اسکول کی ماسی

(Dr. Shakira Nandini, Oporto)

ڈاکٹر شاکرہ نندنی

آج صبح ہی اچانک بوم ماڈل ایجنسی کے مالک یعنی میرے باس کا برازیل سے فون آیا کہ ڈاکٹر شاکرہ مُجھے لاس ویگاس میں چار بڑے ہوٹل کا کنٹریکٹ ملا ہے جن کے لئے لگ بھگ بیس ینگ ڈانسر کی ضرورت ہے، دو سال کا ایگریمنٹ ہے، تم فوراً میکس مومینٹم ڈانس اسکول جاؤ وہاں کے مالک سے میری بات ہوگئی ہے، تم جا کر آڈیشن لے کر لڑکیاں سلیکٹ کرو، میں صرف تم پر ہی بھروسہ کر سکتا ہوں کیونکہ تم میری ادارے کی سب سے سینئیر تجربہ کار اور بھروسہ مند ہو، چار و ناچار اوکے کہا اور میں تیار ہوکر سیدھا مزکورہ اسکول جا پہنچی، آڈیشن میں پورا دن لگ گیا بہر حال سہ پہر تک میں نے مطلوبہ لڑکیاں سلیکٹ کر کے اُن سے کونٹریکٹ سائن کروالیے، اُس اسکول میں ٹیچر اسٹوڈینٹ اور اسٹاف میں فرق نطر نہیں آتا تھا، خاص طور وہاں کی صفائی کرنے والی خواتین۔ ان کی خوبصورتی اور رکھ رکھائو لگ بھک ہندوستان پاکستان کی ماڈل جیسا ہی تھا۔ اسی سوچ نے میرے ذہن میں ایک خیال پیدا کیا جو اپنے قلم کی نوک سے آپ تک پہنچا رہی ہوں، پسند آئے تو کمنٹ ضرور کیجئیے گا۔

"اماں بڑے بھیا سے کہو ناں کہ مجھے اسکول جانے کی اجازت دے دیں.

اماں نے جلدی سے ڈر کے اِدھر اُدھر دیکھا اور میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا.
پگلی . تیرے بھیا نے سن لیا تو تجھے قتل کر دے گا.
تو نہیں جانتی کیا ؟
کہ وہ لڑکیوں کی پڑھائی کے کتنا خلاف ہے

وقت گُذرا بہت دھوم دھام سے میری شادی ہوئی اور جلد ہی اَن پڑھ ہونے کے ناکردہ جرم میں طلاق بھی ہو گئی
آج برسوں بعد

میں جس اسکول میں ماسی لگی ہوئی ہوں .
وہاں کی پرنسپل میری بھتیجی ہے
بڑے بھیا کی بیٹی۔"
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 99457 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
31 Jul, 2019 Views: 747

Comments

آپ کی رائے
چھا گئ ہیں آپ تو ڈیئر !حقائق بیان کرتی ہیں اور کیا ہی خوب بیان کرتی ہیں
رئیلی امپریسیو
سدا خوش اور آباد رہیں
By: UZMA AHMAD, Lahore on Aug, 01 2019
Reply Reply
0 Like
بہت اعلا ، آپ کے تو ذہن میں ایک خیال آیا جسے آپ نے بہت عمدگی کے ساتھ سپرد تحریر کیا ہم نے تو خود اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی بہنوں کو اسکول کے بعد کالج کی شکل نہیں دیکھنے دی یہاں تک کہ ان کی لاکھ منت سماجت کے باوجود انہیں پرائیویٹ تک پڑھائی نہ کرنے دی ۔ پھر خود اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی تک بھیجا ہوسٹلوں میں رکھ کر ماسٹرز کرایا ، انہیں ڈاکٹر بنایا ۔ ہمارا معاشرہ تضادات اور دوہرے معیارات کا مجموعہ ہے یہاں قانون ایک نہیں ہوتا بیٹی کے لئے کچھ تو بہو کے لئے کچھ اور ۔ اسی طرح بہن کے لئے کچھ تو بیٹی کے لئے کچھ اور ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie on Aug, 01 2019
Reply Reply
0 Like