کڑکتے کوڑے یا ڈالروں کے توڑے

(Sami Ullah Malik, )

تحریر،ہاں کیاہرواقعہ تحریرکیاجاسکتاہے؟شاید،ہوسکتاہے خودپرتھوڑاساجبرکریں،خودکوجمع کریں توآپ لکھ لیں گے لیکن کیاہربات لکھی جاسکتی ہے؟خوشی کو تولکھاجاسکتا ہے، غم دکھ توتحریرہوسکتاہے مگردرد اورآنسوئوں کوکیسے لکھاجا سکتاہے۔کرب کوکیسے لکھیں اضطراب کو،بے کلی کو،بے حسی کو،اناکوتحریر میں کیسے سموئیں؟

لفظ وہی ہوتے ہیں،قلم وہی ہوتاہے،صفحات وہی ہوتے ہیں سب کچھ وہی ہوتاہے لیکن آپ بے دست وپاہوتے ہیں۔رحمت کوتوبیان کیاجاسکتاہے،تحریرکیاجاسکتا ہے،نحوست کوکیسے پابندتحریرکیاجاسکتاہے! اداسی کوتحریرکرسکتے ہیں آپ؟کچھ نہیں کرسکتے ہم۔ فیض صاحب نے توکہاہے”دل پہ جو گزری سوگزری مگر”اسے بیان کیسے کریں؟میرے لیے یہ ممکن نہیں۔ نہیں مجھے یہ ہنرنہیں آتااورمجھے یہ سیکھنابھی نہیں ہے۔ضروری تونہیں ہے مجھے سب کچھ آتاہو۔نہیں ،میں نہیں لکھ سکتا دردِدل کو، اداسی کو،بے کلی کو، اضطراب کوبالکل نہیں لکھ سکتا۔آنسوئوں کوکیسے تحریرکروں؟بتائیے آپ؟اگرآپ تحریرکرسکتے ہیں توضرور کیجئے۔

لیکن یہ ہوتارہاہے،ہوتارہے گا،یہی ہے ریت۔کوئی نئی بات نہیں،کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔خلق خداکے حق میں نغمہ سرائی جرم تھی،جرم ہے،جرم رہے گی۔خلقِ خداکی گردنوں پر سواراس وقت بھی یہی کرتے تھے اب بھی یہی کرتے ہیں اور آئندہ بھی یہی کرتے رہیں گے۔کوئی نئی بات نہیں،یہ ہوتارہاہے،ہوتارہے گا۔آپ زمینی خدائوں کوللکاریں گے تووہ آپ کوہار پھول پیش نہیں کریں گے۔یہی ہوگا۔آپ آئینہ دکھائیں گے اوروہ اپنی مکروہ صورتوں کودیکھ کرآپ کوپتھرماریں گے ۔ گولیاں داغیں گے۔لاٹھیاں برسائیں گے۔ آنسوگیس کے شیلوں کی برسات کریں گے لیکن اپنے قلم کوخلقِ خداکی امانت سمجھنے والے کبھی باز آئے ہیں نہ آئندہ آئیں گے۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں:
ہوں جب سے آدمِ خاکی کے حق میں نغمہ سرا
میں دیوتاؤں کے بپھرے ہوئے عتاب میں ہوں

زمینی خداؤں کے زرخریدغلام خلقِ خداکی آوازکوخاموش کرنے کاسپنادیکھتے ہیں اوروہ کبھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوپاتا،نہ ہو گا۔توبس پھریہی منظرہوگاآئندہ آنے والے چنددنوں میں۔ہرطرف بپھراہواعتاب اوراہل جنوں کانعرہ مستانہ۔سربلندرہے گایہ نعرہ”فرعون پہلے بھی غرقاب ہواتھا،آئندہ بھی اس کانصیبایہی ہے”۔مبارک ہوا نہیں جوخلق خدا کیلئے سرعام پٹتے رہے۔جن کے خون سے سڑکیں رنگین ہوئیں۔ آج کچھ نہیں ہے کہنے کو،بس جوکچھ سن رہاہوں وہ لکھ رہاہوں۔ٹی وی چینلزپر لوگوں کے پیغام دیکھ رہے ہیں آپ!میں نے بھی دیکھے ہیں،سنے ہیںوہی تحریرکررہاہوں،اس لئے کہ میں زبانِ خلق کونقارہ خداسمجھتا ہوں۔اندھے،بہرے نوشتہ دیوارنہیں پڑھ سکتے توہم کیاکریں!

ہاں فرعون مرتاہے،فرعونیت نہیں مرتی۔اس کے پیروکارآتے ہیں،آتے رہیں گے۔پھروہ پکارنے لگتے ہیں،ہمارامنصوبہ کامیاب رہا۔ہم ہیں اعلیٰ وارفع۔ہمارے پاس ہیں وہ دانش وبینش جوبچالے جائیں گے سب کو۔بس ہمارے پیچھے چلو۔ہماری پیرو کاری کروکہ نجات اسی میں ہے۔یہاں ہرفرعون یہ سمجھ بیٹھاہے کہ بس وہی ہے عقل وفکرکاعلمبردار بہت ضروری ہے وہ۔اس کی ہدایت ورہنمائی ہی نجات کاسبب ہے۔بس وہی”میں”کاچکر۔نحوست کاچکر۔اسی لیے وہ پکارتارہتاہے۔وہی ہے اعلی ٰو ارفع،وہی ہے رب اوررب اعلیٰ بھی۔خودفریبی کی چادرمیں لپٹاہوا۔موت ،موت تواسے چھوبھی نہیں سکتی۔سامان حرب سے لیس۔ خدام اس کی حفاظت پر مامورہیں۔چڑیابھی پرنہیں مارسکی۔دوردورتک کوئی سوچ بھی نہیں سکتاکہ اسے گزند پہنچا سکے۔مصاحبین کے نعرہ ہائے تحسین اسے اس زعم میں مبتلارکھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔اس کی مرضی سے چلتاہے کاروبارحیات جیسے وہ موت کو بھول بیٹھتاہے،خودفریب توسمجھتاہے کہ موت بھی اسے بھول جائے گی۔ سمجھ بیٹھے ہیں یہ محفل سداسجائیں رہیں گے۔واہ،واہ،آفرین آفرین کرنے والے درباری یونہی داددیتے رہیں گے۔نہیں جناب بالکل بھی نہیں۔سب کچھ ختم ہوجائے گا ۔

لیکن پھرایک اوردریاہوتاہے اورانجام وہی۔بالکل یہی سمجھتاہے کہ جس طرح وہ موت کوبھولاہواہے،موت بھی اسے بھول چکی ہوگی لیکن آتی ہے وہ۔ہزارپہرے بیٹھا دیجئے، دیواریں چنوالیجئے،کیمرے لگا لیجئے۔وہ نہیں رکتی۔آتی ہے اورسرعام آتی ہے۔کوئی نہیں بچ سکااس سے لیکن ہوتاکچھ اورہے۔سب کچھ ہوتاہے محافظ بھی،سامان حرب بھی، محلات بھی، سازو سامان بھی،آفرین بھی،واہ واہ بھی سب کچھ ہوتا ہے ۔اورپھرنیل ہوتاہے، لہریں ہوتی ہیں،منہ زورلہریں رب حقیقی کے حکم کی پابند۔ اورجب وہ گھِرجاتاہے پھردوردورتک کوئی نہیں ہوتامدد گار۔تب وہ آنکھ کھولتاہے اورپکارنے لگتاہے”نہیں نہیں، میں ایمان لاتاہوں،ہاں میں موسیٰ وہارون کے رب پرایمان لاتاہوں”لیکن بندہوجاتا ہے در،کسی آہ وبکاسے نہیں کھلتا۔اورپھروہ غرق ہوجاتاہے۔موت اس کی شہ رگ پردانت گاڑدیتی ہے۔ ختم شد۔ نشانِ عبرت۔ داستان درداستان۔

ہاں ایک امتحان تھاگزرگیا۔نتیجہ توبعدمیں نکلے گا۔کیا؟میں نہیں جانتا۔ بس میں تویہ سوچ رہاہوں کہ میں نے کیاکیااوران کانتیجہ کیانکلے گا؟ہاں دعا کروں میں لیکن کس منہ سے دعاکیلئے سچی نیت،اخلاص،عجزاورتوبہ کی کیفیت ، منافقت سے توبہ کے ساتھ اشکوں کے ساتھ آنکھوں کاغسل ضروری ہے۔ کروں ؟کیسے اپنے رب کاسامناکروں؟

اک نئی کربلامیرے سامنے بپاہوئی۔ہمارے بچے اوربچیاں تہہ تیغ کئے جارہے ہیں،پچھلی سات دہائیوں سے ظالم ہندوبنئے نے جس بیدردی سے نسل کشی کاکاروبارشروع کررکھا ہے،غزہ میں جس سفاکی سے معصوم بچوں کوبارودسے بھون کررکھ دیاجاتا ہے،ان جبہ ودستاروالوں نے بھی ان کے آستانے پراپنی جبین نیازکوجھکالیاہے۔پہلے مودی کواپنے ملک کے سب سے بڑے سول اعزازسے نوازا،اب یروشلم کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے اپنے ماتھے پرغلامی کی مہرثبت کرلی ہے،اپنے ڈالروں کی کھنک سے ہماری قومی غیرت کوبھی دفن کردیاگیاہے ……کس کو بے وقوف بنارہے آپ؟

آپ کہاں ہیں اورکیاکہتے ہیں؟معصوموں کی چیخیں مجھے جینے نہیں دیں گی۔میراسینہ شق ہوجائے گا۔میں کچھ نہیں کر سکا۔ہاں مجھے زندگی پیاری ہے ہاں میں سانس کی آمدورفت کو زندگی سمجھتا ہوںہاں میں نے ذلت ورسوائی کی زندگی قبول کرلی ہے،ہاں میں موت سے بہت ڈرتاہوں ہاں میں نے اپنارب بدل لیاہے،ہاں میں عزت وذلت کامالک انہیں سمجھتا ہوں جن کے ہاتھ میں ہمارے اقتدارکی ڈوری ہے،جن کے ایک ہاتھ میں خوفزدہ کرنے کیلئے کڑکتے کوڑے ہیں اوردوسرے ہاتھ میں ہمارے چیچک زدہ چہروں پرسجے طمع وحرص کے مارے منہ بھرنے کیلئے ڈالروں سے بھرے توڑے۔ان کے پاس بے حس بندوقیں ہیں۔ شعلہ اگلتی ہوئی بندوقیں۔ میں انہیں زندگی اورموت کامالک سمجھتاہوں جن کے میزائلوں کی گڑگڑاہٹ سے دل دہل جاتاہے اورمجھے خدشہ ہے کہ کہیں وہ میرا تورابورانہ بنادیں۔ہاں وہی ہیں میرے مالک! آپ کے متعلق کیا کہہ سکتاہوں!آپ جانیں اورآپ کاکام۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 202 Articles with 41936 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: