حقائق کو آنکھوں سے اوجھل کرتی "خوشامد کی بیماری "

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

قدرت اﷲ شہاب نے خوشامد کے بارے میں لکھا ہے کہ " خوشامد کی قینچی عقل و فہم کے پر کاٹ کر انسان کو آزادپرواز سے محروم کر دیتی ہے ،خوشامدیوں میں گھرا ہوا انسان شیرے کے قوام میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح بے بس اور معذور ہوتا ہے،رفتہ رفتہ اس کے اپنے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور وہ وہی کچھ دیکھتا، سنتا، بولتا، سونگھتااور محسوس کرتا ہے، جو چاپلوسی ٹٹو چاہتے ہیں،جو خوشامدی کیڑے کو کْون کی طرح گھس کر اس کے وجود میں پلتے رہتے ہیں، جس سربراہ مملکت کی کرسی کو خوشامد کی دیمک لگ جائے وہ پائیدار نہیں رہتی، اس کے فیصلے ناقص ہوتے ہیں اور اس کی رائے دوسروں کے قبضے میں چلی جاتی ہیـ" حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا" ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے "اس فرمانِ رسول سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے ،افسوس کہ ہمارے معاشرے میں خوشامد کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ وہ شعبہ جات جہاں پر جھوٹ کو جھوٹ اورسچ کے لئے ہر مشکل کا سامنا کرنے کا عہدکیا جاتا ہے وہاں خوشامدنے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں سیاست میں اپنے رہنما کی توجہ حاصل کرنے کے لئے خوشامدکرنا تو روایت بن چُکی لیکن صحافت میں افسران بالا کی تعریف میں اس حد تک آگے چلے جانا کہ خوشامد بن جائے قابل تعریف عمل نہ ہے مانا کہ خوشامد کرنے والے بہت سی مراعات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ بعض تو اس سے بھی آگئے صرف اپنی ذات کے لئے افسران بالا سے گھرکی تعمیر سے بچوں کی ملازمتوں تک کے فائدے حاصل کر لیتے ہیں حضرت علی ابن ابی طالب نے نہج البلاغہ میں تعریف اور خوشامد کا کلیہ بیان فرمایاـ" ارشاد ھے ،استحقاق سے زیادہ تعریف کرنا خوشامد ھے اور استحقاق سے کم تعریف کرنا عاجزی ھے یا حسد " ،کسی کے بھی اچھے کام کی تعریف کرنا اچھی عادت ہے بچوں کی تعلیمی صلاحیتیں مزید بہتر کرنے کے لئے اُنکی مناسب تعریف انتہائی ضروری ہے اسی طرح سرکاری ملازمین اور افسران بالا کا اپنے فرائض بہتر انداز میں سر نجام دینے پر اُنکی تعریف بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ بھی وہ اپنے کاموں کو احسن انداز میں سرانجام دے سکیں لیکن ہمارے ہاں خاص تو پر چھوٹے شہروں میں افسران کی تعریف کو اس حد تک کیا جاتا ہے کہ خوشامد بن جاتی ہے اُنکے لوگوں سے روا رکھے جانے والے ہر رویہ اور عمل پر داد تحسین کے ڈھول بجائے جاتے ہیں جبکہ یہ ہی افسران مثبت تنقید کرنے والے کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص گروہ کو اہمیت دینا شروع کر دیتے ہیں ، سانچ کے قارئین کرام ! یہ بات بالکل درست ہے کہ تنقید برائے تنقید یقیناََ ایک اچھا عمل نہ ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی بھی کمی نہ ہے جو بلا وجہ تنقید کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اُنکے پاس کوئی ٹھوس دلائل بھی نہیں ہوتے اور نہ کوئی مثبت تجاویز ہوتی ہیں اگر ضلع یا تحصیل کی بات کی جائے تو ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا عہدہ ہو یا مختلف محکموں کے سربراہان اُنکی ٹرانسفر معمول کی بات ہے لیکن ہمارے ہاں ہر آنے والے کو گزرے ہوئے سے بہتر اور اعلی صلاحیتوں کا مالک ثابت کرنے میں خوشامدی ٹولہ آگے آگے ہوتا ہے ، یہ ہی ٹولہ ہر آنے والے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو سب سے بہتر ثابت کرنے کے لئے ہر جگہ پہنچ جاتا ہے بلکہ خوشامد کرتے کرتے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ یہاں پہلے بھی کسی کی تعریف میں اِنہوں نے یہ ہی جملے دہرائے تھے اور آفرین ہے ملک کے سب سے بڑے امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے اعلی عہدہ حاصل کرنے والوں پر کے وہ بھی خوشامدکرنے والے کے گرویدہ نظر آتے ہیں ایک لوگ تو وہ ہیں جو اپنی سیاسی ،سماجی یا صحافتی خدمات فراہم کرنے کے لئے مختلف سرکاری اداروں کے اجلاسوں یا پریس کانفرنسوں میں بلائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو افسران کا منظور نظر بننے کے لئے دفاترمیں ڈیرے جمائے رکھنا اپنا حق سمجھتے ہیں اعلی افسران سے دوستی کا ذکر نجی محفلوں اور لوگوں میں کرتے پھرتے ہیں تاکہ وہ معتبر کہلانے کے ساتھ اپنے کاروباروں کو تحفظ بھی فراہم کر سکیں اگر شعبہ صحافت کو دیکھا جائے تو علاقائی صحافی جسے اگرصرف رپورٹر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اس شعبے میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ اسکا اپنا کوئی اور کاروبار ہو تاکہ وہ صحافتی ادارے کو بزنس دے سکے دوسری جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ وہ اپنی صحافتی خدمات بھی فراہم کرتا ہے اور اسکو کو ئی معاوضہ بھی نہیں ملتا جس کی وجہ سے بعض اس شعبہ میں آکر صرف اعلی افسران کی تعریفوں کے پل باندھتے باندھتے خوشامد پر اُتر آتے ہیں ، معذرت کے ساتھ جس سے وہ صحافی کم اور خوشامدی زیادہ نظر آتے ہیں اگر دین اسلام کی تعلیمات سے ناواقف شخص ایسی حرکت کرے تو دْکھ نہیں ہوتا کہ وہ جاہل ہے مگر افسوس کہ ہمارے اہلِ علم اور تعلیم یافتہ بھی اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں کہ جب ان کے سامنے ان کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور وہ اْس تعریف کرنے والے کو منع بھی نہیں کرتے ، اس مرض میں سیاسی ،مذہبی رہنماؤں سمیت سرکاری افسران بھی شامل ہیں اکثریت اس کا شکار ہوچکی ہے، کسی بھی سیاسی رہنما اور سرکاری افسر کو یہ سوچنا چاہیے کہ جو کام میرے سے پہلے مکمل ہو چکے ہیں ان کا کریڈٹ مجھے کیوں دیا جارہا ہے جبکہ خوشامدی سابقہ افسر کا ذکر کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ،جب کبھی بھی کوئی ایسی حکومت قائم ہوتی ہے جس کو بھاری اپوزیشن کا سامنا ہو تو سرکاری افسران حکومت وقت کی خوشنودی کے لئے ایسے علاقوں میں جہاں برسراقتدار جماعت کو کامیابی نہیں ملی ہوتی وہاں شکست کھا جانے والے غیر منتخب افراد کوہر مقام اور ہر فیصلہ میں آگے آگے رکھتے ہیں اور ایسے افراد کی تعریف میں اس قدر آگے چلے جاتے ہیں کہ خوشامد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور کچھ ایسا ہی تحصیل اور ضلع کے دیگر دفاتر میں بھی نظر آتا ہے، کسی معروف شاعر کا کلام سانچ کے قارئین کرام کی نظر خوشامد کا فن جس کو آتا نہیں ہے ،اسے تو کوئی منہ لگاتا نہیں ہے۔خوشامد کا جو بھی ہنر جانتے ہیں،سدا ان کا افسر کہا مانتے ہیں۔خوشامد کا جادو ہے جو بھی جگاتا،ہمیشہ ہے افسر اسے منہ لگاتا۔خوشامد کا فن جس کو آتا نہیں ہے ،مرادیں کبھی دل کی پاتا نہیں ہے۔ہے بے جا خوشامد نری اک بیماری ملوث ،ملوث ہے اس میں تو اب قوم ساری۔حقائق کو آنکھوں سے اوجھل ہے کرتی ،گناہوں سے دل کو یہ بوجھل ہے کرتی۔اسی نے ہی بہتوں کی لٹیا ڈبوئی ،مضرت سے اس کی بچا ہے نہ کوئی۔جو اچھے مصاحب چنے گر کسی نے ،تو کی کامیابی ہے حاصل اسی نے۔خوشامد پسند جتنے بھی حکمراں تھے ،بنے سارے عبرت کا آخر نشاں تھے۔خوشامد سے انسان ہوتا ہے اندھا،گلے میں ہے پڑ جاتا پھانسی کا پھندہ۔جو ہیں طاق مکھن لگانے میں بھائی ،تو افسر کی قربت ہی انہوں نے پائی۔کھری بات جو بھی ہیں کہنے کے عادی ،کہیں اس کو شبہ کے مصاحب فسادی۔جو تعریف منہ پہ کسی کے ہے کرتا،ہے لازم تو مٹی سے منہ اس کا بھرتا۔بچو اس سے عاصم یہ ہے زہر قاتل ،کرے گا خوشامد جو ہے پکا جاہل۔٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 53 Articles with 16935 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jul, 2019 Views: 423

Comments

آپ کی رائے