یہ باتیں سب جھوٹی ہیں.

(Aqsa Aziz, Bahawalnagar)

انسان کو پہچاننا اس دور میں بہت مشکل ہے خلوص کا لبادا اوڑھ کر ہر کوئی فرشتہ بنا پھر رہا ہے سب کی طرح میں بھی یہی سمجھتی تھی کہ مبھے انسانوں کی پہچان ہے میں انسان کے اصل چہرے سے واقف ہوں میں سمجھتی تھی کہ انسان کو پہچاننا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا آج کل سب نے بنا دیا ہے اب کچھ لوگوں کی وجہ سے ہر ایک کے خلوص پر شک کرنا تو نا انصافی ہے۔ لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ انسان کو دو چہروں میں ہی جینا ہوتا ہے چاہے کچھ ملے یا نہیں !

لوگ ہمیشہ وہ چیز دیکھتے ھیں جو وہ دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں،پھر چاہے وہ کوئی بھی تعلق نبھانے کا معاملہ ہو یا خود کی ذات سے جڑ ی کوئی بات۔ عالمی ادارہ کی ایک تحقیق کے مطابق 80% لوگ اپنے مُشکِل وقت میں رشتے داروں سے زیادہ اپنے دوست احباب پر یقین کرتے ہیں اور اس طرح کے رجحان کا بڑھنا صرف اور صرف بنیادی اخلاقیات سے دوری ہے۔ اکثر لوگ میری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے پر میرا اسی محاورے پر یقین ہے کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ کوئی آپکو بے عزت کرتا ہے تو آپ اُس سے بڑھ کر بے عزتی کا موقع ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں اور پھر نتیجے میں دِلوں کی نفرتوں کا ڈیرہ لگ جاتا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ عزت کرنے والے شخص کی خود سے بڑھ کر عزت کی جائے اور اگر کہیں پر کوئی کوتاہی ہو جائے تو اسکا ازالہ اپنے رویئے میں مثبت برتاؤ سے کیا جائے۔لیکن ہمارا رویہ اس سے برعکس ہوتا ہے۔ اسکی مثال یوں ہے جیسے سوشل میڈیا پر ہم دنیا کے ہر بندے کی فوٹو پسند کرتے پر جونہی کسی رشتے دار یا اُس شخص کی فوٹو آتی ہےجِس سے بول چال بند ھوتی ہے تو تصویر پسند ہونے کے باوجود ہم پوسٹ لائک کرتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں اور سچ پوچھیں آجکل کی جنریشن کو اس سے ذیادہ اذیت کوئی نہیں ہوتی۔ خیر بات تو میں سنجیدہ کررہی تھی مگر یہ مزاح کی بات میرا ذاتی تجربہ بھی ہے ۔ میں اس بات سے بھی انکار نہیں کرتی کہ کچھ قریبی دوست سچ میں آپکو خلوص اور چاہت میں سرشار ملتے ہیں اور ایسے دوستوں کی قدر صحیح وقت پر ہی آتی ہے ۔

یہ زندگی بہت تھوڑی ملی ہے ہم سب کو،اسے نفرتوں اور پچتاؤں میں ضائع مت کریں۔اس دنیا میں آپ کی اپنی شخصیت ہے، اس بات پر اپنے آپ پر رشک کریں اور اللہ نے آپ کو جو قوتیں دی ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے دل کے سکون لیے جدو جہد کریں۔ ایمرسن کہتا ہے: ایک دن انسان یہ جان لے گا کہ حسد جہالت ہے، کسی اور کی مشابہت اختیار کرنا دراصل کوئی اور ذات اپنانا ہے، انسان کو چاہئے کہ وہ جس طرح کا ہے اسے اسی طرح سے قبول کرے، اور اللہ نے اس کے لئے جو مقدر میں رکھ چھوڑا ہے اس پر راضی رہے، یہ نعمتوں سے بھری دنیا اسے تب تک ایک دانہ بھی عطا نہیں کرے گی جب تک وہ کوششیں نہیں کرے گا۔خود بھی سکون سے جینا سیکھیں اور کائنات میں موجود ہر چیز کو سکون کی آزادی دیں۔یہ جھوٹی شان و شوکت یہیں رہ جانی ہے۔ حقیقت میں جو آپکے خیر خواہ ہیں اُنکو پہچانیں۔ بناوٹی لوگوں اور بناوٹی رویوں سے جتنا پرہیز ہو سکتا ھے اتنا کریں۔ ربّ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنایں۔ نمازِ فرض سے پہلے نمازِ یقین پر پُختہ اعتماد کریں کہ اللہ پاک سُنتا ہے ضرور سُنتا ہے۔ اس تعلق کے بعد آپکو کسی کے آگے جھکنے یا درد سنانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اپنا آج اور کل خوبصورت بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Aziz

Read More Articles by Aqsa Aziz: 3 Articles with 1637 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2019 Views: 361

Comments

آپ کی رائے