جاہلوں کی غلطیوں کی سزا ہر دور میں نقصاندہ ثابت ہوئی ہیں

(Syed Farooq Ahmed, India)

جھوٹ‘ جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔ (متفق علیہ)لہذا ہر مسلمان کو بذات خود یا حکومتی و مذہبی ذمہ دار افراد یا قابل اعتماد ذرائع ابلاغ وغیرہ کے ذریعے تحقیق و تصدیق کا ٹھوس موقف اپنانا چاہئے اور کسی بھی خبر یا پیغام کو شیئر کرنے میں جلد بازی سے بچنا چاہئے کیونکہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے:’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے‘‘۔

ایک حدیث میں ارشاد نبویﷺ ہے: ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے ‘‘( صحیح مسلم )ایک رواایت میں ہے کہ بہتان باندھنے والے کو آگ کے ٹیلے پر کھڑا کیا جائے گا۔ حضرت رسول خداﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مومن مرد یا مومنہ عورت پر بہتان لگائے یا اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو اس میں نہ پائی جاتی ہو تو اﷲ بروز قیامت اسے آگ کے ایک ٹیلے پر کھڑا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس مومن کے بارے میں اپنی بات کو واپس لے لے۔جب سے اینڈرائڈ موبائل اور سوشل میڈیا ایرے غیرے نتھو خیرے اور جاہل لوگوں کے ہاتھ لگاہے تب سے ایک ہیجان بپا ہوا ہے۔ آئے دن کچھ نہ کچھ نت نئی باتیں سننے میں آرہی ہے۔ کسی کا طلاق ہوگیا تو کسی نے کسی کی جان لے لی۔ادھر ابھی کوئی چیز اپنے تکمیل کو پہنچی بھی نہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی ہے ۔اور رہی سہی کسر ٹک ٹاک نے پوری کردی ہے۔ جو لڑکیاں کبھی پردے میں ہوا کرتی تھی وہ آج ٹک ٹاک کے ذریعے مجرہ کرتی نظر آرہی ہیں۔بھلے ہی وہ اپنا چہرہ چھپا رہی ہے مگر جسم تو نمایاں کرکے غیروں کی آنکھوں کی تسکین کا سبب بن رہی ہیں۔ دوسروں کے عیبوں کو جان کر انہیں سامنے لانا۔ انہیں اچھالنا تو ایک شعوری کوشش ہوتی ہے جس کا گناہ واجب ہے اور عبرتناک سزائیں ہیں۔ مگر آج کل تو شوشل میڈیا نے غیبت، چغلی اور لوگوں کی عیب جوئی کو الگ رنگ میں ہی پیش کردیا ہے۔ اب تو یہ غیر محسوس طریقے سے وہ تمام کام ہم کرجاتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور ہمیں اس کا پتہ بھی نہیں چلتا بلکہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ دراصل شوشل میڈیا کی وجہ سے بے شمار غیر اہم افراد بھی اپنے آپ کوسماج کا اہم حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ رات دن شوشل میڈیا سے جڑے رہنا، ہر اہم غیر اہم بات کو پھیلانا، لوگوں کے بیچ اہم بننے کے چکر میں بلا سوچے سمجھے کچھ بھی ایک دوسرے کو میسج بھیج دینے کے عمل نے سماج میں ایک انتشار پیدا کردیا ہے۔ ہمیں تو حکم ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی موضوع پر بات بھی نہ کریں مگر ہمارا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ نہیں رہ گئی ہے کہ کون سی بات پیش کرنا چاہئے یا کون سی بات آگے بڑھانا چاہئے۔ سچ ہے کہ آجکل سوشل میڈیا پر خبریں پھیلانے یا شیئر کرنے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔کوئی بھی خبر سامنے آئے تو ہر کوئی اسے اپنے اپنے طریقے سے پیش کرنے اور جلد سے جلد شوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا چاہتا ہے۔ کئی لوگ کیسے کیسے ویڈیو بناتے رہتے ہیں۔کوئی نماز پڑھ رہا ہے اس کی ویڈیو۔۔۔۔ کوئی قرآن پڑھ رہا اس کی ویڈیو۔۔۔ کہیں میت ہوگئی۔۔۔۔ کوئی کھانا کھلا رہا ہے۔۔۔۔کوئی پانی پلا رہا ہے۔۔۔۔کوئی کپڑے بانٹ رہا ہے۔۔۔ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں قرآن دے کر اور نہ جانے کئی طرح سے ویڈیو بناتے ہیں۔کیا یہ سب لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں یا اﷲ کی رضا کے لئے کرتے ہیں؟ نیکی کے کام تو چھپا کر کئے جاتے ہیں نا!!!!! پچھلے دنوں شوشل میڈیا پر کچھ تصویریں وائرل ہوئی تھیں۔ ہمارے مذہب میں لڑکا لڑکی کا ملنا قطعی جائز نہیں اور اس کی اسلام میں بالکل اجازت نہیں دی ہے۔لیکن دور حاضر جس ماحول میں ہم سانس لے رہیں ہیں وہاں لڑکے لڑکیوں کا کالج ساتھ آنا جانا۔گھومنا پھرنا عام ہوگیا ہے اور شاید یسے ماحول سے بہت کم گھر محفوظ ہیں۔ابھی کچھ دنوں پہلے ایسے ہی کچھ شرپسند لڑکوں نے برقعہ پہن کر ویڈیو بنائی اور وائرل کردی۔ اب ہم انہیں کوس رہے ہیں۔ اپنے اکابر پر تنقید کررہے ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کچھ نوجوانوں نے حقیقت کا پتہ لگایا اور سچ کو سامنے لایا۔

ایسے ہی ہمارے شہر میں ایک جاہل شخص نے ایک تصویر کھینچی جس میں ایک لڑکا اسکوٹی چلا رہا ہے اور پیچھے ایک لڑکی بیٹھی ہوئی ہے اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا کہ یہ دیکھو مسلم لڑکی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ تفریح کررہی ہیں۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تصویر اور مسیج بہت سارے گروپوں میں بغیر تحقیق کے جاہلوں کے ذریعے وائرل ہوگئی۔جب وہ تصویر اس لڑکا او رلڑکی کے والد تک پہنچی تو وہ حیران رہ گئے اور پریشان بھی ہوئے۔ انہوں نے فوراً تصویر لینے او روائرل کرنے والے کو تلاش کیا اور اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ دراصل تحقیق کے بات پتہ چلا کہ وہ دونوں دونوں بہن بھائی ہیں اورکالج کو جارہے تھے۔اور اگر کوئی مسلم لڑکی واقعی اس طرح کی غلطی کرتی ہیں تو انہیں اکیلے میں سمجھانا،ان کی غلطی کا احساس دلانا چاہئے نہ کہ ان کی تصویریں ان کی غلطیاں سرعام کر کے انہیں رسوا کرتے ہوئے باغی بنادیا جائے۔ ہم کہتے ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ سنتے ہیں کہ ماں باپ کو اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دینی چاہیے۔۔۔۔ ضرور دینی چاہئے اور ذمہ دار والدین دیتے بھی ہیں۔۔۔۔ کوئی بھی ماں باپ اپنے بچوں کو غلط راہ پر نہیں دھکیلتے یا بری تربیت نہیں دیتے۔ لیکن جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ہر وقت ماں باپ ساتھ تو نہیں رہتے!!! باہر بچے دوستوں سے ملتے ہیں۔ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔دوستی ہو جاتی ہے۔یہاں بچوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ حد سے زیادہ آگے نہ بڑھیں۔ بچے اپنے فرائض کو سمجھے۔غلطیاں بچوں سے ہوتی ہے الزام ماں باپ پر آتا ہے کہ ماں باپ نے صحیح تربیت نہیں کی‘کیونکہ دراصل وجہ ماں باپ کی بھی ہوتی ہے کہانہیں بچپن سے ویسٹرن اورغیر مہذب کپڑے پہنادئے جاتے ہیں اورپھر وہ بڑے ہو کر ان بے ہودہ کپڑوں کو پہننا آر نہیں سمجھتے۔بہر کیف لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ آج ہم کسی لڑکی کی عزت اچھالیں تو کل یہ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔جانے انجانے خود ہم اپنے بچوں کو بدنام کررہے ہیں۔ ایسی ویسی تصاویر شیئر کرنے کے بجائے وہیں پر ختم کی جائیں۔ والدین بھی اپنی ذمے داری نبھائیں اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں۔۔۔اچھے برے کی پہچان کروائیں۔ ہمارا معاشرہ، والدین، بچے اگر اپنے اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیں تو تھوڑا بہت ان مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ایک بات یاد رکھیں کہ اس ربِ کریم کی شان ہے کہ اس نے عزت اور ذلت اپنے ہاتھ میں ہی رکھی ہے۔ جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اﷲ اس کے عیب چھپائے گا۔(صحیح مسلم:6490)لہذا ایک اچھا اور صحت مند معاشرہ اگر ہم ترتیب دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا تو ہوا ہی پڑے گا ساتھ ہی ایک دوسرے کوسمجھ کر انہیں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
»بغیر تحقیق کے کسی بھی خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے سے خود بھی بچئے اور لوگوں کو بھی بچائیے
+کسی بھی پاکدامن لڑکی یا لڑکے پر الزام (بہتان)لگاکرخود کی آخرت اوراس کی زندگی حرام مت کیجئے‘ جاہلوں کی غلطیوں کی سزا ہر دور میں نقصاندہ ثابت ہوئی ہیں
5خصوصی رپورٹ:سید فاروق احمد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed farooq ahmed

Read More Articles by syed farooq ahmed: 44 Articles with 18004 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2019 Views: 500

Comments

آپ کی رائے