قارئین کے سوالات

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

شعبہ تعلیم سے وابستگی کو دو دہائیاں ہونے کو ہیں۔ قارئین بے شمار سوالات بھیجتے ہیں ، میں نے صرف تعلیمی سوالات کا انتخاب کیا کیوں کہ موجودہ دور میں ہمارا تعلیمی گراف بہت نیچے ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رہنمائی اور مشاورت نہ ہونے کے برابر ہے۔لہٰذا میں نے تعلیمی سوالات کے جوابات دینا مناسب سمجھا۔ بنوں سے اسد رحمن نے پوچھا ہے کہ میں نے ایف۔ایس۔سی ( پری انجینئرنگ) میں پاس کی ہے۔ بد قسمتی سے ایٹا ٹیسٹ میں رہ گیا ہوں۔ اَب میں کون سے شعبہ جات میں داخلہ لینے کا اہل ہوں؟پہلی بات یہ کہ تعلیم میں بد قسمتی نہیں ہوتی، البتہ محنت میں اُنچ نیچ آجاتی ہے۔ آپ کے لئے ایف۔ایس۔سی ( پری انجینئرنگ ) کے بعد کافی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ بی۔ایس ( چار سالہ ) میں آپ حساب یا کمپیوٹر سائنس یا فزکس یا الیکٹرونکس یا بزنس ایڈمنسٹریشن میں کسی ایک شعبے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ضروری بات یہ ہے کہ آپ اپنے شو ق کو مد نظر رکھ کر داخلہ لیں۔ حماد حسن میاں والی سے لکھتے ہیں کہ میں گزشتہ دو سال سے بے روزگار ہوں ۔ میں نے بی۔ایس۔سی میکنیکل انجینئرنگ ایک پرائیویٹ ادارے سے کی ہے جس کا الحاق یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ساتھ ہے لیکن اس کی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ ایکریڈیشن نہیں ہے۔ اَب مجھے ہائر ائجوکیشن کی جانب سے بی۔ایس (چار سالہ ) کی ڈگری دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میری تمام طالب علموں اور اُن کے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ کرواتے وقت یہ ضرور پتہ کریں کہ وہ ادارہ مستند اور الحاق شدہ ہے یا نہیں۔ حماد حسن! آپ کو جاب اس لئے نہیں مل رہی ہے کہ آپ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ انجینئر نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی جاب آتی ہے اُس کی اہلیت میں یہ شرط ہوتی ہوگی ۔آپ نجی اداروں میں کوشش کریں وہاں میکنیکل انجینئرنگ کی کافی طلب پائی جاتی ہے۔ میرا آپ کے لئے یہ مشورہ ہے کہ آپ ایم۔ایس ۔سی میں داخلہ لے لیں اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کرکے اپنی اس غلطی پر قابو پا لیں۔چکوال سے اُم حبیبہ نور پوچھتی ہیں کہ انہوں نے میٹرک پاس کیا ہے۔ میرے مضامین اسلامیات اختیاری اور عربی تھے۔ اَب انٹرمیدیٹ میں کون سے مضامین پڑھوں تاکہ مستقبل میں مجھے فائدہ مل سکے۔ نیز میں ریگولر تعلیم نہیں کر سکتی لہٰذا پرائیویٹ پڑھوں گی۔ آپ چوں کہ ریگولر تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی ہیں ۔ اس لئے آپ وہ مضامین لینے سے قاصر ہیں جن میں پریکٹیکل ہوتا ہے۔ آپ کی دل چسپی اور مستقبل کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ آپ اپنی تعلیم اسلامیات اختیاری ، تاریخ اسلام اور علم التعلیم (تعلیم) مضامین کے ساتھ جاری رکھیں۔امجد علی جو کہ ششم جماعت کا طالب علم ہے، لاہور سے پوچھتا ہے کہ میں چھٹی جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے ریاضی کے مضمون میں مشکلات ہیں ۔ اس کے بارے میں تجویز دیں۔ بد قسمتی سے ہم نے ریاضی کو ایک خشک مضمون قرار دیا ہے۔حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ابھی آپ جس جماعت میں پڑھ رہے ہیں یہ ریاضی کے بنیادی اُصولوں سے متعلق ہے لہٰذا میری آپ کے لئے یہ تجویز ہے کہ آپ ریاضی کے مضمون میں زیادہ سے زیادہ مشق پر توجہ دیں۔اگر کوئی سوال سمجھ نہیں بھی آرہا ہے پھر بھی آپ اس کی مشق جاری رکھیں۔ انشاء اﷲ یوں آپ کی دل چسپی کے ساتھ آپ کے ذہن کی گرہیں بھی کھلتی جائیں گی۔ نبیلہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پوچھتی ہیں کہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے بی۔اے کر رہی ہوں۔ میری ایکمضمون کی اسائمنٹ فیل ہو گئی ہیں۔ کیا اَب میں سمسٹر امتحان میں شریک ہو سکتی ہوں؟ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد فاصلاتی نظام تعلیم مہیا کرتی ہے۔ اس طرز تعلیم میں گھر بیٹھے کچھ مشقیں دی جاتی ہیں جن کا مقصد طالب علموں کو کتاب پڑھنے کی جانب راغب کرنا ہوتا ہے۔ تا کہ وہ سمسٹر امتحان میں دقت محسوس نہ کریں ۔ اس لئے مشقوں اور امتحان کو تیس اور ستر نمبرات کا تناسب دیا جاتا ہے۔ اَب جب کہ آپ ایک مضمون کی مشقوں میں فیل ہو گئی ہیں لہٰذا آپ صرف اسیمضمون کا امتحان نہیں دے سکتی۔ باقی مضامین میں آپ امتحان دے سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ آپ اسی مضمون میں دوبارہ داخلہ لیں گی، کتابیں آئیں گی ، مشقیں ہوں گی اور امتحان دیں گی۔حفصہ علی نے فیصل آباد سے پوچھا کہ میں کمپیوٹر کا کورس بذریعہ خط و کتابت کرنا چاہتی ہوں۔ کیا یہ میرے لئے مفید ہو گا؟ کمپیوٹر سائنس ایک عملی شعبہ ہے۔اس میں تین ماہ سرٹیفیکیٹ سے لے کر ایک سالہ ڈپلومہ کروائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس شعبہ میں ڈگریاں بھی ہوتی ہیں۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے شہر میں کسی ادارے میں داخلہ لیں تاکہ آپ کمپیوٹر کو عملی طور پر سیکھ سکیں۔ داخلے سے قبل یہ بھی معلوم کریں کہ ادارہ کسی بورڈ کے ساتھ الحاق شدہ ہے یا نہیں،تا کہ آپ کو ملنے والا سرٹیفیکیٹ یا ڈپلومہ مستند ہو۔ خالد نواز صاحب جو کہ خود شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں ، وہ ایف جی سکول فار بوائز بنوں کینٹ سے پوچھتے ہیں کہ میرے بیٹے کی عمر بارہ سال ہے اُس کی ذہنیصلاحیت کمزور ہے۔ اُس کو اگلے گریڈ میں پروموٹ کیا جارہا ہے لیکن میں اُس کی موجودہ تعلیم سے مطمئن نہیں ہوں۔ پروفیسر صاحب! یہ میرا بڑابیٹا ہے ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ آپ سے فون پر تفصیلی بات کی۔ اُمید ہے کہ آپ مطمئن ہوں گے۔ یہاں بھی آپ کے سوال کا جواب پیش خدمت ہے۔ آپ کے بچے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اُس کی ذہنی عمر ‘ طبعی عمر سے کم ہے، یعنی اگر وہ اب بارہ سال کا ہے لیکن اس کی ذہنی عمر آٹھ یا نو سال کے بچے کی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اس کو پروگریس دکھائی نہیں دیتی جو اس کے دیگر ہم جماعت بچوں میں نظر آتی ہے۔ میرا آپ کو یہ مشورہ ہے کہ بچے کو بہت زیادہ توجہ دیں۔ اُس سے آٹھ یا نو سال کے بچے والی توقعات رکھیں۔ اکثر والدین بچوں کے پڑھنے ( ریڈنگ) اور لکھنے ( رائٹنگ ) کے حوالے سے سوالات کرتے ہیں ، ایک سوال لاہو ر سے بختیار خان نے کیا ہے کہ اُس کا بیٹا جماعت ششم میں پڑھتا ہے۔ وہ پڑھنے اور لکھنے میں کمزور ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ یہ بہت اہم سوال ہے اور اکثر والدین مجھ سے یہی سوال کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے تفصیل سے جواب حاضر ہے۔ اس میں زیادہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔ پڑھنے کی مہارت پر گرفت حاصل کرنے کی غرض سے ہمیں چاہیے کہ نرسری سے ہشتم تک کم از کم سلسلہ وار انگلش اور اُردو کہانیاں اور اگلی جماعتوں میں ڈراموں اور ناولوں کو شامل کیا جائے جن سے بچوں میں پڑھنے کی مہارت پیدا ہو ۔ اس مہارت سے بچوں میں کتب بینی فروغ پائے گی اور نوٹس اور خلاصوں کا کلچر کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اگلی اہم مہارت لکھنے کی ہے۔ ہمیں سالہا سال ( شاید قیام ِ پاکستان ) سے چند مخصوص مضامین ، کہانیاں ، خطوط اور درخواستیں رَٹ وائی جاتی ہیں اور اُن کی اتنی مشق کروائی جاتی ہے کہ ساری عمر ’’ میرا سکول ‘‘ مضمون ، ’’ پیاسا کوا ‘‘ کہانی ، ’’فیس معافی‘‘ کی درخواست اور ’’چاچا جان کی جانب سے گھڑی کا تحفہ ملنے پر شکریے ‘‘ کا خط یاد رہتا ہے۔ بچوں میں تخلیقی لکھنے کی صلاحیتیں پیدا ہی نہیں کی جاتیں لہٰذا بچوں کے اندر مضمون ، کہانی اور خطوط نویسی وغیرہ لکھنے کی تخلیقی مہارتیں پیدا کی جائیں۔ اس سے بچوں کے اندر سوچ اور سمجھنے کی صلاحیتیں پروان چڑھیں گی۔اگر آپ کا بھی کوئی تعلیمی مسئلہ ہو تو میری ای میل [email protected] یا واٹس ایپ نمبر 03339745050 پر پوچھ سکتے ہیں۔ خیال رہے اپنا نام اور پتہ ضرور لکھیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124484 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jul, 2019 Views: 568

Comments

آپ کی رائے