سو لفظوں کی کہانی (بہتان)

(فاطمہ قریشی, Hyderabad)

حیا روتے ہوئے، رک جائیں ابو خدارا میری کتابیں مت جلائیں،

میں ساری کتابیں جلادوں گا اور کل سے تمہارا یونیورسٹی جانا بند ورنہ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا،
بے شرم لڑکی تمہاری اتنی ہمت کہ ایک غیر لڑکے سے گھر کی دہلیز پر تم بات کرتی ہو،

ابو مجھ پر شک نہ کریں وہ لڑکا میری سہیلی کا بھائی ہے جو مجھے میری سہیلی کے نوٹس دینے آیا تھا، علم حاصل کرنا میرا حق ہے اس حق کو شک اور بہتان کی نزر نہ کریں،

چپ ہوجاؤ، ہٹ جاؤ میرے راستے سے!

اور پھر ہوا یوں کہ ان کتابوں سے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے ساتھ دھواں اٹھنا شروع ہوجاتا ہے اور ان کتابوں کے ساتھ حیا کے خواب بھی جل جاتے ہیں.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فاطمہ قریشی

Read More Articles by فاطمہ قریشی: 3 Articles with 2655 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2019 Views: 678

Comments

آپ کی رائے