خوبصورت لوگ

(Choudhry Javed, )

کسی بھی انسان کی پہچان اس کے رتبے سے ہوتی ہے نا چال ڈھال سے نا حال سے نا کسی بھاشن سے وہ صرف اس وقت پہچانا جاتا ہے جب عام بول چال میں وہ کسی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہو مطلب یہ کہ سوچ ہی آپ کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے سوچ ہی وہ آئینہ ہوتی ہے جس سے آپ کو پہچانا جا سکتا ہے فرض کریں جو دوسروں کو لالچی کہے گا لازم ہے کہ وہ خود بھی لالچی ہوگاجو سمجھے گا کہ دنیا کا کوئی بھی کام کوئی عنایت کوئی مہربانی بلاوجہ نہیں ہوتی تو لازم ہے کہ خود وہ شخص مفاد پرست ہوگاتو لوگوں کے آپ کے بارے میں کمنٹس یا رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتے وہ تو صرف آپ سے اپنی پہچان کروا رہے ہوتے ہیں ہاں آپ خود اپنی سوچ کا جائزہ لے کر خود کو بہتر پہچان سکتے ہیں تو اپنی پہچان کے لیے آپ خود کافی ہیں کیونکہ لوگ اتنی اہمیت نہیں رکھتے لوگوں نے تو ایک چہرے پر کئی کئی چہروں کا نقاب چڑھا رکھا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک انسان کو ہر دوسرے انسان سے رویہ بہت مختلف ہوتا ہے دنیا میں تقریباً ہر دوسرا شخص خوش مزاجی اور اپنائیت سے ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یا تو وہ فطرتاً واقعی اچھا انسان ہوتا ہے یا پھر اپنے فائدے کے لیے مخصوص لوگوں سے خوش خلقی کا مظاہرہ کرتا ہے ایسے لوگ اپنے مطلب کے وقت آپ سے نہایت میٹھے لہجے میں بات کریں گے اور جب کوئی ان کی باتوں سے مثاثر ہو کر ان سے تعلق بڑھاتا ہے تو یہ آہستہ آہستہ اپنی اوقات دکھانا شروع کر دیتے ہیں، اپنے مطلب کے لیے وعدے کریں گے لیکن جب دیکھتے ہیں کہ انہیں اس کام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا تو وہ ان وعدوں کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر مطلب نکل جانے کے بعد نہ صرف آپ کو بری طرح نظر انداز کردیں گے بلکہ آپ کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کریں گے اسی لیے تو اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان کے دو چہرے ہوتے ہیں ایک جو وہ اپنے گھر والوں کو، لوگوں کو اور اپنے دوست احباب کو دکھاتا ہے، دوسرا وہ چہرہ جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا اور یہی اس کا اصلی چہرہ ہوتا ہے اورجب انسان کا وہ چہرہ سب کے سامنے آتا ہے جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے پھر بس پچھتاوا ہی بچتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا سب پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے مگر ابھی بھی کچھ لوگ پرانی قدروں والے موجود ہیں جو اپنے عہدے ،مرتبے اور رتبے سے خود تو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے مگر دوسروں کے لیے وہ شجر سایہ دار ہیں جو خود تو دھوپ میں ثابت قدمی سے کھڑے رہتے ہیں اور دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتے ہیں انہیں نہ کسی عہدے کا لالچ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی فرد سے صلہ کی امید وہ تو بس اپنے اندر والے انسان کو مطمئن کرنے کے لیے ہر کسی پر کمال مہربانی کیے جارہے ہیں پنجاب حکومت کے اچھے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ انہوں نے راجہ جہانگیر انور ،طاہر رضا ہمدانی ،اسلم ڈوگر،صغراں صدف ، ڈاکٹر مقبول عالم،ڈاکٹر عمران مہتاب ،ڈاکٹر جمیل،ڈاکٹر عبدالرحمن،ڈاکٹر افتخار احمد،صادق علی ڈوگر،جاوید سیرانی ،مہر نذراور اکبر چانڈیہ جیسے افسران کو عوام کی خدمت پر تعینات کررکھا ہے جبکہ میاں نور احمد انجم ،شیخ اسرار احمد اور طاہر انور پاشا صاحب جیسے افراد ہمارے آج کے ترقی یافتہ دور میں ٹھنڈی ہوا کا وہ جھونکہ ہیں جنہیں دیکھ کر ہم بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہیں یہی وہ افراد ہیں جن میں ابھی تک رشتوں کا تقدس ہے جو محبت اور وفا کی علامت ہیں جنہوں نے مشکلات جھیل کر مصائب کو برداشت کرکے نئی نسل کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے بلا شبہ یہی لوگ ہمارے دور کے سنہری اور ناقابل تسخیر انسان ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہی وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کاندھوں پر بٹھا کر نئی نسل کو ترقی کے منزلیں طے کی جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھی جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجاجنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا بلکہ گھر سے بوری، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے یہی وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا جی ہاں یہ صرف انہی محسنوں کا ہی حق ہے اور وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں ہمارا بھی لہو شامل ہے تزئین گلستان اور جن کے اندر مٹی کی خوشبو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیاہوا ہے بغیر بجلی کے ٹیوب ویل دیکھے اور ان کے ٹھنڈے پانی میں نہائے ہوئے ہیں اور یہی وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجے ان جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ یہی وہ آخری لوگ ہیں جو محلے کے ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے یہی وہ دلفریب لوگ ہیں جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش ہوئے یہی آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے یہی وہ بہترین لوگ ہیں جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی اور ان جیسا تو کوئی بھی نہیں جو رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے اوردن کو سب محلے والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے پورے گاؤں میں ایک گھر کا دکھ سب کا دکھ ہوتا تھا اور ایک کی خوشی سب کی خوشی ہوتی تھی اب دور کیا بدلہ رشتوں کا تقدس اور احساسات کی مالا ہی ٹوٹ گئی ہمسائے کی فکر ہے نہ بہن بھائیوں کو کوئی پوچھتا ہے ایک خالص رشتوں کا دور تھا جس میں ہر چیز خالص ہوا کرتی تھی بہت خوبصورت اور لازوال محبت کا دور تھا ایسے دور کے خوبصورت انسانوں سے پیار کیا جائے اور ان سے پیار کے تقاضے سیکھے جائیں کیونکہ اب قدریں ختم ہورہی ہیں محبت رنگ بدل رہی ہے اور رشتے ٹوٹ رہے ہیں ہمارانوجوان بے مروت مفادات اور خود غرضی میں کھو رہا ہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Choudhry Javed

Read More Articles by Choudhry Javed: 21 Articles with 8260 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jul, 2019 Views: 851

Comments

آپ کی رائے