عیدالفطر کا پیغام

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

عید سعید ایک ایسے موقع پر منائی جا رہی ہے جب مسلم امہ دنیا بھر میں اسلام دشمنوں کے نشانہ پر ہے۔ کشمیر سے فلسطین، چیچنیا سے اراکان، افغانستان سے عراق، شام و مصر ، غرض مشرق و مغرب میں ہر جگہ مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ غزہ میں معصوم لوگ جارحیت کی زد میں ہیں ۔ غیر مسلم ہمارے خلاف ملت واحد بن چکے ہیں۔ ہم اپنے ملت واحدۃ ہونے کا ابھی تک خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔کشمیر، غزہ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں مسلمان اپنے بچوں کے لئے کھلونے ، کپڑے، جوتے نہیں خرید سکتے۔ یہاں والدین بچوں کے لئے کفن خرید رہے ہیں۔یہی ان کی عید شاپنگ ہے۔ لا تعداد بچوں کے لئے کفن خریدنے والا بھی کوئی نہیں بچا ہو گا۔ خاندان کے خاندان اسرائیلی بمباری کے کھنڈرات کے نیچے دب چکے ہیں۔ ہم ساری صورتحال نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ صرف ٹی وی سکرینوں پر ہی دیکھ سکتے ہیں۔ بھارت میں مودی کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد جگہ جگہ ہندو بلوائی مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں۔کئی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔

ان حالات میں ہماری عید مثالی نہیں۔ عید اپنے ساتھ خوشیاں لاتی ہے۔ آج کی عید کے موقع پر خوشی منانے کا جواز نظر نہیں آتا۔ جواز نہ بھی ہو ، پھر بھی عید کو ہم نے عید کی طرح ہی منانا ہے۔ صرف ہم ایک تہوار کا احترام کر رہے ہیں۔ ہمارے دل زخمی ہیں۔ ہم غم زدہ ہیں۔ دکھ میں ہیں۔ ماتم کناں ہیں۔ لیکن ہم عید کے موقع پر ماتم نہیں کر سکتے۔ عید پرماتم کی وعید ہے۔ سال بھر میں ہماری دو ہی عیدیں ہوتی ہیں۔ جب ہم پر خوشی منانا لازم ہے۔ یہ روزہ دار کے لئے خوشیوں کا دن ہے۔ اس لئے ہم عید منائیں ، خوشی کا اظہار کریں ۔سادگی کے ساتھ۔ پاکستان میں چار اور آزاد کشمیر میں پانچ سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ہفتہ اور اتوار کو ملا کر یہ 9ہو جاتی ہیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا محنت کش اتنی چھٹیاں کیسے منا سکتا ہے۔

چاند دیکھ کر پٹاخے سر کرنا،ہوائی فائرنگ، ہلہ غلہ کا یہ وقت نہیں۔ ہمارے پڑوس میں لوگ ہیں جن کے گھر ماتم ہوئے ہیں۔ دنیا میں ہمارے بھائی تکلیف میں ہیں۔ ہم لذیز پکوان، برق زرق لباس سے زیادہ یتیموں، محتاجوں، کفار کے ازیت خانوں میں بند اپنے بھائیوں کو بھی یاد رکھیں۔ راہ حق کے شہداء کا بھی ہم پر حق ہے۔ وہ خون قرض ہے۔ یہ قرض ہم نے ہی چکانا ہے۔ بھارتی جارحیت کے متاثرین بھی ہماری توجہ اور تعاون چاہتے ہیں۔آج مسلمانوں کی بے بسی ، یاس بھری نگاہیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ خوش نہیں۔ بازاروں میں وہ پہلے جیسی رونقیں نہیں۔ وہ چہل پہل بھی نہیں۔اﷲ پاک سے دعا کریں کہ وہ ہماری خوشیاں لوٹا دے، انہیں دو بالا کردے۔ مسلمانوں کے اتحاد اور اتفاق کے بغیر یہ سب ناممکن نظر آتا ہے۔ مسلمان متحد ہوں گے تو خوشیاں بھی واپس آ سکیں گی۔

عید کے موقع پر ہم نے ایک نئی روایت قائم کر دی ہے۔ عید کے دن ہم ان لوگوں کے گھر تعزیت کو جاتے ہیں جہاں سال میں کوئی فوتگی ہوئی ہو۔ یہ سب شاید عید کے تقدس سے میل نہ کھاتا ہو۔ عید کے دن کسعزیز و اقارب کے گھرجانا اور ان کے ساتھ عید منانا درست ہے مگر اظہار تعزیت کے لئے تشریف لے جانا شاید مناسب نہیں۔ خوشی کے دن ماتم کی کیفیت اور فضا قائم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ فلاح گھر میں سال میں فوتگی ہوئی ہے۔ ان کیپہلی عید ہے۔ اس لئے ماتم کرنے چلیں۔ خوشی کے موقع پر غمی طاری کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر سید منانا مقصد ہو تو اس میں خیر کی توقع ہو گی۔آج پہلے ہی عید کی تاریخ کا اعلان کر دیاگیا ہے۔ خیبر پختونخواہ ار قبائلی علاقوں میں سرکاری اور غیر سرکاری عید کا تصور سامنے آ رہا تھا۔ مرکزی رویت حلال کمیٹی یکجہتی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ پشاور میں مفتی پوپلزئی ایک دن عید منا نے کا اعلان کرتے تھے۔ ان کا دعوی ہوتا تھا کہ انہیں مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں کہ پشاور، مردان، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں شوال کا چاند نظر آگیا تھا۔ یہ چاند سرکاری رویت حلال والوں کو نظر نہ آیا۔ سرکاری سطح پر عید نہ منانے کا اعلان کر دیا جاتا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور اس کا اعلان کر دیتے۔ملک میں شوال کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کے بارے میں مرکزی رویت حلا ل کمیٹی کا اجلاس بیٹھتا ہے۔سعودی عرب اور عرب امارات سمیت کئی ممالک میں چاند دیکھنے کی روایات قائم ہیں۔ خالص دینی معاملہ سیاست یا فرقہ واریت کی نذرنہیں کیا جا سکتا۔ ہم خواتین کو بازاروں میں شاپنگ کرانے لے جاتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ خواتین کو اپنے ساتھ مسجد اور عید گاہ میں لے جانے میں کسی کی مردانگی یا شرم و حیا کے منافی بات نہیں۔ بازاروں میں شرم و بے حیائی کا خیال نہ رہے تو مساجد اور عید گاہوں میں ایسا خیال کیوں اور جس کی ہمیں ہدایت ہے اس سے پرہیز کرنا ہم اچھا کیوں سمجھتے ہیں۔ حالانکہ نماز عید واجب ہے۔ عید کا خطبہ نماز عید کے بعد ہوتا ہے۔ یہ خطبہ سنت ہے۔ ہم نماز عید ادا کر کے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ نماز کے بعد خطبہ جس میں دعا بھی ہوتی ، اس میں شامل ہونا سنت ہے۔

عید کے موقع پر ہم نماز عید ادا کرتے ہیں۔ یہ اجتماعیت کا تصور ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اجتماعی مسائل مل کر حل کرنے کی تحریک ملتی ہے۔عید گاہوں اور کھلی جگہوں پر نماز عید ہوتی ہے۔ جہاں خواتین کے لئے بھی پردہ کا اہتمام کیا گیا ہوتا ہے۔ جب ہم صدقہ فطر ادا کرتے ہیں، اپنی خوشیوں میں فقراء اور مساکین، مسافرین، نادار وں کو بھی شامل کرتے ہیں تو نیک نیتی اور صدق دل سے کیا گیا یہ عمل اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بنتا ہے۔ اﷲ کی مخلوق کا عزت و احترام، حقوق العباد کی ادائیگی ایک مسلم کو اشرف المخلوقات اور زمین پر اﷲ تعالیٰ کا خلیفہ ہونے کا احساس دلا دیتی ہے۔ ہمیں ہدایت ہے کہ ہم اپنے گھر کی خواتین کو بھی عیدگاہوں میں لے کر جائیں اور انہیں بھی اجتماعی دعا میں شریک کریں۔رمضان میں جو خطا،کمی کوتاہی ہوئی ، اس کے لئے معافی کے طلبگار ہوں۔ توبہ کریں۔انسان خطا کا پتلا ہے۔ توبہ تمام گناہوں کو صاف کر دیتی ہے۔توبہ انسان کو ایسا بنا دیتی جیسے اس نے ابھی جنم لیا ہو۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 587 Articles with 230319 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
10 Jun, 2019 Views: 217

Comments

آپ کی رائے