کچے رنگ ،پکے رنگ

(Imran mughal, Attock)

جب بھی ہم کوئی منظر دیکھتے ہیں تو اس میں ہمیں مختلف رنگ نظرآتے ہیں رنگوں کے بغیر مناظرادھورے نظر آتے ہیں اوران میں خوبصورتی کا پہلو بھی بہت حد تک ختم ہوجاتاہے۔قوس قزح کے مختلف رنگ اپنے اندر بہت سی رعنائیاں سموئے ہوئے ہیں ۔آسمان کے رنگ کااپنا نظارہ ہوتاہے۔پورے چاند کی روشنی کارنگ، سمندر کا اپنا رنگ ہو تاہے۔مختلف اقسام کے پھول ، مختلف رنگوں کے ساتھ خوبصورتی کے نظارے بکھیررہے ہوتے ہیں۔مثلا سرخ رنگ گلاب اور خون کا ہوتاہے۔محبت کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتاہے اور کہیں خطرے کی علامت بھی تصور کیاجاتاہے۔ اور شادی کے موقع پر عروسی ملبوسات بھی اسی رنگ میں تیارکروائے جاتے ہیں۔سفید رنگ کو خوبصورتی کا رنگ مانا جاتاہے لیکن اگر یہی رنگ بالوں میں آجائے تو پھر کچھ اور معنی لئے جاتے ہیں۔رات کا رنگ کالا بھی ڈر کی علامت سمجھا جاتاہے۔چہرے کا رنگ کالاہو تو اس کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ سب رنگ اﷲ کریم کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔کوئی رنگ اپنے طور پر برا نہیں ہے۔ بس اس کے ساتھ جڑے ہوئے تصورات اس کو پسندیدہ یا نا پسندیدہ بناتے ہیں۔قدرتی مناظر کی بات کی جائے تو سبز رنگ زیادہ تر سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ منسوب نظر آتاہے۔ گویا رنگوں کی بھی ایک اپنی خصوصیت اور اہمیت ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ رنگ بھی کچھ پکے اور گہرے ہوتے ہیں اور کچھ کچے اور پھیکے ہوتے ہیں۔ان کی جانچ کے بھی کئی طریقے ہیں ۔جس سے معلوم ہوسکے کہ کیا رنگ پکا ہے یا کچا ہے۔ کپڑوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو دھلائی کے بعد ہی کچے رنگ اترنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ دھوپ میں پڑے رہنے سے بھی رنگ اڑنا اور اترنا شروع ہوجاتے ہیں ۔مقصد یہ ہے کہ آزمائش کے بعد ہی پتہ چلتاہے کی رنگ پکا تھا یا پھر کچاتھا۔ گہرا تھا تا پھر ہلکا تھا۔ کپڑے خریدتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جاتاہے کہ رنگ پکا ہونا چاہیے۔ جو دھلائی کے وقت نہ اترے۔ اگر رنگ اتر جائے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ کپڑا اچھا نہیں تھا۔لیکن کچھ کپڑے پرانے ہونے اور دھلائی کے باوجود اپنا رنگ برقرار رکھتے ہیں ۔ان کو اچھا مانا جاتاہے۔ خلاصہ ساری گفتگو یہ ہوا کہ اصل رنگ ہرحال میں اپنی حیثیت برقرار رکھتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ جبکہ نقلی رنگ کی بھی آزمائش کے بعد اپنا رنگ برقرار نہیں رکھ پاتے۔

اب اپنی بات کے اصل پہلو کی طر ف رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں رنگوں کی دنیاکی سیر کرنی پڑی۔ رنگ صرف چیزوں کے ہی نہیں ہوتے۔رنگ رشتوں کے بھی ہوتے ہیں۔کچھ گہرے اور پکے اور کچھ ہلکے اور پھیکے۔جیسے اپنوں کے رشتوں کے رنگ ، دوستی کے رشتوں کے رنگ، برداری کے رشتوں کے رنگ، قرابت داروں کے رشتوں کے رنگ بھی ہوتے ہیں ۔ ان رشتوں کے رنگوں کی بھی آزمائش ہوتی ہے۔جس کے بعد معلو م ہوتاہے کہ رنگ اصلی تھا کہ نقلی تھا۔رنگ کچا تھا کہ پکا تھا۔ انسان کو زندگی میں ایسی آزمائشوں سے گزرنا ہی پڑتاہے کہ اسے معلو م ہو سکے کہ رشتوں کا رنگ کیسا تھا۔کبھی دولت کی فراوانی آزمائش ہوتی ہے تو کبھی غربت کی آزمائش ا ٓجاتی ہے۔ کبھی بیماری اور بے روزگاری کی آزمائش سامنے آجاتی ہے۔ کبھی تنگ دستی اور محتاجی کی آزمائش آجاتی ہے۔کبھی کاروبارکی آزمائش آڑے آ جاتی ہے۔ کبھی پیارو محبت کی آزمائش آجاتی ہے۔ کبھی عہدے اور رتبے کی آزمائش آجاتی ہے کبھی خوبصورتی اور بدصورتی کی آزمائش آتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی آزمائشیں آجاتی ہیں۔ ان آزمائشوں کے بعد بھی اگر رشتوں کا رنگ برقرار رہے تو سمجھ جائیے کہ رنگ پکا ہے او ر اگر رنگ میں تبدیلی آجائے اور پھیکا پڑجائے تو اس کا مطلب ہے کہ رنگ کچاتھا۔اکثرزندگی کے اس سفر میں ہمیں رشتوں کے ان رنگوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔کچے اور پکے رنگوں پہچان آزمائش کے بعد ہی ہوتی ہے۔دعا ہے ہمیں زندگی میں اصل اور پکے رنگ نصیب ہوں۔اور جو کچے رنگ ہوں ان کا ساتھ ہمارے لئے عارضی ہو۔دائمی ساتھ پکے رنگوں کا ہی ہو۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD IMRAN ZAFAR

Read More Articles by MUHAMMAD IMRAN ZAFAR: 27 Articles with 19977 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jun, 2019 Views: 385

Comments

آپ کی رائے