اسلام اور خواتین

(Shaffaq khan, Faislabad)

پتہ نہیں وہ کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔۔۔۔
جنہیں اپنے بھائیوں سے اپنی ہر سالگرہ پہ مہنگے تحفے چاہیے ہوتے ہیں ۔۔۔!
اپنی تمام دوستوں میں وہ چہکتی ہوئ بے پردہ ،کھلکھلاتی ہوئ ، اللہ سے بے فکر بے خوف سب سے منفرد نظر آ رہی ہوتی ہیں ۔۔۔۔!
جو گلے میں یا پھر کندھوں پہ دوپٹہ ڈالے مردوں کے ساتھ بے نیاز ہو کے باتیں کرتی ہیں ۔۔۔۔!
جنہیں نور کی نہیں دنیاوی چمک کی خواہش ہوتی ہے ۔۔۔!
جو ایک مرد کی تکمیل کرنے کی بجائے اسے سیڑھی بناتی ہیں اپنی بے جا آزادی کیلئے ۔۔۔۔!
جو باپ سے تیز لہجے میں بات کر کے یہ سوچنا ضروری نہیں سمجھتیں کہ اسی باپ نے بولنا سکھایا ہے ۔۔۔ !
جو بنا روک ٹوک ،ہچکچاہٹ اور شرم کے اپنے لڑکے دوستوں سے کسی بھی چیز کی مانگ کر لیتی ہیں ۔۔۔!
ایسی لڑکیاں ماڈرن کہلاتی ہیں ۔۔۔ جی ہاں دورِ حاضر میں انہیں انڈیپنڈنٹ اور سیٹلڈ کہا جاتا ہے ۔۔۔ یہاں تک کے مسلم ممالک میں بھی ۔۔۔ مگر کیا اسلام بھی یہی کہتا ہے ؟؟ اسلام میں تو ایسی عورتوں کو زمانہِ جہلیت کی فاحشہ کہا گیا ہے ۔۔۔ اسلام میں تو ماڈرن عورتوں سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنی پاکیزگی سے گھر کو پاک رکھیں ۔۔۔ جن کے پردے کے باعث گھر میں برکت رہے ۔۔۔ جن کی پاک دامنی سے ان کا مجازیِ خدا تسکین حاصل کرے ۔۔۔ اگر حجاب کی حالت میں گھر سے باہر نکلے تو ایسی عورت کی فرشتے بھی حفاظت کریں ۔۔۔ جس کے والدین کو اس کی پارسائ پر ناز ہو ۔۔۔ جس کی اولاد اس سے بھی ذیادہ پرہیز گار ہو ۔۔۔ جس کا مقصد دنیا کی چمک نا ہو بلکہ آخرت میں سرخرو ہونا ہو ۔۔۔۔
اور پتہ ہے ایسی عورت ہونے کا کیا فائدہ ہے ؟
ایسی عورت نسلیں بخشوا جاتی ہے ۔۔۔۔ نسلیں ۔۔۔!
جی ۔۔۔۔ اسلام کی ماڈرن عورت نسلیں سدھار دیتی ہے ۔۔۔ جبکہ دورِ حاضر کی انڈیپنڈنٹ اور ویل سیٹلڈ عورت نسلیں اجاڑ دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔ !
مگر عورت کے پاک ، نا پاک ہونے کا انحصار مرد ذات پہ ہوتا ہے ۔۔۔! ایک مرد ایک اچھی عورت کو ترجیح دیتا ہے تو کل کو اس کی بیٹی بھی ایک صالح اور نیک مرد کی ترجیح بنتی ہے ۔۔۔ اور اگر مرد ہی بے پردہ عورت کو ترجیح دے تو اس کی بیٹی بھی بے پردہ ہی پسند کی جاۓ گی ۔۔۔ جیسا کہ زمانہِ جہلیت میں ہوتا ہے اور اب پھر سے ہونے لگا ہے۔۔۔۔ اسلام کاملیت ، روحانیت اور محبت کا دین ہے ۔۔۔۔ جس پہ چل کے جنت کمائ جاتی ہے ۔۔۔۔ ❤
اور جہالت ایسا نا سور ہے کہ جس کی وجہ سے نسلوں کی نسلیں اللّہ کے عذاب کا شکار ہوئیں ۔۔۔👉

#
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shaffaq khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jun, 2019 Views: 151

Comments

آپ کی رائے