محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑدیا

(Muhammad Akram Awan, )

زندگی کے سفرمیں کئی لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے،ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں، جن سے مل کر،کچھ عرصہ بعدانہیں ہم بھول جاتے ہیں،لیکن کچھ لوگ ایسے مہربان،شفیق ، پیارکرنے اور دل میں جگہ دینے والے ہوتے ہیں،جن سے ملنے کے بعدوہ ہمیشہ کے لئے دل وجاں میں بس جاتے ہیں۔رحمت علی رازی بھی ایسی ہی متواضع ،خلیق ، مہربان ، عمدہ صفات اور نفیس شخصیت کے مالک تھے ،جن کی بناپر نہ صرف قرب وجواربلکہ دوردرازکے لوگ بھی ان کی جانب کھچے چلے آتے اوروہ اُنہیں اپنے حلقہ اثرمیں لے لیتے ۔ رحمت علی رازی زندہ دل ،ہمہ جہت شخصیت کے مالک اور مجلسی انسان تھے۔ آپ کی محفل میں کوئی خواہ کتنی ہی دیر رہتا، وہ بددل اور بیزار نہ ہوتا۔تمام احباب اور ملاقاتیوں کے ساتھ اخلاق اوراخلاص سے لبریزسلوک کرنا ان کے مزاج کاخاصہ تھا۔ وہ ہرایک کے مزاج ، میلان اورعلمی استعداد کے مطابق گفتگوکرتے۔ ان کے لبوں پرپھول کی مانندایک مسکراہٹ ہمیشہ رقصاں رہتی ۔

جبرکاہراندازمستردکرکے حق گوئی وبے باکی کوشعاربنانے والے دبنگ صحافی و کالم نگاررحمت علی رازی(عزم گروپ آف نیوزپیپرز) کے چیئرمین اوراس گروپ کے زیراہتمام شائع ہونے والے روزنامہ طاقت،،ہفت روزہ عزم،روزنامہ بزنس ورلڈ،ہفت روزہ اکنامک ورلڈاورماہنامہ بزنس ایشیا کے پبلشراور ایڈیٹرانچیف بھی تھے ۔ آپ نے 1974میں صحافت کا آغازسٹاف رپورٹرکے طورپرکیا ۔اپنے کیرئیرکے آغازمیں انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ ان طویل مجاہدوں،تمام مشکلات کواپنے دل پرگزارتے رہے اوراپنی ذہانت، مسلسل محنت ولگن کے بل بوتے پرصحافت میں منفرد شناخت بنائی ۔آپ نیک نیت ،خوددار اور شدیداحساسات کے انسان تھے۔جنہوں نے چاپلوسی اورشارٹ کٹ کی بجائے شب وروزکی انتھک محنت سے وہ مقام حاصل کیا،جوہرایک کے مقدراورنصیب میں کہاں۔رحمت علی رازی صحافت سے وابستگی کواپنے لیے قابل ِ فخر،سب سے بڑااوراصل اعزازسمجھتے تھے۔وہ سچے دل سے پاکستان کو صحیح معنوں میں کامیاب ،فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ ملکی حالات کی وجہ سے ہمیشہ فکرمندرہتے۔
کالم نگاری کی دُنیامیں ممتازمقام پرفائزرحمت علی رازی نے ملکی دفاع، معیشت، صحافت کودرپیش چیلنجز،حکومت، سیاست اور بیوروکریسی کے متعلق بے شمار کالم لکھے۔ آپ کے کالموں کوعوام،سیاستدانوں،سول وفوجی بیوروکریسی میں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔تحقیق،معیاراور منفرداسلوب کے حامل ہردلعزیزصحافی جن کے حقائق پر مبنی ، فکرپرورکالم ،قلب وروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترکرقاری کومحسورکردیتے۔ ان کے دلکش اسلوب کا کرشمہ قاری کوحیرت واستعجاب کی ایسی فضاسے آشناکرتا جواُس کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے کی حیثیت رکھتا۔آپ کی حقیقت پر مبنی تبصرہ نویسی سندکی حیثیت رکھتی، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے 23مارچ 2000ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا،اس کے علاوہ بطوربہترین تحقیقاتی صحافی کے تحقیقاتی رپورٹنگ پر سات مرتبہ ، اے پی این ایس ایوارڈ حاصل کرکے صحافت کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کیا،جس کی نظیرپاکستان کی صحافت میں نہیں ملتی۔

1989 میں غیرمعمولی فوجی مشق"ضرب ِمومن"میں بطوردفاعی نامہ نگار شمولیت کی،اس دوران پاک فوج کے مختلف یونٹوں کے ساتھ رہتے ہوئے،جنگی مشق کی شاندار رپوٹنگ پرانہیں،اُس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے"تعریفی سند"عطاء کی گئی۔

درویش منش صحافی رحمت علی رازی بہاولپور، جنوبی پنجاب کے دوردراز اورپسماندہ علاقہ چک نمبر30بی سی شرقی سے آکرداتا کی نگری لاہورمیں آبادہوئے۔ یہاں آکرانہوں نے شہرت وعزت کمائی اوربے شمارکامیابیاں سمٹیں مگرآخردم تک دیہاتی اقدارنہیں بھولے ۔سفیدکرتہ وقمیض آپ کا پسندیہ لباس تھا۔آپ سچے عاشق رسولﷺتھے۔آپ کواہل ِ بیت،صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین، بزرگان ِ دین اوراولیائے کرام سے خصوصی محبت و عقیدت تھی۔انہیں زندگی کی سب سے بڑی خواہش کی تکمیل،اپنے خاندان کے ہمراہ عمرہ اورروضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔دل کے عارضہ کے بعدآپ نے اپنے آفس میں ہی نمازکی ادائیگی کے لئے انتظام کررکھاتھا۔آپ اکثرعلی ہجویری رحمتہ اﷲ کے دربارحاضری دیتے ،جہاں دیرتک دُعاکرتے اورذکرمیں مشغول رہتے۔

رحمت علی رازی جیسے باہمت ، حوصلہ مند لوگ کم کم دنیا میں پیداہوتے ہیں۔دُکھی انسانیت کے ساتھ دردمندی،بے لوث محبت اورخلوص کے ذریعے انہوں نے اپنی شخصیت کی نشونماکا موثراہتمام کیا۔آپ بڑے باہمت اورمضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ انہوں نے انسانیت کے وقار اورسربلندی کوہمیشہ مقدم رکھا۔دوسروں کی مددکرنا ان کاشعارتھا،وہ صرف وعدہ نہیں کرتے تھے بلکہ جس بات کی ایک بارحامی بھرلیتے،پھر اُسے پایہء تکمیل تک پہنچاکرہی دم لیتے۔آپ کی زندگی،اخلاص اور ہمت آج کے نوجوانوں کے لئے درس ِ عمل ہے۔

کئی عشروں تک تحقیقاتی رپورٹنگ میں تہلکہ مچانے،جابرحکمرانوں کی خبرلینے،کالم "درون پردہ"کے نام سے عالمی شہرت پانے والے رحمت علی رازی بھی اس دُنیائے فانی سے چلے گئے۔14 جون 2019 بروز جمعہ فیصل آبادشادی کی تقریب سے لاہور واپسی پردل کادورہ جان لیواثابت ہوا۔ یہی دُنیا کی حقیقت ہے ،کہ جوبھی اس دُنیا میں آیا ہے،اُس نے جانا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ پہلے چلے جاتے ہیں اورکچھ بعدمیں یعنی اپنی اپنی باری کے اعتبار سے سب نظام چلتا ہے۔ رحمت علی رازی جیسے انسانیت دوست لوگ اپنے اخلاص، کردار،صلاحیتوں اورگراں قدرخدمات کے ذریعہ تاریخ اورلوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔صحافت کے لئے رحمت علی رازی کی صحافتی خدمات کوہمیشہ یادرکھا جائے گا۔آپ کی رحلت سے صحافت کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا،صحافتی دُنیا، صحافت کو درپیش چیلنجز اورآزادی صحافت کی جدوجہد میں جوخلاپیداہوا،شایدکبھی پرنہ ہوسکے۔ آپ پاکستان کا سرمایہ تھے،ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ عجب آزادمردتھا۔۔۔اک چراغ تھا جوبجھ گیا ۔ ۔ ۔ اﷲ تعالیٰ بحق ِمحمدﷺ و آل ِ محمدﷺان کے صغیرہ وکبیرہ گناہ معاف فرمائے، روز ِ قیامت محمد ﷺکی شفاعت نصیب فرمائے،جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین
محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑدیا
سازخاموش ہیں نغمات نے دم توڑدیا
ہر مسرت غم ِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑدیا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 46210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jun, 2019 Views: 424

Comments

آپ کی رائے