خون آشام بھارت(Lynchistan)

(Syed Haseen Abbas Madani, )

بی جے پی شروع ہی سےبھارت کے آئین کے بجائےہندوتوا کی طرف زیادہ جھکی ہوئی ہے۔۲۰۱۴؁ کے الیکشن میں کامیابی کے بعد سے اسکا متعصب ہندو رخ نظر آ گیا تھا۔اور ۲۰۱۹؁ کا الیکشن اس وعدے پر تھا کہ بھارت کو ہندو دیش بنایئں گے۔ جبکے آیئن کے موثر ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں ہے۔ اسکے لیئے قانون سازی کرنی پڑے گی۔

قانون سازی سے پہلے ہی گئو رکھشک (گائے کی حفاظت) کے نام پر خون خرابہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ مِیں ناموں کی تفصیل اور ظلم کی داستان لکھوں ایک ویڈیو کلپ کا لنک دے رہا ہوں۔https://youtu.be/UaCtvYtV2f0 بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ یہ کہانیاں باہر آجاتی ہیں۔ ۹ ۔اگست۲۰۱۸ کو یہ مودی والے بھارت کے آیئن کو سڑک پر جلا رہے تھے۔ اور کوئی ان سے پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔ دراصل BJP والے آیئن کو اسلیئے جلا دینا چاہتے ہیں۔کہ یہ آیئن ہی ہے جو کروڑوں دلت ((Dalitکی زندگی کی ضمانت ہے۔پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ برہمن اچھوت دلت کو اپنا غلام جانتے ہیں۔ اور اقلیّت مسلمان، سکھ، عِیسائی، کی حیثیت بھی اچھوت جَیسی ہے۔ برہمن ان سب کو اپنا غلام جانتا ہے اور اپنی مرضی کیمطابق ان کو رکھنا چاہتا ہے۔ جو انکی نہیں مانے گا اسکو یہ ماریں گے اور قتل بھی کر دیں گے۔ان BJP والوں کے آیئن کی کتاب کا نام ہے۔منوسمریتی

https://youtu.be/QCtnM2lcyHI اسکا لنک بھی آپ کے سامنے ہے۔یہ قتل و غارت اور بے ایمانی کی دستاویز ہےاس میں لکھا ہے کہ عورت مرد کے پاؤں کی جوتی ہے۔ اور اسے پڑھنے لکھنے کا حق نہیں ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اور ذات پات کی بنیاد پر انسان کو بہت ذلیل کیا گیا ہے۔بھارت کا آیئن بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے لکھا تھا۔اس آیئن مِیںتمام ذاتوں اور مذاہب کو عزّت سے جینے کا حق دیا گیا ہے۔ ذات پات کی نفی کرتے ہوئے سب انسانوں کو برابری کا حق دیا گیا ہے۔ اگر اس آیئن کو تبدیل کرکے منوسمریتی کو بھارت کا آیئن بنا دیا تو پھر تو بھارت میں بڑی قتل و غارتگری ہوگی۔ یہ بھارتی غزؤےہند کا بڑا رونا روتے ہیں اور اس حدیث پر بڑی بکواس کرتے ہیں اللہ تو عا لم الغیب ہے اسے سب معلوم ہے کہ بد بختوں سے کس طرح نمٹنا ہے۔

برہمن خود تو لڑائی اور مار کٹائی نہیں کرتا مگر انہیں اچھوتوں سےقتل و غارتگری کراتا ہے۔ اور انمیں بیشتر برہمن کی غلامی کو انجوائے کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی روزگار تو ہوتا نہیں ہے۔ اسی طرح قتل و غارتگری کے دوران لوٹ مار بھی کرتے ہیں۔ مثَالکے طور پر سڑک پر گاڑیاں روک کر پوچھ گچھ کرتے ہیں ۔ اور اگر کوئی مسلمان نام سن لیا تو جے شری رام کہلوایئں گے۔ پھر ماریئں گے یا لوٹ مار کے بعد مارڈالنا کویئ خاص بات نہیں ہے۔ جھوٹا الزام لگا دیئں گے۔ کہ چور تھا۔ لڑکی کو چھیڑ رہاتھا۔ وغیرہ وغیرہ۔پولیس انکی پوری پشت پناہی کرتی ہے۔

بابا صاحب امبیڈکر نے ۲۵ دسمبر ۱۹۲۷کواس بے ایمانی ، ذلّت ، اور ذات پات کے تعصب والی کتا ب کو جلا دیا۔تاکہ بھارت مِیںِ اچھوت انسانی قدر اور عظمت کیساتھ زندہ رہ سکیں ۔ جو آیئن بابا صاحب نے بھارت کے لئے لکھا۔ وہی ستّر برس سے بھارت کو جوڑ کر رکھ سکا ہے۔ مگر اس آ یئن پر پورا عمل نہ ہو سکا۔جن لوگوں کے دل ودماغ میں ذات پات اور اونچ نیچ کا زہر بھرا ہوا تھا وہ اس سے پاک نہیں ہو سکے اور خفیہ طور پران دبے اور کچلے لوگوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے۔ اور برہمن ان غریب دلت آبادی کو مار کٹائی کے لیئے استعمال کرتے رہے۔ اور انکے ساتھ جو ذلّت آمیز رویّہ تھا اس مِیں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی وہ ترقی کرنے سے محروم رکھّے گئے ہیں۔

BJP کا برہمن پھر سے منوسمیریتی کو بھارت کا آیئن بنا کر۔ بھارت کو دھرم کی بنیاد پر چلانا چاہتا ہے۔ جو انسانوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے۔ برہمنوں کی شر پسندی کی وجہ سے پچھلے ستّر سالوں میں بھارت کی عوام غربت کی سطح سے اوپر نہ آ سکی۔ اندازہ کیجئے کہ جمَہوریت کہَاں گئی؟ ۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمَہوریت ہے۔ مگر کیسے ؟ساڑھے تین فیصد کا برہمن پورے بھارت پر قابض ہے۔اور پچّاسی فیصد دَلت آبادی بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے۔

سراسر بے ایمانی سے جیتے ہوئے الیکشن کے بعد تعصب کی بنیاد پر مسلمانوں اور دَلت کا قتل عام۔دوسرے یہ کہ میڈیا کا جھوٹ اس سب پر بھاری ہے۔

بہر حال مسٹر وامان میشرام تمام ذاتوں اور مذاہب کے آدمیوں کو جگا رہے ہیں اور جوڑ رہے ہیں۔ اللہ انکو کامیاب کرے۔ اور بھارت مِیں اور اسکے آس پاس بھی خوشحالی آئے ۔ آمین۔اللہ تعالٰی نے برے لوگوں اور انکے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے دعاء سیکھائی ہے کہ اے اللہ مرنے کے بعد ہمیں نیک لوگوں کیساتھ دفن فرمایئے۔

(وَتوفّنا مع الابرار)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 194 Print Article Print
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 36 Articles with 11427 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: