ہمارا حال شکستہ حال ہے!

(Aqsa Amal, karachi)

طعنہ زنی، بہتان،حرص، لالچ اور بغض رکھنا آج کے دور کے انسان کی عادتوں کا حصہ بن چکی۔کہیں طعنہ دے کر دل کا بوجھ ہلکا کیا جاتا ہے تو کہیں بہتان لگا کر بدلہ لیا جاتا ہے،کہیں مال کی حرص اس قدر کہ تجوریاں بھر جائیں مگر دل نہ بھرےتو کہیں لالچ اور بغض کی بناء پر قتلِ عام!

جب یہی انسان گناہوں کے بوجھ سے ہلکان ہوا جاتا ہے اور اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے خسارے میں جاتا ہے،حالات کے خرابی پر سر پکڑ کر بیٹھتا ہے تو اُسے خیال آتا ہے (یہ حالات کی خرابی ،دن رات کا چھننے والا سکھ چین توحکمرانوں کی وجہ سے ہے)۔امیر طبقہ مال اکٹھا کرتے نہیں تھکتا،مزدوروں کی مزدوری کا حق ادا نہیں کرتا اپنا پیٹ بھرتا رہتا ہے،پھر کہتا ہے ہائے سکون میسر نہیں ۔سودے میں گھاٹا ہوگیا۔کاروبار اور تجارت گھاٹے میں ہے۔تب اُسے بھی یہی خیال آتا ہے(کہ یہ سب غلط حکمرانوں کی وجہ سے ہے)۔ارے دوسروں کی حق تلفی کرکے کہاں کا سکون لوگ ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں!

ہائے تف ہے ،تف ہے ہر ایسے شخص پر جو اپنا محاسبہ کرنا بھول جاتا ہے ۔آج کا غریب مزدوری کرتا ہے لیکن خدا خدا کرکے معاوضہ ملنے پر حرص میں مبتلا ہو جاتا ہےناشکری کرتا ہے یہ تھوڑا ہے زیادہ ملے اور ملتا رہے،شکر ادا کرکے گزارا نہیں کرتا(شکرادا کرنے سے تو مال میں برکت ہوتی ہے وہ تھوڑا ہی سہی) ۔آج ہر کوئی خود سے بہتر حالات کے لوگوں کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے نہیں سوچتا کہ ان سے بھی بدتر حالات میں کوئی موجود ہے۔غریب کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں اور امیر کہتا ہے میں امیر ترین ہو جاؤں۔ہوش کے ناخن لینا،اپنی غلطی تسلیم کرنا کسی کو بھی گنوارہ نہیں ۔حکمران چننے والے بھی ہم ہوتے ہیں اور بدحالی کے ذمہ دار بھی ہم خود ہوتے ہیں پھر روتےہیں تو روٹی ،کپڑے اور مکان کیلئے!! بہت کم ایسے لوگ رہ گئے جو کم پر بھی شکر ادا کرتے ہوں اپنی معقول رقم سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہوں۔ارشادنبوی(صلی اللہ علیہ وسلم) ہے کہ"خرچ میں میانہ روی اختیار کرنا آدھی معیشت ہے" یعنی تنخواہ کے مطابق بجٹ بنا کر صرف ضرورت پر خرچ کرنا۔ انسان اگر چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے تو مجال ہے کہ اس کی ٹانگ کوئی کھینچے۔تیس ہزار تنخواہ لینے والے کوناشکری کرتے دیکھ کر دل کھڑنے لگتا ہےیہاں سبھی خود کو غریب کہنے لگتے ہیں۔آخر ہم مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ کس جانب جا رہے ہیں؟نہ کسی کو منزل کی فکر اور نہ ہی ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی کی۔ارشاد باری تعالٰی ہے "ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر(دنیا کا عیش حاصل کرنے کی حوس نے) تمہیں غفلت میں ڈال رکھا ہے،یہاں تک کہ تم قبرستان پہنچ جاتے ہو" (الھمزہ۱:۲) اس آیت پر نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا"آدمی کہتا ہے میرا مال! میرا مال! حالانکہ اس میں تیرا حصہ تو اتنا ہی ہےجس کو تو نے کھا کر فنا کر دیایا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کرکے آگے بھیج دیااور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہےتو اسے دوسروں لوگوں کیلئے چھوڑ کر جانے والا ہے"

مال کی حوس ہی تو سکھ چین چھنتی ہے۔ایسے مسلمان ہو گئے ہم کہ ہمیں اپنے مسائل حل کرنے کے متعلق علم نہیں ہوتا کہ آخر اسلام نے پیش آنے والے کسی مسلئہ کے متعلق کیاآسانیاں پیدا کی ہیں۔ نہ خود سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو اسلام سکھانے کی زحمت کرتے ہیں بس کلمہ اور قرآن پڑھا دیا تو بس دین مکمل سمجھتے ہیں۔کیا لکھوں کہ کیسے لوگ ہو گئے ہم؟ ایک طرف ہم حکمرانوں اور سیاستدانوں کی جنگ میں گالم گلوچ و قطع تعلق کرنے والے،دوسری طرف خود کرپٹ ہو کر پاکستان کے نظام کو کوسنے والے، ہم اپنی بیٹیوں کو تعلیم سے دُور رکھ کر انکی غلطی پر جاہل کا لقب دینے والے،اپنی اپنی دُھن میں مگن ہمیشہ دوسروں کو بُرا بھلا کہنے والےاور پھر ہم ہی سوال کرنے والے کہ آخر یہ نظام کب بدلے گا!جواب ہے کہ ہمارا نظام تب بدلے گا جب ہم خود کو بدلیں گے،حقوق العباد پورے کریں گے۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ہمارا نظام تب بدلے گا جب امیر غریوں کے حقوق اداکرے گا۔حتٰی کہ ہر راعی اپنی رعیت کے متعلق سوچے گا۔

آج کا انسان اپنی فطرت کا گلا گھونٹ کر آسائش کی پلیٹ کو اس وقت تک گھورتا ہے جب تک اُسے مل نہ جائے اور اسی دورانیے میں بخل اور ریاکاری کی حد پار کرتا چلا جاتا ہے ۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا میں آنے والی ساری قوموں کی برائیاں ہم مسلمانوں میں سما گئی ہوں! جس بے دردی سے انسان ،انسان کو دھوکہ دے کر ذلیل یا قتل کرتا ہے شاید کہ شیطان بھی انسان سے پناہ گزیں ہو۔اگر ہم دیندار ہیں تو تفرقے میں بٹے ہوئے،اختلاف کے نام پر ایک دوسرے کی تذلیل کرنے والے دیندار،اللہ جانتا ہے کہ ہمارا حشر کیا ہوگا۔انجام کے اعتبار سے وَیْل (بربادہونیوالے) میں شامل ہونگے یا نَارُاللہ (اللہ کی آگ) کے جو بحالتِ حیات دل کو جلا دینے والی ہے۔خدارا اپنی بدحالی کا وبال حکمرانوں پر بعد میں ڈالیں پہلےاپنے اندر کے مسلمان کو ٹٹول کر باہر لائیں اُسے جھنجھوڑ کر ایک حقیقی مسلم ہونے کا کردار ادا کریں۔اپنا محاسبہ کرکے رب سے اسکافضل طلب کریں اور اُس رب کے حضور توبہ کریں۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ ہمارا حال شکستہ حال ہے اسے درست کرنے کیلئے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے یا نہیں!!کیونکہ نظام بھی تب بدلتا ہے جب انسان خود کو بدلتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Amal

Read More Articles by Aqsa Amal: 9 Articles with 2531 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2019 Views: 149

Comments

آپ کی رائے