طلبہ اور انکے مسائل

(Emaan, Okara)

آج ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ میں جانا ہوا تو دیکھا کہ ایک بارہ سال کے بچے نے اپنی ہاتھ کی نس کاٹ رکھی تھی ۔ جس کو ڈاکٹرز حضرات ٹریٹمنٹ دے رہے تھے جبکہ اس کا باپ اور ماں مسلسل رو رہے تھے ۔ جب معلوم کیا کہ کیا وجہ ہوئ تو پتا چلا کہ کئ دن سے سکول میں اس کو تنگ کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے اس نے ہاتھ کی نس کاٹی ۔
بچے کس وجہ سے ایسا کرنے کی طرف جاتے ہیں ۔
سکول میں بدمعاشی کا نشانہ بننا
ہم میں سے اکثر اپنی اسکول لائف میں بڑے طالب علموں کی جانب سے بدمعاشی کی حد تک برے رویے کا سامنا کرچکے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جس اسکول میں ہم اپنے بچے کو بھیج رہے ہیں وہاں طرح طرح کے خاندانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچےآتے ہیں۔
ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کہیں کوئی بدمعاش آپ کے بچے کو بدمعاشی کا نشانہ تو نہیں بنا رہا۔ بعض بچے اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ ایسے واقعات پر اگر ان کی سنوائی نہ ہو تو موت کو گلےلگانا بہتر سمجھتے ہیں۔ اور سینئر بچے ان کو زیادتی کا بھی نشانہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خودکشی کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔
بہن بھائیوں کا برا برتاؤ
بعض گھروں میں بہن بھائیوں کے آپسی رویے پر توجہ نہیں دی جاتی اور ایسے ماحول میں کوئی ایک بچہ جو بہت زیادہ بولڈ نہیں ہوتا ، اپنے بہن بھائیوں کے برے رویے کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بہن بھائیوں کے خراب رویے خاندان میں تفریق کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات کچھ بچے اس حد تک دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں کہ خودکشی کرلیتے ہیں۔
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا
یہ رویہ عموماً ان بچوں میں نشونما پاتا ہے جہاں الگ خاندان کا رواج رائج ہے ، اور ماں باپ فکر ِ معاش میں بدحال اپنے بچے پر توجہ نہیں دے پارہے ہوتے۔ ایسے ماحول میں بچے کے اندر شدت سے تنہائی کا احساس ابھر آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس بھری دنیا میں اسے پیار کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ احساس کبھی کبھار اس قدر توانا ہوتا ہے کہ بچہ خود کشی پر مائل ہوجاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ گاہے بگاہے بچے کو گلے لگا کر ، اسے پیار کرکے احساس دلائیں کہ آپ اس سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
جنسی یا جسمانی تشدد
اگر کوئی بچہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوا ہے یا اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے تو یاد رکھیے ایسا بچہ شدید خطرے میں ہے ۔تشدد بالخصوص جنسی تشدد بچے کے ذہن میں انتہائی منفی خیالات کو فروغ دیتا ہے اور یہ خیالات بچے کو خودکشی کی جانب راغب کرتے ہیں۔
برے والدین
بچے پالنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری ہے، شادی کے بعد جوڑوں کو چاہیے کہ پہلے ایک دوسروں کو سمجھیں اور اپنے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں، اسکے بعد بچے پیدا کرنے کا سوچیں ۔ جن والدین میں ہم آہنگی نہیں ہوتی اور وہ آپس میں ہر وقت آمادہ پیکار رہتے ہیں، تو لازمی امر کے بچے میں اس جنگ میں نشانہ بنتے ہیں۔ بعض اوقات اس سلسلے میں بچوں کو دونوں جانب سے تشد د کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ والدین کے خراب رویے بچے میں خود کشی کے خیال کو مہمیز کرتے ہیں۔
احساس کمتری
بعض رشتوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ دکھاوے کو ہی صحیح لیکن ہم اپنے بچے پر کسی دوسرے کے بچے کو ترجیح دے دیتے ہیں، یا اپنے بچے کے سامنے کسی اور کے بچے تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں۔ خبردار ! یہ رویہ آپ کے بچے میں احساس کمتری کو جنم دے گا جو اس کے لیے جینا دشوار کردے گی، والدین کے لیے ان کا بچہ ہی دنیا کا سب سے اہم بچہ ہونا چاہیےاور انہیں اس کا علی اعلان اظہار بھی کرنا چاہیے۔
پسندیدہ شخصیت کی موت
کسی قریبی شخصیت کی موت بھی بچوں کو خودکشی کی جانب راغب کرسکتی ہے ، خصوصاً ٹین ایج میں ایسے معاملات دیکھنے میں آتے ہیں ، ایسے کسی افسوس ناک سانحے کی صورت میں فوری اپنے بچے کو وقت دینا شروع کریں اور اسے زندگی کے معنوں سے روشناس کرائیں۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خودکشی کو مذہب نے حرام اور بد ترین فعل قرار دیا ہو،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سنہ 2011 میں اقدام خودکشی کے 1،153 اور خودکشی کے 2،131 واقعات پیش آئے ، جن میں اکثریت 30 سال سے کمر عمر افراد کی تھی اور اس میں بھی اکثریت ٹین ایجر تھی، ہر گزرتے سال اس شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ھے،،
آخر ان مسائل کی روک تھام کے لئے کب اقدامات آج ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ میں جانا ہوا تو دیکھا کہ ایک بارہ سال کے بچے نے اپنی ہاتھ کی نس کاٹ رکھی تھی ۔ جس کو ڈاکٹرز حضرات ٹریٹمنٹ دے رہے تھے جبکہ اس کا باپ اور ماں مسلسل رو رہے تھے ۔ جب معلوم کیا کہ کیا وجہ ہوئ تو پتا چلا کہ کئ دن سے سکول میں اس کو تنگ کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے اس نے ہاتھ کی نس کاٹی ۔
بچے کس وجہ سے ایسا کرنے کی طرف جاتے ہیں ۔
سکول میں بدمعاشی کا نشانہ بننا
ہم میں سے اکثر اپنی اسکول لائف میں بڑے طالب علموں کی جانب سے بدمعاشی کی حد تک برے رویے کا سامنا کرچکے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جس اسکول میں ہم اپنے بچے کو بھیج رہے ہیں وہاں طرح طرح کے خاندانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچےآتے ہیں۔
ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کہیں کوئی بدمعاش آپ کے بچے کو بدمعاشی کا نشانہ تو نہیں بنا رہا۔ بعض بچے اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ ایسے واقعات پر اگر ان کی سنوائی نہ ہو تو موت کو گلےلگانا بہتر سمجھتے ہیں۔ اور سینئر بچے ان کو زیادتی کا بھی نشانہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خودکشی کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔
بہن بھائیوں کا برا برتاؤ
بعض گھروں میں بہن بھائیوں کے آپسی رویے پر توجہ نہیں دی جاتی اور ایسے ماحول میں کوئی ایک بچہ جو بہت زیادہ بولڈ نہیں ہوتا ، اپنے بہن بھائیوں کے برے رویے کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بہن بھائیوں کے خراب رویے خاندان میں تفریق کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات کچھ بچے اس حد تک دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں کہ خودکشی کرلیتے ہیں۔
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا
یہ رویہ عموماً ان بچوں میں نشونما پاتا ہے جہاں الگ خاندان کا رواج رائج ہے ، اور ماں باپ فکر ِ معاش میں بدحال اپنے بچے پر توجہ نہیں دے پارہے ہوتے۔ ایسے ماحول میں بچے کے اندر شدت سے تنہائی کا احساس ابھر آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس بھری دنیا میں اسے پیار کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ احساس کبھی کبھار اس قدر توانا ہوتا ہے کہ بچہ خود کشی پر مائل ہوجاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ گاہے بگاہے بچے کو گلے لگا کر ، اسے پیار کرکے احساس دلائیں کہ آپ اس سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
جنسی یا جسمانی تشدد
اگر کوئی بچہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوا ہے یا اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے تو یاد رکھیے ایسا بچہ شدید خطرے میں ہے ۔تشدد بالخصوص جنسی تشدد بچے کے ذہن میں انتہائی منفی خیالات کو فروغ دیتا ہے اور یہ خیالات بچے کو خودکشی کی جانب راغب کرتے ہیں۔
برے والدین
بچے پالنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری ہے، شادی کے بعد جوڑوں کو چاہیے کہ پہلے ایک دوسروں کو سمجھیں اور اپنے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں، اسکے بعد بچے پیدا کرنے کا سوچیں ۔ جن والدین میں ہم آہنگی نہیں ہوتی اور وہ آپس میں ہر وقت آمادہ پیکار رہتے ہیں، تو لازمی امر کے بچے میں اس جنگ میں نشانہ بنتے ہیں۔ بعض اوقات اس سلسلے میں بچوں کو دونوں جانب سے تشد د کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ والدین کے خراب رویے بچے میں خود کشی کے خیال کو مہمیز کرتے ہیں۔
احساس کمتری
بعض رشتوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ دکھاوے کو ہی صحیح لیکن ہم اپنے بچے پر کسی دوسرے کے بچے کو ترجیح دے دیتے ہیں، یا اپنے بچے کے سامنے کسی اور کے بچے تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں۔ خبردار ! یہ رویہ آپ کے بچے میں احساس کمتری کو جنم دے گا جو اس کے لیے جینا دشوار کردے گی، والدین کے لیے ان کا بچہ ہی دنیا کا سب سے اہم بچہ ہونا چاہیےاور انہیں اس کا علی اعلان اظہار بھی کرنا چاہیے۔
پسندیدہ شخصیت کی موت
کسی قریبی شخصیت کی موت بھی بچوں کو خودکشی کی جانب راغب کرسکتی ہے ، خصوصاً ٹین ایج میں ایسے معاملات دیکھنے میں آتے ہیں ، ایسے کسی افسوس ناک سانحے کی صورت میں فوری اپنے بچے کو وقت دینا شروع کریں اور اسے زندگی کے معنوں سے روشناس کرائیں۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خودکشی کو مذہب نے حرام اور بد ترین فعل قرار دیا ہو،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سنہ 2011 میں اقدام خودکشی کے 1،153 اور خودکشی کے 2،131 واقعات پیش آئے ، جن میں اکثریت 30 سال سے کمر عمر افراد کی تھی اور اس میں بھی اکثریت ٹین ایجر تھی، ہر گزرتے سال اس شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،،
ان بڑھتے ھوئے مسائل کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات کیے جانے چاہیئے،،
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Emaan

Read More Articles by Emaan: 5 Articles with 1725 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jun, 2019 Views: 408

Comments

آپ کی رائے