سونے سے بنے انمول لوگ

(Dr. Shahid Ameen Samra, Sejong, Korea)

نئے شہر میں آئے دو مہینے ھوئے، زر دانوں کا موسم آیا اور ساتھ ھی الرجی، حالت ایسی ھوئی کہ سانس لینا تک مشکل ھو گیا۔ قریب کے کلینک سے علاج سے جب فائدہ نہ ھوا تو کسی ھسپتال جانے کا سوچا، نقشہ دیکھا، ایک قریبی ھسپتال پہنچا لیکن یہ کیا؟ وہ تو آخری رسومات ادا کرنے کا مرکز تھا! وھاں صوفے پہ بیٹھے ایک خوش پوش صاحب سے سلام دعا ھوئی، اپنا مدعا بیان کیا لیکن کورین زبان پہ اچھا عبور نہ ھونے کی وجہ سے بات صحیح سمجھا نہ سکا کہ یہ مسئلہ ھے اور مطلوبہ کلینک بارے رھنمائی چاھیے۔ وہ کہنے لگے میں اپنے بیٹے سے آپ کی بات کرواتا ھوں وہ انگریزی اچھی بول لیتا ھے۔ خوبصورت لہجے میں امریکی انگریزی بولتے صاحبزادے سے بات ھوئی، انہوں نے میرا مسئلہ سن کر اپنے والد کو بتایا۔ یہ سننا تھا کہ ان شریف آدمی نے اپنا بیگ اٹھایا اور ریک سے گاڑی کی چابی لی، میں سجھا کہیں جا رھے ھونگے۔ کہنے لگے مجھے نقشے سے کلینک کے مقام کا صحیح اندازہ نہیں ھو رھا اس لیے میں آپ کے ساتھ کلینک چلتا ھوں۔ یہ سننا تھا اور میں حیران کہ ایک ایسا معاشرہ جسے ھمارے لوگ مشینی اور بے حس معاشرہ کہہ کر مذاق اڑاتے ھیں وھاں انسانیت کس کس خوبصورتی کے ساتھ موجود ھے۔ میں نے درخواست کی کہ میرے پاس گاڑی ھے آپ تکلیف نہ کیجیے، کہنے لگے کوئی مسئلہ نہیں میرے پیچھے پیچھے چلے آئیے۔ میں آپ کو کلینک چھوڑ کر کوئی اور کام کرنے چلا جاؤں گا۔ پارکنگ میں گاڑیاں پارک کرکے مطلوبہ کلینک پہنچے مجھے دعائیہ کلمات کہہ، مسکرا کر روانہ ھو گئے۔ کلینک میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا، دوا خانے سے دوائی لے کر جب میں اپنی گاڑی پارکنگ سے لینے پہنچا تو حیرت ھی حیرت، وہ صاحب اپنی گاڑی کے پاس کھڑے تھے، میں نے دریافت کیا آپ ابھی تک یہاں کیسے، کہنے لگے میں نے سوچا کیونکہ آپ اس شہر میں نئے ھیں تو ھو سکتا ھے آپ کو میری مزید ضرورت ھو! وہ مسکرا رھے تھے اور میں سونے سے بنے اس انمول انسان کی انسانیت کی خوبصورتی میں ایسا کھویا کہ شکریہ ادا کرنے کے لیے مناسب الفاظ بھی نہ مل رھے تھے بس اتنا کہا کہ اللہ آپ کو وہ بدلہ کئی گنا بڑھا کر عطا فرمائے جو آپ میں موجود بے بہا انسانیت کے بدلے آپ کو ملنا چاھیے۔
انسانوں کو بنانے والے خالق نے کیسے کیسے انمول ھیرے انسانیت کو عطا فرمائے ھیں!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shahid Ameen Samra

Read More Articles by Dr. Shahid Ameen Samra: 2 Articles with 547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Aug, 2019 Views: 231

Comments

آپ کی رائے