قدیر گجر واپس آئیں گے

(Iftikhar Chohdury, )

اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ دنیا کہ بد ترین عید کہاں اور کب گزاری ہے تو میں جدہ کا نام لئے بغیر نہیں رہوں گا۔جب لوگ مجھے کارڈ بھیجتے تھے اور کہتے تھے ایسی ہزاروں عیدیں مبارک ہوں تو جی چاہتا تھا انہیں وٹہ کڈ ماروں۔ٓج قدیر گجر سے ویڈیو لنک پر بات ہوئی وہی سٹیک کی چارپائیاں اور ایک کمرے میں کئی کئی لوگ ہاتھ ہلا رہے تھے۔مجھے وہ دکھی دن یاد آ گئے اس بار تو وہ درویش بھائی بھی اس دنیا میں نہیں ہے جس کی بات کرنے جا رہا ہوں فیاض بھائی کمال کے بھائی تھے وہ پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر تھے لیکن بڑے کھڑپینچ قسم کے بھائی تھے کسی جگہ اگر انہیں نوکری دلوائی تو بعد میں پتہ چلا ٹھیکہ لے لیا ہے اور ڈرائیور رکھ لیا ہے۔کاسٹ اکاؤنٹنگ نہیں آتی تھی ٹھیکے کی رقم سے زیادہ اخراجات بڑھ جاتے۔اور پھر لوگوں کا چلنا پھرنا شروع ہو جاتا۔ہم جدہ کے اشرفیہ محلے میں رہا کرتے تھے مین مارکیٹ میں ظفر بیگ کی کیسٹوں کی دکان تھی وہیں اندر اشرفیہ ہوٹل والی گلی میں آگے جائیں تو دائیں ہاتھ چوتھی گلی میں ایک بلڈنگ تھی جس کی چھت پر تین کمروں کا مکان تھا وہاں ہم رہا کرتے تھے۔کوئی ستر کے قریب سیڑھیاں تھیں یہ چوراسی کا سال ہو گا میں الحسینی کمپنی میں سروس ایڈوائزر کا کام کرتا تھا۔مجھے چھٹی جلد ہو جاتی تو شام کو شباب سٹیریو پر ظفر صاحب کے ساتھ کیسٹوں کی دکان پر کھڑا ہو جاتا دکان بھی کوئی بڑی نہ تھی ایک دکان سے چھوٹا سا حصہ الگ کیا ہوا تھا۔وہیں لذیز ہوٹل کی گلی میں اس دکان پر بڑے شغل لگتے تھے۔جنریٹر جو جدہ الیکٹریک کی جانب سے گلی کے وسط میں لگا تھا اس کے اوپر اکثر ہاتھ سے لکھے اشہارات چپکائے جاتے تھے۔

ضرورت ہے ایک پاکستانی کی جو ساف ستھرا ہو۔شرفیہ میں واقع ایک کمرے کے لئے ساتھی کی ضرورت ہے کچن باتھ روم کی سہولت موجود ہے پانی وافر مقدار میں موجود ہے رابطے کے لئے شباب سٹیریو میں ظفر بیگ اور افتخار چودھری سے رابطہ کریں ظفر صاحب وہاں سے کسی بھارو کو قابو کرتے اور میں اس بندے کا پر تپاک استقبال کرتا ۔ستر سیڑھیاں چڑھ کر وہ پہنچتا تو ہف جاتا تھا ٹھنڈے مشروب سے تواضح کرتا کمرہ اندر سے بہت منقش تھا انہیں اس مکان کی خوبصورتی کے اہم نکات نیان کرنا میرا کام تھا۔مثلا شور شرابے دور،گرچہ سیڑھیاں زیادہ ہیں مگر ہم کون سا ہر وقت اترنا چڑھنا ہے۔کچھ شرائط ایسی بھی رکھیں کہ اگر آپ متفق ہیں تو تشریف لائے جانے سے پندرہ دن پہلے بتانا ہو گا۔

کئی آئے اور کئی چلے گے۔گرمی میں ستر سیڑھیاں چڑھنا کوئی آسان کام تھوڑا تھا اور ویسے بھی جس انداز سے انہیں آمد کے وقت خوش آمدید کہا جاتا تھا وہ مزاج کہاں بر قرار رہتے ہیں۔

اس ایک عید کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا۔جو ہم سے گزر گئی کمرے کی سائڈ پر تین چارپائیاں لگی تھیں بیچ میں دو تین گدے پڑے ہوئے تھے نو واردان کو فرشی گدے پر سونا ہوتا تھا۔کام پر جانے سے پہلے گدا دیوار کی سائڈ پر لگانا لازمی تھا۔اس عید کے روز ہم نماز نہ پڑھ سکے اے سی اتنا زیادہ ٹھنڈا کرتا تھا اس کا کوئی سر پیر نہ تھا تھرموسٹیٹ نامی چیز نہیں تھی اور نہ ہی سامنے کی جالی۔ہر ایک نے اپنا اپنا کمبل سر تا پا کر کے سونا ہوتا تھا۔کمبل کو سر پر رکھ کے سائڈ سے منہ نکالا گھڑی دیکھی نو بج چکے تھے سعودی عرب میں جو فجر کی نماز نہیں پڑھتا اور پڑھنے نہیں جاتا سمجھئے اس کی عید گئی میں نے چوہے کی طرح کھڈ سے منہ نکالا اور کہا ملک صاحب عید مبارک جواب آیا خیر مبارک

ویسے کئی بار تو ایسا ہوا عید پڑھنے گئے نماز پڑھی کوئی گلے لگنے نہیں آیا حسن نثار جب امت مسلمہ پر چیختا ہے تو شائد اس نے جدہ میں عربیوں کے ایریے میں نماز پڑھی ہو گی حرام ہے کوئی آپ سے عید ملتا ہوں۔طویل قیام کے بعد ہم اپنے ساتھ بندے لے کر جانا شروع ہوئے جو گلے ملتے تھے۔

آج میرا بیٹا شکیل بھی ادھر عید کر رہا ہے۔مجھے اس ملک کے انچوروں اورٹھگوں پر لعنت بھیجنے دیجئے جنہوں نے ماؤں کے بچوں کو زلیل کر کے رکھ دیا ہے میں نے پردیس میں جو خجالت اور ذلالت پائی ہے اس کے جواب میں میں نے اپنے بچوں کو بیویوں کے ساتھ وہاں رہنے دیا ہے۔اپنی ننھی سی عروہ کے ساتھ شکیل کو اپنی بیگم کے ساتھ تو وہ تکلیف نہیں ہوئی ہو گی جو اس کے باپ نے ۱۹۷۷میں دیکھی تھی بغیر نمبر پلیٹ کی سوزوکی موٹر سائیکل پر مصانع التیسر سے برف لے کر آنا اور اسے اگلے دن کے لئے محفوظ کرنا ۔اس لئے کہ ان دنوں فریج نہیں تھی اور نہ ہی اے سی لگا سکتے تھے۔بجلی کے وولٹیج بہت کم تھے۔

کئی عیدیں مدینہ منورہ میں گزاریں جسے بہتر صرف اس لئے کہوں گا کہ سرکار کے دربار میں گزریں۔ قدیر گجر اور شکیل افتخار گجر عرب کے دو مختلف ملکوں میں ہیں ۔اوورسیز پاکستانی کی زندگی بہت مشکل ہے۔اﷲ کسی کو پردیسی نہ کرے۔لوگ کہتے ہیں ریال اڑتیس کا ہے ضرور ہے لیکن اس کی قیمت کا اندازہ صرف اس پاکستانی کو ہے جس پر قیامت گزرتی ہے ایک کمرے میں چھ چھ سات سات لوگ۔ان کی سحریوں کی باتیں اور افطاریوں کی کہانیاں کون لکھے گا۔اس لئے کہ ان کی آواز بننا کسی کو گوارہ نہیں۔مالٹے کے بڑے بڑے ٹکڑے فروٹ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے کھانا بہت سا تربوز اور مشروب پتیلے ہانڈیاں برتن کمرہ چھوٹا اور سب جڑ کے بیٹھے ہوئے۔جب ان کی کمائی کو اللوں تللوں میں اجاڑا جاتا ہے دل دکھی ہوتا ہے اﷲ قسم جب عمران خان نے محمد بن سلیمان سے یہ کہا کہ یہ لوگ مجھے دل سے عزیز ہیں تو میری آنکھوں میں وہ دکھ اور تکلیفیوں کے سمندر امڈے جو میں نے کبھی جدہ کی برتھ نمبر سولہ،ربع الخالی کے صحرا،شارع فلسطین کے ہی نگروں پر ریاض ایئر پورٹ کی عبداﷲ صالح کعکی کے دفاع المدنی کے پراجیکٹ پر انتہائی کسمپرسی میں وقت گزارا میں ایک بار کلر ٹی وی پاکستان لے گیا بے جی نے مجھے چھت دکھائی جس میں چھابہ بھی نظر آ رہا تھا کہا بیٹے کچے گھروں میں رنگین ٹی وی نہیں جچتے ۔اور اﷲ نے وہ وقت بھی دکھایا کہ نئی پاجیرو میں دوران حج ماں نے شکوہ کیا اے سی ٹھنڈا کرتا ہے پاس کی دکان سے کمبل لے کر دیا اور کہاں میری پیاری ماں یہ کمبل اوپر لے میں باہر پچاس سنٹی گریڈ میں آپ کو نہیں دیکھنا چاہتا۔

جب کوئی دکھی ہوتا ہے تو اسے کہتا ہوں جھلیا ۱۵۰ روپے مہینے سے ۱۲لاکھ مہینہ کمایا ہے محنت کر حسد نہ کر۔

بات کہاں سے چلی کہاں نکل گئی۔جلنے اور سڑنے سے بہتر ہے کوئی مجھے دیکھے۔میں کیا ہوں لوگ اربوں پتی بنے عزت پائی مگر ان کی زندگی کے پیچھے محنت تھی۔مائیں اپنی اولادوں کو میری ماں کی طرح پروان چڑھائیں۔کہا کرتی تھیں بیٹا کھایا کوئی نہیں دیکھتا پہنا دیکھتا ہے۔ایک بار والد صاحب سے کہا چا چا جی پائے کھانے ہیں کہنے لگے بیٹا ضرور لیکن اس وقت کھائیں گے جب اس پوزیشن میں ہوئے۔جب لاہور گیا تو لوگ کہتے حاجی اﷲ رکھے کے تکے کھانے تمہارے شہر آئیں گے میں نے اس وقت تک چکھے بھی نہیں تھے پھر سب کچھ ملا۔اﷲ سب کو دے۔پچھلے جمعے کو بیٹے نے نئی کرولا کار تحفتا دی بے جی طرح کہا میری لانسر ہے اور دنیا جانتی ہے کیا ضرورت تھی۔پھر سوچا میں نے بی تو ماں کو پاجیرو میں بٹھایا تھا اور والد صاحب کو کیپرس میں سیر کرائی تھی۔

اﷲ سب کے بچوں کو میرے بچوں جیسا کرے بس ایک بات کہنی ہے اوورسیز پاکستانیوں اپنی بچتوں کا خیال رکھو پاکستان میں انویسٹ کرو پلاٹ لو۔فضول خرچی نہ کرو آپ کی عیدوں کا دکھ مجھے ہے یا اس ماں کو بیوی کو بچی کو جو ایک اس بندے کے سہارے مشکل وقت گزار رہی ہیں مجھے پورا یقین ہے کہ اگر سارے ٹھگ جو عید کے بعد اکٹھے ہورہے ہیں اور عدالتی چور جنہوں نے اس ملک کو شیر مادر سمجھا اگر ناکام ہوئے تو پردیسی کی عید ادھر دو چار سالوں میں ہو گی پھر کوئی ودیر اور شکیل گجر ملک سے باہر نہ ہو گا عید مبارک بوجھل دل کے ساتھ اﷲ نے چاہا تو سارے قدیر گجر واپس آئیں گے-
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 210 Print Article Print
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 375 Articles with 108984 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Reviews & Comments

Language: