راج اور اناج

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

انسان جس انسانیت کی دہائی دیتے ہیں وہ کہاں ہے، عہدحاضر میں طاقتوراورکمزورطبقات کیلئے انسانیت اوراخلاقیات کامفہوم الگ الگ کیوں ہے۔آج بھی دنیابھرمیں انسانیت اورانصاف نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد میں فیصلے ہورہے ہیں۔انسانوں کی آبادی بڑھنے کے باوجود انسانیت ناپیدبلکہ نابودکیوں ہوگئی ہے۔زمینی مخلوقات میں اشرف ہونے کے باوجودانسان نے زندگی بچانے سے زیادہ موت بانٹنے کیلئے ہتھیاروں کی ایجادات پرفوکس کیا، اعدادوشمارگواہ ہیں کرہ ارض پر بیماریوں یابھوک کے مقابلے میں بارود سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔کچھ اسٹیٹ وہ ہیں جہاں کا انسان پانی کی بوندبوند کیلئے ترستااورپیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑرگڑ کرمرجاتا ہے جبکہ پاکستان سمیت بعض ملک اپنا سونے سے زیادہ قیمتی پانی سمندروں میں گرا رہے ہیں ۔ایک کتادوسرے کتے کاگوشت نہیں کھاتا توپھرانسان ایک دوسرے کی بوٹیاں کیوں نوچ رہے ہیں۔بھارت میں کوئی مسلمان گائے قربان نہیں کرسکتامگرانتہاپسندہندومسلمانوں کاقتل عام کرسکتے ہیں۔انسانوں نے کیوں درس انسانیت فراموش کردیا،کیوں روزمحشر کاانتظار کئے بغیر دنیا کوجہنم بنالیا۔جنگلات میں حیوان بھوک مٹانے کیلئے روزانہ کی بنیادپرشکارکرتے اوراپناپیٹ بھرجانے پرباقی دوسروں کیلئے چھوڑدیتے ہیں مگرانسان کی ہوس دیکھیں وہ ا ن کیلئے بھی دوسروں کے وسائل چھین کراپنے قبضہ میں کرنے کے درپے ہے جوابھی دنیا میں نہیں آئے ۔حیوانوں کے حقوق کیلئے جس مغرب نے کئی بار آسمان سرپراٹھایا وہ مشرق میں انسانوں کے حقوق کی پامالی کیخلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا۔ طاقتورطبقات کوکمزور انسانوں کے بنیادی حقوق روندنے کا استحقاق کس نے دیا۔انسانوں کی بھوک،بندوق اوربارود سے موت کے پیچھے بھی انسان ہے جبکہ ہزاروں گودام گندم سے بھرے ہوتے ہیں اور چوہوں سمیت حشرات اس'' اناج'' پر'' راج'' کرتے ہیں۔ عالمی ضمیر صرف مغربی معاشروں میں کسی پرتشدد واقعہ سے بیدار جبکہ امن پسندمسلمانوں سے بات بات پر بیزار کیوں ہوتا ہے ۔فلسطین اورمقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے تشدد،کشت وخون اور بدترین بربریت کے باوجودمقتدرقوتیں کیوں آنکھیں موندے ہوئے ہیں ۔ پرندے بھی پنجروں کی بجائے آزادفضاؤں میں پروازکرتے اورگنگناتے ہیں توپھر کشمیریوں اورفلسطینیوں کوکیوں جدوجہد آزادی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتاردیاجاتا ہے۔کشمیراورفلسطین میں بربریت کاسورج سوانیزے پرکیوں ہے۔کشمیری،روہنگیائی اورفلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد ''اقوام متحدہ ''کانام ''اقوام مردہ'' کیوں نہیں رکھ دیاجاتا۔کشمیراورفلسطین کی گلیوں میں بچے گیندبلے سے کیوں نہیں کھیلتے ، وہاں شاہراہوں پر مقتل گاہیں کس نے بنائی ہیں۔مسلمانوں کے آنگن سے کیوں پل پل قیامت کاگزرہوتا ہے ۔اسرائیلی درندے بیچارے فلسطینیوں جبکہ بھارتی سورما نہتے کشمیریوں کی روحوں پرزخم کیوں لگارہے ہیں، فلسطینیوں اورکشمیریوں کے زخم کامرہم کس کے پاس ہے ۔بھارت نے معصوم بیٹوں اوربیٹیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی دنیا اندھیر کردی مگردنیا بھر کے روشن خیال خاموش ہیں ۔ بھارت کشمیریوں کو بصارت سے محروم کرسکتا ہے مگران سے اسلامیت، پاکستانیت، بصیرت،ہمت اورحمیت نہیں چھین سکتا۔بصارت رہے نہ رہے مگربزدل بھارت کی جارحیت کیخلاف کشمیریوں کی مزاحمت صبح آزادی تک جاری رہے گی ۔سمیع اﷲ ملک ،مظہربرلاس ،غزالہ حبیب خان ،حافظ خالدولیداورمشعال ملک سے باضمیر لوگ قومی و عالمی سیاست اورہرمصلحت سے بالاترہوکراپنے قلم کواہل کشمیر کیلئے شمشیر بناتے رہیں گے۔کشمیرکے پرعزم اورپرجوش نوجوانوں کی قربانیاں کایاپلٹ دیں گی،وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیرلکھیں گے۔شہیدوں کے خون کاسیلاب بھارت کوبہالے جائے گا۔ بھارت اوراس کے بھگت اپنے گناہوں کی سزاضرور بھگتیں گے۔

ہم بچپن سے پچپن کی دہلیز تک آگئے ہیں مگر ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھری جوانی میں شہیدکردیاجاتا ہے۔معصوم کشمیری بچے آزادی کے خواب نہ دیکھیں اسلئے Pellet Gunsسے ان کی چمکتی آنکھیں چھلنی کردی جاتی ہیں ۔کشمیری پچھلی سات دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق کی پامالی کی دوہائیاں دے رہے ہیں مگر ''اقوام مردہ ''کی قراردادوں کے باوجود بھارتی ارادوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔راقم نے اپنے ہوش میں ایسا کوئی دن نہیں دیکھا جس روز وادی کشمیر سے کسی شہید کا جنازہ نہ اٹھا ہو۔کشمیر میں شہیدوں کے ساتھ ہربار عالمی ضمیرکا جنازہ بھی ضرور اٹھتا ہے ۔ کشمیری حق آزادی کیلئے شاہراہ شہادت بلکہ شاہراہ بہشت پرگامزن ہیں ،ان کے شوق شہادت اور جذبہ خودداری سے بھارت بری طرح خوفزدہ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ماہ صیام اورعیدین کے ایام بھی بھارتی انتقام کی نذرہوجاتے ہیں مگر وہ اپنے شہیدوں کا ماتم نہیں کرتے بلکہ انہیں دولہا بناکرسپردخاک کیاجاتا ہے ۔ بلاشبہ کشمیری ماؤں کی ممتا بھی دوسری ماؤں سے بہت منفرداورممتاز ہے ۔آپ وادی کشمیر میں شہیدوں کے جنازوں پرکسی ماں کے بین نہیں سن سکتے بلکہ ان بینظیر ماؤں کی زبانوں پراپنے نڈربیٹوں کی شجاعت کے گیت ہوتے ہیں۔ یوں توجس گھر میں میت ہووہاں خوشی کا دن بھی سوگ میں گزرتا ہے مگر وادی کشمیر میں شہیدوں کے جنازے جلوس بن جاتے اوران میں آزادی کے نعر ے بلندہوتے ہیں ،کشمیر میں شہیدوں کے ورثا کومبارکباد پیش کی جاتی اوراظہارعقیدت کیلئے ان کی پیشانی کوچوماجاتا ہے ۔ جوان بیٹوں کے جنازوں کوکندھا دے دے کر ضعیف کشمیریوں کے کندھے ضرور جھک جاتے ہیں مگر کسی باپ یابھائی کا سر نہیں جھکتا۔ بھارت کی بدترین قیدوبندکے باوجودبزرگ سیّدعلی شاہ گیلانی ، نڈریٰسین ملک،نصرت عالم ،باحیاء اورباصفاآسیہ اندرابی،میرواعظ عمرفاروق اورشبیراحمدشاہ سمیت آج تک کشمیر یوں میں سے کسی ضمیر کے قیدی نے سرنڈر یاسمجھوتہ نہیں کیا ۔دنیا کے بااثرحکمرانوں کادوہرامعیار کسی سے ڈھکاچھپا نہیں،وہ فلسطین سے کشمیر تک معتوب ،مغلوب ،مضروب ،محکوم اورمظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی نہیں کرتے لیکن ہرقوم کے اندرسے باضمیر ان کیلئے کلمہ حق ضرور بلندکرتے ہیں ۔ترکی ،برطانیہ ،امریکہ،یورپ اورکینیڈا میں مقیم اوورسیزپاکستانیوں اورانٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ برطانیہ کے صدر اقبال سندھو،جنرل سیکرٹری چوہدری نویداکبراورسینئر کالم نگارسمیع اﷲ ملک نے بھی ہرمرحلے پرکشمیر کاز کیلئے آوازاٹھائی ہے۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،مرکزی چیف آرگنائزر اشفاق احمدکھرل ایڈووکیٹ ،مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل مخدوم وسیم قریشی ،مرکزی نائب صدورمیاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ،سلمان پرویز،صدرمدینہ منورہ سرفرازخان نیازی ،صدرنیویارک محمدجمیل گوندل ،صدرکراچی یونس میمن اور صدربلوچستان کامران خان بازئی پوری توانائی کے ساتھ روہنگیائی ،فلسطینی ،کشمیری اورشامی مسلمانوں پرہونیوالے ظلم وستم کیخلاف آوازاٹھاتے ہیں ۔

امریکہ میں مقیم ہردلعزیز شاعرہ ،مصنفہ اورفرینڈزآف کشمیر کی فعال چیئرپرسن غزالہ حبیب خان ان دنوں پاکستان آئی ہوئی ہیں اوران کے اعزازمیں مختلف شہروں میں پروقار تقریبات کااہتمام کیاجارہا ہے۔غزالہ حبیب خان دنیا میں جہاں بھی ہوں ان کادل ستم زدہ کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتااوران کیلئے کڑھتا ہے۔پچھلے دنوں برادرم لقمان شریف نے پیلاک میں غزالہ حبیب خان کے اعزازمیں ایک تقریب کااہتمام کیا تھا۔اس شانداراوریادگارتقریب کی صدارت اردوادب کے سرخیل اورمنفردلہجے کے مقبول ومحبوب شاعر خالد شریف نے کی جبکہ ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی صدر ،منفرداسلوب کے حامل سینئر کالم نگار،تجزیہ کار،راوین مظہربرلاس اور ڈی جی پیلاک ، منفردلہجے کی شاعرہ ، کالم نگارڈاکٹرصغریٰ صدف مہمان اعزاز کی حیثیت سے تقریب میں شریک ہوئے۔ راقم سمیت مسلم لیگ (قائداعظمؒ)پنجاب کی صوبائی جوائنٹ سیکرٹری تمکین آفتاب ملک اورپاک آسٹریلیافرینڈشپ کے روح رواں ارشدنسیم بٹ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باحیاء اورباصفا غزالہ حبیب خان نے اپنے صادق جذبوں کے ساتھ تکمیل پاکستان کیلئے سرگرم کشمیریوں کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے عالمی ضمیر کوجھنجوڑا ۔ وادی کشمیر میں Pellet Gunsکے وحشیانہ استعمال اوراس کے نتیجہ میں بینائی سے محروم ہونیوالے بچوں سمیت کشمیریوں کاتذکرہ کرتے ہوئے غزالہ حبیب خان کی آنکھوں میں نمی آگئی ۔غزالہ حبیب خان نے کشمیراوراہل کشمیر کواپنی شاعری کامحورومرکز بنایاہوا ہے ۔بھارت کے فطری دوست امریکہ میں مقیم غزالہ حبیب خان کا کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اوران کی آزادی کیلئے راہیں ہموارکرنا قابل قدراورقابل رشک ہے۔غزالہ حبیب خان کی قیادت میں ''فرینڈزآف کشمیر'' کے پلیٹ فارم سے دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم اوورسیزپاکستانیوں نے کئی بار کشمیر کاز کے سلسلہ میں مختلف اورموثر سرگرمیوں کااہتمام کیاہے جہاں پاکستانیوں سمیت مختلف اقوام کے باضمیر لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ غزالہ حبیب خان کی پرورش شہرقائدؒ میں ہوئی مگران کاخمیروادی کشمیرسے اٹھا ہے اوروہ دخترکشمیرہونے کابھرپورحق اداکررہی ہیں۔غزالہ حبیب خان کی شخصیت اورتعلیم وتربیت میں کشمیر اورکراچی دونوں شہروں کارنگ جھلکتا ہے۔ خالد شریف نے دوران خطاب اپنے مخصوص انداز میں کشمیرکامقدمہ اوراپناخوبصورت کلام پیش کیا ۔خالدشریف کی اہلیہ بھی کشمیری ہیں ،یہ انکشاف انہوں نے اپنے خطاب میں کیا ۔مظہربرلاس نے اپنے خطاب میں جہاں اپنے معاشرے کی کچھ منفی عادات کاتذکرہ کرتے ہوئے ان سے نجات کامثبت اورمفیدمشورہ دیا وہاں بھارت کا''چہرہ'' بھی بے نقاب کیا۔مظہربرلاس کی تحریروں سے پاکستان کے اہل سیاست اوراہل صحافت کا''چہرہ ''شناخت کرنا اورمزاج سمجھناآسان ہوجاتا ہے۔مظہربرلاس سے کشمیریوں پربھارتی ظلم کے واقعات سن کر سنجیدہ تقریب کے شرکاء رنجیدہ ہوگئے۔مظہربرلاس اپنے قلم سے دشمنان وطن پرکاری ضرب لگاتے ہیں،ان کی تقریر بھی تحریر کی طرح سحرانگیز ہوتی ہے۔ مظہربرلاس نے کہاقائداعظم ؒ نے کشمیرکوپاکستان کی ''شہ رَگ'' قراردیاتھا ،راقم نے کہاکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی ''دُکھتی رَگ'' بھی ہے۔راقم نے کہاکشمیری ہرروزشہیدہوں اورہمارا صرف سال میں ایک بار5فروری کویوم یکجہتی کشمیرمناناکافی نہیں۔کشمیر کمیٹی کے ''امام'' کچھ ایساکریں جس سے کشمیریوں کوان پر''فخر''ہو۔ صغریٰ صدف نے کشمیرکازکیلئے غزالہ حبیب خان کی کمٹمنٹ اورکاوشوں کوسراہا۔صغریٰ صدف نے پیلاک کوصحتمندسرگرمیوں کامرکز بنادیاہے۔ ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ شخصیات کا پیلاک کواپنادوسراگھر سمجھناخوش آئند ہے ،قلم قبیلے کیلئے صغریٰ صدف کادم غنیمت ہے۔اردودنیا کے ہردلعزیزاور سینئر کالم نگارپروفیسرڈاکٹرمحمداجمل خان نیازی ،سمیع اﷲ ملک،محمددلاورچوہدری ،مظہربرلاس،محسن گورایہ،میاں محمدسعیدکھوکھر،قیوم نظامی، منورصابر،میاں حبیب،شاہین اقبال زنگی،سعداختر، سردارمرادعلی خان،اشفاق احمدکھرل،ذبیح اﷲ بلگن،کاشف سلیمان،ناصف اعوان،سلمان پرویز ،غزالہ حبیب خان، صغریٰ صدف،رابعہ رحمن،نیلماناہیددرانی ،ڈاکٹرنبیلہ طارق ایڈووکیٹ اورمشعال ملک جیسی شخصیات پاکستان میں نظریاتی صحافت کی علامت جبکہ متعصب بھارت کیخلاف جرأتمندانہ مزاحمت کااستعارہ ہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ اوردُکھتی رَگ ہے دشمن کے چنگل سے اس کی آزادی کیلئے قلمی جہاد ہمارافرض اورہم پرقرض ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 72 Articles with 22414 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2019 Views: 263

Comments

آپ کی رائے