجائزہ سے لیاجاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کو تمام شہر وں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں ،راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت اس کریم رب کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے ،جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے فرشتو !میں تمہیں گواہ بناتا ہو ں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ اپنی رضا اور مغفر ت عطا کردی ۔اور اپنے بندوں سے خطاب فرماکر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو مجھ سے مانگو ،میری عزت کی قسم !میرے جلال کی قسم آج کے دن اس اجتماع کے دن اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطا کروں گا ،اور دنیا کے بارے جو مانگو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا،میری عزت کی قسم جب تک میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا ،میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں اور (کافروں ) کے سامنے رسوا نہ کروں گا ۔بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ،تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا،فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس افطار کے دن ملتا ہے خوشیا ں مناتے ہیں ۔(فضائل الأوقات للبیہقی:65دار الکتب العلمیہ بیروت) روزہ دار عید کے دن گناہوں سے بخشابخشایا اور صاف ستھرا ہوکر اپنے گھر کو لوٹتا ہے اور انعامات الہی سے فیض یا ب ہو کر اور پرودگار عالم کی عطا وبخشش سے بہرور ہوکر واپس آتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waraq Hussain

Read More Articles by Waraq Hussain: 5 Articles with 1644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jun, 2019 Views: 229

Comments

آپ کی رائے