عشق کی حقیقت اور آج کے عاشق

(Zulqurnain Ahmed, India)

عشق ایک ایسی کیفیت کا‌ نام ہے، جو بلا سوچے سمجھے کسی بھی شخص سے اسکی کسی ادا ، خوبصورتی، آواز، نگاہوں، باتوں، سے ہوجاتا ہے۔ عشق وہ آگ ہے۔ جو لگانے سے نہیں لگتی اور بجھانے سے نہیں بجھتی، ایک شخص چاہتا ہے۔ اسے کسی سے عشق ہو وہ اس کیفیت کو اس قرب کو عشق کے فراق کو اسکی لذت کو، اس میں گزرنے والے وقت کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اسے کسی سے عشق ہی نہیں ہوتا، اور جب اگر کسی عشق ہوجائے تو پھر یہ ایسی آگ ہے جو لاکھ بجھانے سے نہیں بجھتی ہے۔ عشق ایک پاکیزہ جزبہ ہے۔ جس میں انسان اپنی انا اور نفس کی خواہشات کی پرواہ کئے بغیر محبوب کے عشق میں مبتلا ہوکر سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ یہاں تک کے عزت نفس بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ عشق دو طرفہ ہو تو اس میں کچھ حد تک کامیابی مل جاتی ہے۔ لیکن یکطرفہ عشق اکثر بے موت مارا جاتا ہے۔ محبوب کے معیار پر پورا اترنے میں انسان اپنے آپ کو فراموش کر دیتا ہے۔ پھر بھی محبوب کی‌نظر میں زرا سی بات یا‌ غلط فہمی پر مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ دھوکے باز، فریبی، کہتا جاتا ہے‌۔ اور اسکے خلوص کو پیروں تلے روند دیا جاتا ہے۔

دراصل عشق و محبت میں حقیقت میں مبتلا ہونے والا شخص ہی ایسی کیفیات سے گزرتا ہے۔ کیونکہ جہاں نیت میں خلوص ہو سچے جزبات ہو، پاک دل ہو، نیک خواہشات ہو، تو حقیقی عشق کی لذت ایسے ہی فرد کو نصیب ہوتی ہے۔ وہی محبوب کی بے توجہی، بے روکھی، انکار پر انکار، عزت نفس کو مجروح کرنے کے باوجود پورے خلوص سے محبت کرتا رہتا ہے۔ کیونکہ محبت کرنے سے نہیں ہوتی،‌ اور چھوڑنے سے نہیں چھوٹتی، اگر عشق سچا ہو۔ لیکن حالات سے مجبور ہوکر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ سے ہار جاتا ہے۔ اور‌ معاشرے کے بنائے ہوئے رسم و رواج، انا، خاندانی تفریق، ذات پات سے بھی۔ اور یہ حقیقی جزبہ عشق بے موت مارا جاتا ہے۔

لیکن آج کے موجودہ حالات میں جو عشق و محبت اسکول کالج یونیورسٹی میں نوجوانوں کے اندر دیکھائی دیتا ہے۔ اسکی بہت ساری وجوہات ہے۔ ایک تو یہ کے ہر گھر میں مغربی تہذیب نے اپنے قدم جما لیے ہے۔ ٹی وی میں عشق و عاشقی پر مشتمل سیریز، ڈرامے، موویز، نے بچوں سے لے کر نوجوانوں میں جنسی خواہشات کو عمر سے پہلے داخل کر دیا ہے۔ اب تو اسکول و کالج کے نصاب میں بھی جنسی تعلقات سے متعلق اسباق کو داخل کردیا گیا ہے۔ جیسے بچے بچپن میں دیکھتے ہیں حقیقی زندگی میں اسکی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور وہ کام کو مقررہ عمر سے قبل ہی کرنے کو خواہش رکھتے ہیں۔ یہ سب مغربی کلچر کے دین ہے۔

آج کل جو نوجوان لڑکے لڑکیاں عشق و عاشقی میں مبتلا ہوتے ہیں اس میں ایک تو وقت گزاری کی نیت ہوتی ہے۔ کے مزے لے کر چھوڑ دینگے۔ یہ صرف لڑکوں کا ہی نہیں بلکہ آجکل کی لڑکیوں کے اندر بھی یہ بات دیکھنے ملتی ہے۔ انکی پرورش مغربی تہذیب کے ساتھ ہونے کی وجہ سے انکے خیالات ایسے ہو چکے ہیں۔ کہ لڑکیاں بھی اب لڑکوں کو ضرورت کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اپنی خواہشات پورا کرنے کیلئے، انکے ساتھ جھوٹے عشق و محبت میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اور کچھ تو ایسے بھی ہیں۔ جس میں دونوں طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف ٹائم پاس کرنا ہے۔ اور نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوٹلوں پارکوں میں آزادنہ بے حیائی کے کام کو انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ اگر غلط خواہشات عاشق کے دل میں پیدا ہوگئی۔ یا اسکا مقصد صرف خواہش پوری کر‌نا ہے۔ تو یہ عشق نہیں ہو سکتا۔ ایسے افراد اگر عشق کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ لوگ ایک تو خالی ذہن، بے کار بیٹھے ہوئے، خواہشات کی تکمیل کرنے والے مرد ہوسکتے ہیں۔ جن میں کچھ حقیقت میں حلال طریقے پر محبوب کو اپنا کر نکاح کرکے تکمیل چاہتے ہیں۔
کالج یونیورسٹیوں میں جو عشق پروان چڑھ رہا ہے اسکا مقصد صرف خواہشات کو پورا کرنا ہے۔ ایسے نوجوان بھی ہے جو کھل کر دوستوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے زرا جھجھک محسوس نہیں کرتے کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ وقت گزاری کر رہے ہیں۔ اور لڑکیاں انہیں بلا سوچے سمجھے اپنا آپ سونپ دیتی ہیں۔ اور اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔ کے آخر میں اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہے۔ اور بھر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ سماج و گھر والوں کی سامنے عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچانے کیلے خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات اسلیے پیدا ہورہے ہیں۔ کیونکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کا کالج یونیورسٹی میں آزادنہ اختلاط والا ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔ جو کام معاشرے میں کرنا برا اور غلط سمجھا جاتا ہے۔ وہ کام کالج یونیورسٹی میں کھلے عام انجام دیے جاتے ہیں۔

ان تمام حالات پر قابو پانے کیلئے بالغ ہونے پر لڑکے لڑکیوں کا نکاح کرانا ضروری ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سماج مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔ دیگر مذاھب کی بات اور ہے وہاں حرام حلال کی کوئی تمیز نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن مذہب اسلام نے ہمارے لیے شریعت کی حدود متعین کی ہے۔ اس کے مطابق بلوغت کو پہنچنے پر نکاح ہوجانا چاہیے۔ اگر کوئی لڑکا لڑکی حرام کام میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تو اسکے ذمہ دار والدین ہو گے۔ اس لیے ضروری ہے۔کہ نوجوانوں کی فطری خواہشات کا احترام کیا جائے۔ ہر طرف ننگے سر والی خواتین، پردہ اور برقعے کے نام پر جسم کے عروج و زوال نمایاں ہونے والے برقعے پہن کر بازاروں کی زینت بننے والی خواتین، انٹرنیٹ اور ٹی وی میں ننگے جسم، موبائل میں ناچ گا‌نے۔ یہ سب کچھ اتنی آسانی سے ہر کسی کو مل رہا ہے۔ کہ غریب سے غریب کے پاس اینڈرائیڈ فون موجود ہے۔ اب جب معاشرے میں اتنی بے حیائی ، فحاشی عریانیت پھیل چکی ہو تو نوجوانوں کے اندر جنسی خواہشات کا پروان چڑھنا تو کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اسی لیے ضروری ہے ۔ کہ فطری عمل کی تکمیل میں دیری کرنے سے یہ تمام جنسی جرائم عام ہورہے ہیں۔ جب بھی دنیائے انسانیت نے قدرتی اصول اور فطرت سے اختلاف کرنے کی کوشش کی ہے ۔تو ایک بڑے عزاب سے دوچار ہوئی ہے۔ اس لیے اللہ تعالٰی کے حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوکر ان تمام سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ حالات بڑے سنگین صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ZULQARNAIN AHMAD

Read More Articles by ZULQARNAIN AHMAD : 9 Articles with 12828 views »
Freelance journalist.. View More
10 Jun, 2019 Views: 550

Comments

آپ کی رائے