افغانی،کرکٹ گراؤنڈ سے سیاسی میدان تک

(Murad Ali Shahid, Doha)

حالیہ کرکٹ ورلڈکپ منعقدہ انگلینڈ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلے جانے والے میچ سے قبل اور بعد ازاں کھیل کچھ ناگوارواقعات دیکھنے کو ملے جس میں پوری دنیا نے دیکھا کہ میچ ہارنے پر افغانی تماشا ئیوں نے اپنے غم و غصہ اور جذبات کو قابو نہ رکھتے ہوئے کچھ پاکستانی محبانِ کرکٹ کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ کہیں کہیں ہاتھا پائی کے واقعات بھی د یکھنے میں آئے ۔اگرچہ اس اکا دکا واقعات میں چند افغانی ہی شامل تھے جنہیں آپ شر پسند بھی کہہ سکتے ہیں،لیکن اگر پاکستان افغانستان سیاسی تعلقات کے تناظر میں ان واقعات کاتنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ شرپسندی یا انتہا پسندی ہائبرڈ وار کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے،کیونکہ یہ سب واقعات ہائبرڈ وار کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔اس کے لئے آپ کو اس حکمت عملی کا جاننا ضروری ہوگا۔ہائبرڈ وار ایسی جنگ ہوتی ہے جس میں روائتی اور غیر روائتی عناصر کا استعمال کیا جاتا ہے،روائتی جنگی حکمت عملی سے مراد،دو ممالک یا دو دشمن کا مکمل آلاتی تیاری اور جنگی حکمت عملی اورچالبازیوں کے ساتھ آمنے سامنے جنگ لڑنے کا نام ہے۔جبکہ غیر روائتی جنگ سے مراد ایسی جنگ ہے جس میں باقاعدہ جنگ کا ماحول نظر نہیں آتا ،دونوں ممالک یا ان کے حلیف مل کر منفی پراپیگنڈہ ،سائبر اٹیک،خفیہ عملی اور معاشی حکمت عملی سے دشمن کو کمزور کیا جاتا ہے،غیر روائتی جنگ میں دشمن کے خلاف پراپیگنڈہ کو مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر پاکستان افغانستان میچ کے دوران ہونے والے واقعات کو بنظر عمیق دیکھا جائے تو اس سارے انتشار کی ڈور کا سرا کہیں نا کہیں ہائبرڈ وار سے اس طرح سے ملتا ہے کہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم جس کو پاکستانی کو چز نے تیار کیا اوران کو پشاور اور پنڈی کے کرکٹ اسٹیڈیم بھی پریکٹس کے لئے مہیا کئے گئے۔شک اورشنید تو یہ بھی ہے کہ جس کی طرف سابق کرکٹر شعیب اختر نے ایک بیان میں اظہار بھی کیا ہے کہ اگر افغانستان کے کھلاڑیوں کے شناختی کارڈز چیک کروائے جائیں تو 90 فیصد کھلاڑیوں کے شناختی کارڈز کا تعلق پشاور اور کے پی کے سے نکلے گا۔جس کی بنا پر افغان ٹیم کا ٹورنامنٹ سے اخراج بھی ہو سکتا ہے۔مزید برآں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی بھاری فنڈنگ بھی کی ہے کہ جس سے میچ سے قبل ایسے واقعات رونما کروائے گئے کہ جن سے صاف ظاہر ہوسکے کہ دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے تعلقات میں کشیدگی کی فضا پیدا ہو جائے ۔ان کے علاوہ قابل غور بات یہ ہے کہ وہی افغان ٹیم جو کبھی پاکستان میں پریکٹس کیا کرتی تھی اب بمبئی اور ڈیرہ دون میں پریکٹس کر رہی ہے اور ڈیرہ دون کی فوجی اہمیت کے بارے میں کون نہیں جانتا۔

اگر ان تمام واقعات کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سارے واقعات عین اس وقت رونما ہوتے ہیں جب افغان صدر اشرف غنی پاکستان کے دو روزہ دورے پر تھے،وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور اشرف غنی کے درمیان افغان امن پالیسی پر بات چیت ہو رہی تھی اور دوحہ قطر میں بھی انہیں دنوں افغان راہنماؤں اور امریکی راہنماؤں کی ایک کانفرنس افغان امن مزاکرات کے بارے میں انعقاد پزیر ہو رہی تھی کی جس میں افغانستان میں امن کی موجودہ صورت حال اور مستقبل کے لئے حکمت عملی پر غور کیا جا رہا تھا ،ایسی صورت حال میں کرکٹ کے گراؤنڈ میں انتشار پر مبنی واقعات کا رونما ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ پاک افغان دوست نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ان دونوں ملکوں کی عوام میں ایک دوسرے کے لئے بے چینی اور انتشار کی فضا پائی جاتی ہے۔صد شکر کہ یہ واقعات پاکستان میں رونما نہیں ہوئے ایک ایسے ڈیموکریٹ ملک میں رونما ہوئے جہاں قانون کی پاسداری اور امن کی حکمرانی ہے۔ایسے حالات میں چند انتشار پسند افراد کی یہ کوشش کہ جیسے دو دشمن ممالک کی ٹیمیں کھیل کے لئے نہیں جنگ کے لئے میدان میں اتر رہی ہوں مقامی انتظامیہ نے ان کو ناکام بنا دیا ۔صد شکر کہ یہ میچ پاکستان جیت گیا وگرنہ افغان جیت کے نشہ میں وہ سب کر جاتے جن کا اندازہ ان چند واقعات سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
تدبیر کند بندہ،تدبیر زند خندہ

کتب التواریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ابیض تواریخ اس بات کے گواہ ہیں کہ 1893 میں سیکرٹری خارجہ حکومت برطانیہ ڈیورنڈ اورافغانستان کے امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ہونے والے معاہدہ ڈیورنڈ لائن سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان کہیں نہ کہیں ،کبھی نہ کبھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہے کہ جس سے علاقہ کی سیاسی فضا مکدر رہی ہو،کبھی باؤنڈری کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں،کبھی پشتون اور افغان کی علیحدگی اور کبھی بلوچ اور پشتون کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو حد فاصل کو مسئلہ بنا کر۔لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو اپنا اسلامی بھائی خیال کرتے ہوئے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے وہ افغانستان روس جنگ ہو یا افغان پناہ گزین کی آباد کاری۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم ہی کب تک بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے رہیں گے؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 338 Print Article Print
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 45 Articles with 8782 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: