کاش ایسا کرتے

(Muddasir Ahmed, India)

شمالی کرناٹک،ساحلی علاقے اور ملناڈمیں اس دفعہ موسلادھار بارش آنے کی وجہ سے جو سیلاب آیا ہے،اس کی زدمیں تمام مذاہب کے لوگ آچکے ہیں۔ان متاثرین کو حکومت کی جانب سے امداد پہنچانے کا کام تو کیا جارہا ہے،لیکن حکومتی امداد سے پیاسوںکے ہونٹ بھیگ سکتے ہیںنہ کہ پوری طرح سے پیاس بجھ سکتی ہے۔ایسے میں کئی غیر سرکاری تنظیمیں و ادارے متاثرین کی مددکیلئے بھی اپنی اپنی جانب سے امدادی کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔شمالی کرناٹک اور ملناڈکے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر مسلمانوںکی بڑی تعداد سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ان متاثرین کو بھی مدد پہنچانے کیلئے مختلف تنظیمیں کام کررہی ہیں۔کچھ ادارے و تنظیمیں امدادی کا م کو پوری طرح سے بہتر بنانے کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کیلئے بھی جی توڑ محنت کررہے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ جو تنظیمیں امدادی کاموںمیں لگی ہوئی ہیں،ان تنظیموں کا ایک گروہ مالی امداد اکٹھا کرنے کیلئے مالداروںکے پاس جارہا ہے جس سےامدادی کام انجام دینے میں تاخیر ہورہی ہے۔امدادی کام کیلئے بھی جن لوگوں کے پاس تنظیمیں و ادارے جارہے ہیں وہ عام و متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں،جو اپنے استطاعت کے مطابق امداد کررہے ہیں۔مسلمانوںکی تنظیموںکی بات کی جائے تو ہمارے پاس درجنوں سماجی و فلاحی تنظیمیں موجود ہیں جو اس کام میں لگی ہوئی ہیں۔لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے پاس بیت المال کے ادارے اس قدر کمزورہیںکہ وہ ان حالات میں امدادی کاموںمیں ہاتھ بٹانے ناکام ہوجاتے ہیں۔بیت المال کا نظام آپﷺ کے دور سے شروع ہوا تھااور اُس دورمیں بیت المال اس قدر مضبوط ہوا کرتا تھا کہ اسلامی ریاستوںمیں کوئی بھوکا یا مجبور نہیں رہتا۔بیت المال ہر طرح کے لوگوںکی مدد کرتااور ان بیت المال کے اداروںکی ذمہ داری ایسے خداترس لوگوںکے ہاتھوںمیں ہوتی جو خالص رضائے الہٰی کیلئے پوری ایمانداری کے ساتھ کام کرتے۔لیکن آج ہمارے سماج میں بھی کچھ بیت المال موجود ہیں جو کچھ حد تک اپنے پاس املاک تو رکھتے ہیںلیکن اسے خرچ کرنے کیلئے ایسے ٹال مٹول کرتے ہیں جیساکہ یہ بیت المال ان کا اپناذاتی خزانہ ہو۔کچھ لوگ اس بیت المال پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھے رہتے ہیں او روہ ہرگز بھی اس مال کو خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔اسلام نے مسلمانوں کو ہربات کیلئے تعلیمات دئیے ہیںاور یہ مکمل ضابابطہ حیات ہے۔ دوراندیشی کے تحت اپنے آپ کو جانی ومالی طور پر تیا ررکھنے کیلئے بھی اسلام نے تعلیمات دئیے ہیں،اسی تعلیمات میں کہا گیا ہے کہ مسلمان اپنے بیت المال کو مضبوط رکھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حالات میں اپنے آپ کومستحکم بنا سکیں۔مگر ہمارے یہاں صرف رمضان کے فطرے اور بقرعید کے چمڑوں پر بیت المال ٹکا ہوا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ پورے شہرکیلئے ایک بیت المال ہو،بلکہ ہر محلے و ہرعلاقے کیلئے بھی بیت المال قائم کیا جاسکتا ہے۔آج سیلاب کے حالات میں جس طرح سے ڈبے وچادریں لیکر چندہ وصول کرنے کیلئے ہم پابند ہوچکے ہیں وہی پابندی ہرہفتے جمعہ کی نماز کے بعد انجام دینے لگیں گے تو یقینی طور پر مسلمانوںکے بیت المال مالی طور پر مضبوط ہوجائینگے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑیگا،اس کیلئے مسلمانوںکو چاہیے کہ اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا اور ہر مسلمانوں کو اپنے اپنے علاقوںمیں بیت المال کو مضبوط کرنا ہوگا۔لیکن شرط یہ ہے کہ ان بیت المالوںکی ذمہ داری ایماندار افراد اٹھائیں۔کرناٹک کا بھٹکل شہرچھوٹا ضرورہے لیکن یہاں جس طرح سےانجمن حامی مسلمین کے ذریعے سے منظم طریقے سے فلاحی و امدادی کام کیا جاتا ہے وہ دوسرے شہروںکیلئے مثال ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس شہرکی انجمن کے پاس ہر سال بیت المال کیلئے1 کروڑ جمع کئے جاتے ہیں اور اس رقم میں سال بھر ضرورت مندوںکی امداد کی جاتی ہے اور یہ بیت المال خالص مخیر حضرات کی نگرانی میں چلتا ہے۔یہاں صرف سیلاب اور بارش سے متاثرہونے کیلئے مددنہیں کی جاتی بلکہ مستحق غرباء،مریض اور مقروضوںکی مدد بھی کی جاتی ہے اور اللہ نے اس مال میں اس قدر برکت دی ہے کہ ان سب کاموں کو انجام دینے کے باوجود یہ رقم دوسرےعلاقوں میں بھی پہنچائی جاتی ہے۔جب ایک چھوٹے سےشہرکی انجمن اتنا بڑا کام کرسکتی ہے تو بڑے بڑے شہروںمیں ایسے کام کیوں نہیں کئے جاتے؟کیا مالداروں کامال صرف تجوریوںمیں محفوظ رکھنے کیلئے ہے؟۔کچھ مالدار ایسے ہیں جو قوم وملت کی فلاح و بہبودی کیلئے اپنی جانب سے تعاون کیلئے آگے آتے ہیں،لیکن ایماندار ومخلص ادارے نہ ہونے کی وجہ سے ہو خاموش ہوجاتے ہیں اور اپنی پہنچ کے مطابق فلاحی کام انجام دینے کیلئے آگے آتے ہیں۔آج قوم کے پاس ایسے ایماندار بیت المال ہوں تو مسلم عورتیں نہ سنگھا (مائکروفائنانس) کارُخ کرینگی اور نہ ہی قدرتی آفات کے موقع پر مندروں ومٹھوں کے دروزاوں پر قطاریں بنا کر کھڑی رہیں گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 186 Articles with 56029 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2019 Views: 193

Comments

آپ کی رائے