کیچڑ سے سونا اور غم تہذیب

(Tahir Farooqi, muzaffrabad azad kashmir)

ہمارے ننھے پڑوسی ملک سری لنکا کے شہر کنیڈی کے سکولز کے معیار تعلیم‘ تربیت کا جائزہ لینے ماہرین تعلیم کی ٹیم نے دور کیا جن کا بنیادی اُصول کلاس رومز‘ باتھ رومز کے ماحول سے نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے‘ جس سے متاثر ہو کر سکول منتظمین کو شاباش دینے لگے تو پرنسپل نے کہا کہ آپ نے دیکھا کیا ہے‘ آئیے ایک اور منظر دکھاتا ہوں‘ وہ کینٹین میں لے گیا جہاں بچے اپنی رورت کی چیزیں اُٹھا کر پیسہ ایک غلہ میں ڈال کر باہر چلے جاتے تھے تو ٹیم نے پوچھا کینٹین والا کدھر ہے تو بتایا یہاں اس کی ضرورت نہیں ہے‘ بچے اتنے دیانت دار ہیں کہ ایمانداری سے پورے پیسے غلہ میں ڈال کر چلے جاتے ہیں یعنی صرف سکول نہیں گھر محلہ شہر ملک کے اجتماعی چہرے کا پتہ چل گیا کہ ان کا کردار کیا ہے‘ جو تربیت یعنی کردار سازی کی طاقت کا نتیجہ ہوتا ہے اور وہ جس کی دشمن کا روز اول سے سامنا ہے‘ بھارت کے اندر ترقی‘ خوشحالی کی جانب سوچ و عمل بھی واقعتا تبدیلی کا پتہ دیتی مثالیں ہیں‘ باتھ رومز میں استعمال پانی کو سیوریج لائنیں سے باہر آنے کے بعد ری سائیکلنگ سے پانی بجلی کے چھوٹے چھوٹے منصوبوں اور میتھن سیوٹوسے بائیو سی این جی نکال کر بسیں چلائی جا رہی ہیں تو کھاد بنا رہے ہیں‘گنگا جمنا دریاؤں کے کناروں پر استعمال شدہ پانی کو ڈائیجسٹو ٹیکنالوجی کے ساتھ بجلی کی پیداوار کیلئے کارآمد کر لیا گیا ہے‘ اُتر پردیش بہادر جھاڑ کھنڈ‘ تامل ناڈو‘ اڑیسا بنگال‘ کرناٹک ریاستوں‘ صوبوں‘ مقامی حکومتوں کی آمدن لوگوں کی بجلی‘ زراعت‘ پانی‘ روزگار‘ ضروریات کا راستہ محنت سے بنایا گیا ہے‘ صرف یہ نہیں ہیئر ڈریسرز شاپس سے کٹنگ کے بعد انسانی بال بلکہ گلی محلوں‘ آبادیوں‘ کھیتوں‘ کھلیانوں میں گائے‘ بھینس‘ بیلوں‘ بکریوں حتیٰ کہ کتوں کے بال بائیو فٹیلائزر ایمنیوایسٹ کے ساتھ کھاد میں بدل کر ان کو اندرون و بیرون ملک 9 سو کی بوتل کے متبادل تین سو میں فراہم کر کے سرمایہ حاصل کیا جا رہا ہے تو روزگار کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے‘ درختوں‘ پودوں‘ بیلوں وغیرہ سے گرنے والے پتوں سے بائیو فرٹیلائزر تیار ایمنیوایسٹ کے ملاپ سے تیار کھاد تیز زرعی نشوونما میں استعمال ہو رہی ہے‘ سمندروں کے ساحلوں پر سولر انرجی اور ڈائجیسٹو ٹیکنالوجی کا استفادہ سمندر کے نمکین پانی کو قابل استعمال بنا کر بجلی‘ زرعی دیگر استعمال کا کامل سماج کے حق میں دکھایا جا رہا ہے یہ سب کچھ ترقی یافتہ ممالک نہیں بلکہ بندر سانپ‘ گائے‘ مٹی کی مورتی کی پوجا کرنے والے کر رہے ہیں‘ کیچڑ سے سونا بنا رہے ہیں اور ہم رحمن‘ رحیم‘ رحمت العالمین کتاب علم و حکمت کے وارث‘ چاند کے جھگڑے‘ جعلی جمہور‘ حب الوطنی‘ وفاداری‘ قومی مفاد‘مذہب‘ فرقہ‘ زبان‘ نسل‘ علاقہ کے گورکھ دھندے میں کولہو کا بیل بنے آ رہے ہیں‘ ایلیٹ کلاس نے سارے نظام سے جڑے عناصر کو ایسا اندھا بہرا گونگا بنا دیا ہے کہ بغیر ناجائز کمیشن کے کوئی ترقی کا منصوبہ توجہ کا لائق نہیں ہوتا تو نئے منصب‘عہدے‘ کرسی‘ گاڑی‘ کوٹھی‘ اگلے گریڈ اور مراعات کیلئے اسامی کی تخلیق سمیت سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے‘ دشمن اسرائیل کی اسمبلی سے لے کر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی تک کی مثال محبوب ہو جاتی ہے مگر خلق کی باری آئے تو وسائل کا رونا‘ ماتم ایک دوسرے پر الزام کا تماشا لگتا ہے کیوں کہ پورے ملک میں اس تماشے کے کرداروں کا بھگوان کرپشن ہے جن سے اچھے جانوروں‘ مٹی کے بتوں کے پوجاری ہیں کم از کم اپنے ملک‘ مخلوق سے تو فراڈ نہیں کرتے ہیں‘ فرق صرف کردار‘ تربیت و عمل کا ہے‘ پروین شاکر نے کیا خوب کیا ہے۔
اے میری گل زمین تجھے چاہا تھی ایک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا
اور تہذیب ماضی نے کمال کیا کہ
ہم ایک عمر اسی غم میں مبتلا رہے تھے
وہ سانحے ہی نہیں تھے جو پیش آ رہے تھے
کچھ اس لیے تو میرا گاؤں دوڑ میں ہارا
جو جیت سکتے تھے بے ساکھیاں بنا رہے تھے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 204 Articles with 68323 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jun, 2019 Views: 305

Comments

آپ کی رائے